پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی، چیف جسٹس

پارلیمنٹ بنیادی حقوق سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی، چیف جسٹس

ویب ڈیسک:وضاحت دینے کا پابند نہیں، کیا سوال پوچھنا اراکین اسمبلی کی تضحیک ہے؟چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں میڈیا کمیشن کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کل پیغام دیا گیا کہ عدالت قانون سازی میں مداخلت نہیں کر سکتی، میں نے بار بار کہا پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے لیکن پارلیمنٹ کے اوپر بھی ایک چیز ہے وہ آئین ہے، پارلیمنٹ آئین سے متصادم قانون نہیں بنا سکتی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک کیس میں ہم نے ریمارکس نہیں دیئے کچھ سوالات پوچھے، صرف پوچھا کہ فلاں شخص اہل ہے یا نہیں، مقدمات میں سوالات اٹھتے ہیں، کیا سوالات پوچھ کر ہم نے پارلیمنٹیرینز کی توہین کردی ہے؟، ٹھیک ہے اب سوال نہیں پوچھیں گے ، ہم فیصلے کے وقت آپس میں پوچھیں گے کیس میں کیا ہوا، میں وضاحت دے کراپنی کمزوری نہیں بنانا چاہتا۔ ہمیں انتظامیہ کے عمل اور بنیادی حقوق کو دیکھنا ہے،عدالت قانون سازی کے جائزے کا اختیار رکھتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت کو نیک نیتی سے استعمال کریں گے۔

متعلقہ خبریں