Daily Mashriq

احتساب سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں

احتساب سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں

خیبرپختونخوا پی سی ایس آفیسرز ایسوسی ایشن کے سال دوسال کے دوران کی سرگرمیوں بیانات انٹرویوز اور مطالبات کا جائزہ لینے کے بعد مناسب یہی نظر آتا ہے کہ اس تنظیم کو بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ پی سی ایس آفیسر ز ایسوسی ایشن کی سرگرمیاں کسی سیاسی جماعت ہی کی طرح ہوگئی ہیں۔ان کے مطالبات اور دیگر کیڈر کے اعلیٰ افسران سے شکایات وغیرہ اس مرحلے کوپہنچ چکے ہیں کہ خود اس کی قیادت اس امر کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے کہ آیا ہر معاملے میں کود پڑنا سرکاری افسران کے ضابطہ اخلاق اور سرکاری امور نمٹانے کے آداب کے منافی تو نہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اتنی ساری دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے سرکاری فرائض کی انجام دہی احسن طریقہ سے ممکن ہے۔ ہم اس سوال کا جواب خود انہی سے کرتے ہوئے احتساب کی توقع رکھتے ہیں ۔سرکاری افسران کی تنظیم کا وزیراعظم کو ایک ایسے معاملے میں خط تحریر کرنا جس کا براہ راست تعلق احتساب سے ہو ابھی صوبے کے ایک ہی سرکاری عہدیدار کے خلاف تحقیقات پر احتساب کے قوانین میں تبدیلی کے مطالبات ہورہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس قسم کا مطالبہ پنجاب میں سامنے کیوں نہیں آیاجہاں اعلیٰ سرکاری افسران اور اساتذہ ہی نہیں سیاستدان اور پنجاب کا بینہ کے سینئر صوبائی وزیر گرفتار ہیں۔ پنجاب میں سینئر صوبائی وزیر کی گرفتاری پر تحریک انصاف کی قیادت معترض نہ ہوئی لیکن جب صوبے میں ایک محکمے کے افسرپر ہاتھ ڈالا گیا تو مرکزی اور صوبائی حکومت کی اعلیٰ شخصیات نے واضح ردعمل دیا جس سے احتساب کے عمل پر ان کے یقین اور ٹھوس موقف بارے شکوک وشبہات پیدا ہونا فطری امر ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب کے عمل میں اصلاحات لانے کی تجاویز دینا سرکاری افسران کی انجمن کا کام نہیں اس کا جائزہ لینا حکومت اور ایوان کاکام ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ زیر حراست سابق وزیراعظم اور سال ڈیڑھ سال سے مقدمات کا سامنا کرنے والی جماعت اور اس کے منتخب نمائندوں کو تو نیب اصلاحات کی فکر نہیں ایک اور بڑی سیاسی جماعت نیب کے مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ اسے بھی نیب کی اصلاح کی زیادہ فکر نہیںمگر صوبے کی بیوروکریسی کو اس کی فکر لاحق ہوگئی ہے ۔ پی سی ایس آفیسرز ایسوسی ایشن احتساب سے خوفزدہ کیوں ہے اور وہ چور کی داڑھی میں تنکا والا معاملہ کیوں اپنا رہی ہے اس پر اس کی قیادت کو غور کر نے کی ضرورت ہے۔انجمن کی جانب سے وزیراعظم سے مطالبات میں نیب کے جس طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تجاویز دی گئی ہیں یہ صرف سرکاری افسران ہی بارے نیب کا طریقہ کار اور رویہ نہیںبلکہ ہر گرفتار شدہ کے ساتھ ایسا ہوتا آیا ہے۔ بنا بریں یہ نیب کا سرکاری افسران سے کوئی امتیازی رویہ نہیں ۔ ٹرائل کے دوران عدم گرفتاری اور میڈیا ٹرائل سے گریز صرف سرکاری افسروں ہی کا نہیں ہونا چاہیئے بلکہ سبھی کے ساتھ یکساں رویہ اور سلوک کی ضرورت ہے ۔ ان کی یہ تجویز سب سے زیادہ مضحکہ خیز ہے کہ نیب صوبے میںوفاقی افسران کے خلاف کرپشن کیسوں میں کارروائی کرے جبکہ صوبائی افسران کے خلاف صوبائی اداروں کو کارروائیاں کرنے کا اختیار دیا جائے۔ قومی احتساب بیورو وفاقی افسران کا تو احتساب کرے مگر صوبے کے بزرجمہروں کو نہ چھیڑے کیوں؟ دوم یہ کہ صوبے میں صوبائی احتساب کمیشن کے خاتمے کے بعد احتساب کا کوئی ادارہ ہے اور انسداد رشوت وبدعنوانی کے محکمے کی کارکردگی کیا رہی ہے۔بہر حال بہت سارے سوالات اور بھی اٹھانے کی گنجائش ہے جس کی فی الوقت ضرورت نہیں ۔ نیب ایک خودمختار ادارہ ہے جس کے حق احتساب کو سلب اور محدود کرنے کی توحمایت نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی سرکاری افسروں کو چھوٹ اور رعایت ملنی چاہیئے بلکہ اگر دیکھا جائے تو نیب کو اپنی کارروائیوں کی ابتداء ہی سرکاری افسران کے خلاف تحقیقات اور کارروائیوں سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وزراء اور حکمرانوں کے خلاف ثبوت اور شواہد میسر آئیں۔ حکمران اس وقت تک بدعنوانی کا ارتکاب کرہی نہیں سکتے جب تک ان کو بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین میں سہولت کار میسر نہ آئیں۔ جہاں جہاں اور جن جن محکموں میں بھی بد عنوانیاں سامنے آئیں گی ان کا سراغ سرکاری ملازمین اور افسران ہی کے پاس دستاویزات شواہد اور معلومات کی صورت میںدستیاب ہوں گے کڑے احتساب کے تقاضے پورے کرنے میں کسی سے کوئی رو رعایت نہ رکھی جائے البتہ نیب کو چاہیئے کہ وہ بڑھتے اعتراضات اور کھوداپہاڑ نکلا چوہاکے مصداق سامنے آنے والی شرمندگیوں کے پیش نظر اپنے طریقہ کار میں اصلاح اور احتیاط سے ضرور کام لے تاکہ بعد میں نہ تو جگ ہنسائی کی نوبت آئے اور نہ ہی کسی بیگناہ شخص کی خواہ مخواہ مٹی پلید ہو۔صوبے کے سرکاری افسران کو احتساب سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں جن کے دامن صاف ہوں اور سرکاری دستاویزات کی روشنی میں ان پر کوئی الزام نہ لگ سکتا ہو اگران کے خلاف تحقیقات کسی وجہ سے ہو بھی جائیں تو دوران تحقیقات وہ کلیئر ہو سکتے ہیں بصورت دیگر عدالت سے ان کی بیگناہی یقینی ہوگی۔

متعلقہ خبریں