Daily Mashriq

پراسرار واقعات کا مئوثر تدارک کیاجائے

پراسرار واقعات کا مئوثر تدارک کیاجائے

قبائلی اضلاع خاص طور پر میران شاہ کی حساسیت میں طویل عرصے سے غیر یقینی اور سخت خطرے کی صورتحال سے نکلنے کے باوجود ابھی کمی نہیں آئی جس کی وجہ سے ان علاقوں میں کہیں بھی کوئی واقعہ رونما ہو جائے تو کان کھڑے ہونا فطری امر ہے ۔ قبائلی اضلاع میں مخصوص عناصر کے کارندے ہر وقت اس امر کے متلاشی رہتے ہیں کہ ان کو کوئی ایسا موضوع ہاتھ آجائے جسے وہ اچھال سکیں۔سوشل میڈیا پر ان کا پروپیگنڈہ سب کے سامنے ہے لیکن بعض اوقات اس قسم کی صورتحال سامنے آجاتی ہے کہ اس پر تشویش کا اظہار ایک عمومی ضرورت بن جاتی ہے۔ قبائلی اضلاع اور خاص طور پر شمالی و جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی جانب سے لوگوں کو پر اسرار اور سخت اذیت ناک طورپر مار دیئے جانے کے بڑھتے واقعات حکومتی اداروں اور عوام سبھی کیلئے پریشان کن اور باعث تشویش امر ہونا فطری امر ہے ۔ اس قسم کے پر اسرار واقعات پرشکوک وشبہات پیدا ہونا جہاں از خود فطری امر ہے وہاں اس قسم کے واقعات کو ایک خاص تناظر دینے اور اچھالنے کو سوائے اس کے روکنے کا کوئی طریقہ اور حل نہیں کہ ان واقعات کا مکمل تدارک کیا جائے اور اس قسم کے واقعات میں ملوث عناصر کا فوری کھوج لگا کر ان کو عوام کے سامنے بے نقاب کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ تازہ ترین واقعہ میں نامعلوم افراد کی طرف سے باپ بیٹے کو گھر سے لیجا کربیدردی سے ذبح کرنے کا المناک واقعہ علاقے کے امن وامان اور امن وامان برقرار رکھنے والے اداروں سبھی کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے حالات میں جب پرندہ پر نہ مارسکے اس قسم کی واردات کا ہونا اور اس قسم کے بار بار کے پر اسرار واقعات اور اس کے ذمہ دار عناصر کا کوئی سراغ نہ ملنا کوئی معمولی واقعہ نہیں اور نہ ہی اس قسم کی خونریزی پر علاقے کے عوام کی جانب سے احتجاج اور تحفظ کامطالبہ کوئی ناجائز امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات سے علاقے میں ایسے عناصر کی موجودگی اور ان کی جانب سے بلاخوف قتل وغارت گری اس طویل جدوجہد اور آپریشنز در آپریشنز کے مئوثر ہونے بارے بھی سوالیہ نشان ہیں جبکہ علاقے میں سیکورٹی کے مئوثر انتظامات پر بھی ان واقعات کے باعث سوال اٹھنا فطری امر ہے۔ جس پر حکام کو توجہ دینی چاہیئے اور اس قسم کی وارداتوں کا تدارک یقینی بنا کر عوام کو تحفظ کا احساس دلانے پر پوری توجہ دینی چاہیئے۔

قبرستان مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت

قبر ستان بچا ؤ تحر یک کی جانب سے وقف اور تا ر یخی قبر ستان میں سر کا ری سرپر ستی میں قبضہ ما فیا کی کا رروا ئیوں کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ قانون کا احترام کرنے والے شہریوں کا وہ حتمی اقدام ہے جس کا مظاہرہ وہ بار بار کرتے آئے ہیں لیکن حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ مظاہرین کے قائدین کے مطابق پشاور ہا ئی کورٹ کی جانب سے سو مو ٹو ایکشن میں قبر ستا نوں میںہر قسم کی تعمیرات کو غیر قانونی اور غیر شرعی قرار دے کر مسما ر کر نے کے حکم پر عملدرآمد کی صورتحال سے نہ صرف وہ مطمئن نہیں بلکہ انہوں نے الزام لگایا کہ ڈپٹی کمشنر نے با اثر افراد کو اراضی پر چار دیواری بنانے کی اجازت دے کر توہین عدالت کا ارتکاب کیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مقامی افراد نے چا ر دیواری کو زبردستی مسمار کر دیا ہے جس کے رد عمل میں تحریک کی قیا دت کو پولیس کے ذر یعے ہراسا ں کیا جا ر ہا ہے ۔انہوں نے وزیر اعلیٰ محمود خان اور چیف جسٹس پشاور ہا ئی کورٹ سے مطا لبہ کیا ہے کہ قبرستانوں کے تحفظ اور حر مت کی بحا لی کیلئے فوری اور مو ثر اقداما ت اٹھا ئے جا ئیں ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مظاہرین کے قائدین کے انتظامیہ پر الزام میں حقیقت ہو یا نہ ہو اس سے قطع نظر جس مسئلے پر وہ احتجاج کر رہے ہیں اس میں وہ حق بجانب ہیں جس کا عدالت نے ازخود نوٹس لیکر شنوائی بھی کی اور حکام کو احکامات بھی دیئے جس پر من وعن عملدرآمد ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد ہوتا تووہ ایک مرتبہ پھر احتجاج پر مجبور نہ ہوتے ۔ صورتحال کی وضاحت عدالت عالیہ کی طلبی کی صورت میں ہی حقیقی صورتحال سامنے آسکتی ہے یا پھر وزیراعلیٰ ان کے مطالبات کا نوٹس لیکر تحقیقات کروائیں جس کے بعد ذمہ داری کا تعین کرکے جزاو سزا کی نوبت آسکتی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محولہ تضادات اور صورتحال سے قطع نظر اس بارے کوئی شبہ نہیں کہ صوبائی دارالحکومت کے قبرستان قبضہ مافیا کی زد میں ہیں جن سے قبرستانوں کو محفوظ بنانا اور قبضہ چھرانے کیلئے سنجیدہ اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے ۔

متعلقہ خبریں