Daily Mashriq

اک ذرا احتیاط

اک ذرا احتیاط

نقطہ نظر ایک کمال چیز ہے ۔ کسی بھی شئے یا خیال کے حوالے سے اپنی فہم کو درست سمجھتے ہوئے منطق کی علم تھمانے کو ہی شاید نقطہ نظر کہا جاتا ہے ۔ نقطہ نظر کا لبادہ دراصل ہمیں اس آزادی کی اجازت دیتا ہے کہ ہم کس خیال کی بنیاد کو اپنے لیے درست سمجھیں ، منطق کی لاٹھی توتھمائیں لیکن اگر اس کی چال میں کوئی لنگراہٹ ہو تو بھی اس کو اپنائیت کی انفرادیت سے تھام لیں اور ذرہ برابر نہ گھبرائیں۔ یہ نقطہ نظر کی عینک پہننے والے کے لیے ، ہر ایک عبارت ، ہر ایک منظر کو ایک مخصوص رنگ دے دیتی ہے۔ سمجھ ہی نہیں آتا، کیا درست ہے ، کیا درست نہیں ہے۔ چونکہ نظر کا چابک معاملات کو ایک سمت میں دوڑائے جاتا ہے تو فہم کئی بارپیچھے رہ جاتا ہے۔سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے حوالے سے سب سے اہم شئے یہ نقطہ نظر ہی ہے ۔ ایک طبقہ فکر ہے جس کا خیال ہے کہ یہ دورہ پاکستان کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ نہ صرف ملک میں سرمایہ کاری کی فضا پیدا ہوگی بلکہ اس دورے نے دنیا بھر میں ایک پیغام دیا ہے۔ پاکستان کے حالات بدل رہے ہیں سعودی عرب کا پاکستان کی جانب یہ واضح جھکائو پاکستان کے لیے ایک مثبت علامت ہے ۔ پاکستان نہ صرف امریکہ کی امداد سے فاصلہ بڑھا رہا ہے بلکہ اپنے ایسے دوستوں کے باعث آئی ایم ایف اور اپنے ہی دوسرے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ کو جنم دے رہا ہے ۔ یہ وہ ادارے ہیں جو امریکہ کے لیے معیشتی قاتلوں (Economic Hitman)کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ وہ پسماندہ ممالک جنہیں ایک وقت میں تیسری دنیا کے ممالک کہا جاتا تھا ، انہیں معیشتی قاتلوں کے اقدامات کے باعث ترقی کی امید کے گرداب میں مسلسل جکڑے رہتے ہیں ۔ ان معیشتی قاتلوں کا کام ہی ان کی معیشتوں کوکبھی بھی منزل کے قریب نہ پھٹکنے دینا ہے ۔ وہ خواب بیچتے ہیں لیکن ان خوابوں کانشہ کبھی ان ملکوں کو حقیقت دیکھنے ہی نہیں دیتا۔ اس طبقہ فکر کا خیال ہے کہ پاکستان جیسے جیسے اپنے لیے درست فیصلے کرے گا ، خواہ وہ فیصلے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں پاکستان میں بہتری کے امکان روشن سے روشن ترین ہوتے چلے جائیںگے ۔ اور ایک دن ایسا آئے گا جب ہم پاکستانی ہونے میں فخر محسوس کرینگے۔ اس طبقہ فکر نے سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کو انتہائی خوش آئند بھی قرار دیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے ۔ بہر حال پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں یہ دورہ ایک نئے دور کی بنیاد بنے گا۔ 1974میں پہلی اسلامی سربراہی کونسل کے اجلاس میں جناب شاہ فیصل کے دورہ پاکستان کے بعد سعودی ولی عہد کا یہ دوسرا بہت اہم دورہ پاکستان ہے ۔ سفارتی اعتبار سے بھی اس دورہ کے اثرات بہت دوررس ثابت ہونے والے ہیں ۔ ایک ایسے دور میں جب سعودی عرب بھی تبدیلی کی جانب گامزن ہے ۔ اور یہ تبدیلی محمد بن سلمان کے خیالات اور حکومتی طریق وحکمت عملی کی مرہون منت تصور کی جاتی ہے ، پاکستان سے ایسی گرمجوشی اور محبت کا اظہار ایک نئے دور کا بیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس حوالے سے ایک دوسرا نقطہ نظر بھی ہے ۔ وہ نقطہ نظر جس کے مالک لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اس حکومت کی پالیسیوں کے باعث محض ایک بھکاری کے طور پر اقوام عالم کے سامنے آرہا ہے ۔ پاکستانی حکومت آئی ایم ایف سے بھیک نہیں چاہتی لیکن مسلسل کبھی متحدہ عرب امارات کبھی سعودی عرب ، کبھی چین کے سامنے دامن پھیلائے کھڑی نظر آتی ہے ۔ وہ آئی ایم ایف سے چھٹکارا چاہتے ہیں لیکن پاکستان چینی کالونی کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرے یا سعودی کالونی کے طور پر انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ۔ وہ محض اپنے کہے لفظوں کو نبھانا چاہتے ہیں اس سب کا دلیل اور منطق سے کوئی تعلق نہیں ۔ بات پھر وہی نقطہ نظر کی ہے اور افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے ملک میں نقطہ نظر کو تشکیل دیئے جانے کی بنیاد کبھی بھی علم یا تحقیق نہیں ہوتی ۔ کبھی ذاتی پسند نا پسند ہوتا ہے ، کبھی عناد ، کبھی بغض اور کبھی بس مخالفت برائے مخالفت ۔ ہمارے نقطہ نظر کی تشکیل میں مثبت پہلوہمیشہ عنقاء ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے لہجوں میں کئی بار تو ہمیں خود بھی کوئی سچائی محسوس نہیں ہوتی ۔ وقت گزرتا جاتا ہے ۔ ہم اپنے اپنے موقف سچ ثابت کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں اور وقت گزر جاتا ہے ۔ لہجوں کا خالی پن ،مئوقف کو جھوٹ کا رنگ دے دیتا ہے ۔ ہر نیا آنے والا ، جانے والے کو مجرم ثابت کرتا ہے ۔ اس کی باتوں کو غلط سمجھتا ہے اور پاکستان اس سب کشمکش میں رہ جاتا ہے ۔

پاکستان کے لیے ہم جس تبدیلی کے خواہشمند ہیں ، وہ تبدیلی اس رویے میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ نوازشریف ، شہباز شریف ، سعد رفیق ، سلمان رفیق، حنیف عباسی ، مشاہداللہ ، رانا ثناء اللہ ، آصف زرداری، فریال تالپور، یوسف رضا گیلانی یہ سب نام ہیں اس قوم کی نااہلی اور جہل دوستی کی مجسم صورتیں ہیں۔ تبدیلی اتنی ہی درکار ہے کہ اب کے بعد جب لوگ بات کریں تو تحقیق کریں اور مثبت رویے اختیار کریں۔ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان ویسا ہوگا جیسا ہم اسے بنائیں گے ۔ اگر ہم اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کریں جیسا اس سے پہلے ہم سی پیک کے ساتھ کرچکے ہیں کہ چینی کمپنیاںپاکستان میں آئیں اور فیصلہ کرنے والے ذاتی مفادات کے کٹورے بھرتے رہے ، احسن اقبال سے سوال کیا جائے کہ آخران فیصلوں کے پیچھے کونسی تحقیق ہے تو وہ ناراض ہوجائے تو سعودی ولی عہد کا یہ دورہ بھی پاکستان کے لیے ناکام ہوگا کیونکہ اس میں پاکستان کی بھلائی نہ ہوگی ۔ حضرت علیؓ نے والئی مصر مالک اشتر کے نام جو خط لکھا تھا اس میں نصیحت کی کہ ان کی حکومت میں وہ سرکاری افسران شامل ہوں جو تمہارے حق میں جو معاہدہ کریں اس میں کوئی خامی نہ رہنے دیں بس ایک اسی بات کو مد نظر رکھ لیں تو دورہ ولی عہد سعودی عرب کامیاب ہے ورنہ سب ناکام ہے ۔ یہ نقطہ نظر تبھی درست ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو سب غلط ہے بالکل غلط۔

متعلقہ خبریں