Daily Mashriq

راہوںمیں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا

راہوںمیں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم کیا ہیں؟قوم ، گروہ یا کچھ اور ، بلکہ ہم تو ریوڑ بھی نہیں ہیں، حالانکہ اکثر تجزیہ کار جمہوریت کے حوالے سے عوام کو کالا نعام یعنی جانوروں سے تشبیہہ دیتے ہوئے انہیں لیڈروں کی جانب سے ایک ریوڑ کے طور پر ہانکے جانے کی بات ضرور کرتے ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ ہم جانوروںکے ریوڑ کی مانند بھی نہیں ہیں کیونکہ ریوڑ بھی کسی قائدے کلئے کے تحت اپنے مالک کے اشاروں پر ایک ہی سمت میں چلتا ہے جبکہ ہم تو ہ ہجوم ہیں جو افراتفری کا شکار ہو ۔ آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج میں کیا فضول بحث لیکربیٹھ گیا ہوں ۔ مگر کیا کیجئے کہ کبھی کبھی اپنی حالت پر فکر کرنے کا موقع ملتا ہے تو ان کمزوریوں کا پتہ چلتا ہے جن کی وجہ سے ہم ریوڑ تک نہ بن سکے اور اس کا کارن اندرون ملک سیاسی حالات سے زیادہ بیرونی ممالک میں پاکستانیوں کا اختیار کردہ وتیرہ ہے ۔ خاص طور پر جب میں پاکستان اور بھارت کے پاکستانی اور ہندوستانی تارکین وطن کے بارے میں سوچتا ہوں ، ان کا جائزہ لیتا ہوں تو دکھ اور افسوس کے سوا اور کچھ نہیں سوجھتا، اور انتہائی معذرت کے ساتھ کہنے دیجئے کہ ہمارے مقابلے میں بھارتی کہیں زیادہ سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں ۔ میتھیو آرنلڈنے کہا تھا’’ہم یہاں اندھیرے میں اس میدان میں بھٹک رہے ہیں کہ جہاں پیش قدمی اور مراجعت کے سمجھ میں نہ آنے والے نعروں کے شور وغل میں نا سمجھ قوتیں بر سرپیکار ہیں‘‘۔ اب ان حالات اور ہم پاکستانیوں کے رویئے پر نظر ڈالئے توہم دنیا بھر میںجہاں جہاں مقیم ہیں وہاں وہاں ہم نے اپنی اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ انچ کی مسجدیں قائم کر رکھی ہیںہر اس ملک میں جہاں پاکستانی ملازمتوں یا کاروبار وغیرہ کیلئے مقیم ہیں وہاں ملک کی ہرسیاسی جماعت کے کارکن اسی طرح اپنے اختلافات کا شکار رہتے ہیں جیسے کہ ملک کے اندر ہیں۔کہیں لیگی منڈیاں سجی ہیں کہیں جیالوں کی ٹولیاں اپنا راگ الاپتی رہتی ہیں کہیں انصافی رقص کناں رہتے ہیں ،کہیں پختونوں کی مختلف ٹولیاں اپنے حجرے سجائے نظر آتی ہیں کہیں بلوچوں کے نعرے لگ رہے ہوتے ہیں، اور کہیں سرائیکی ، سندھی سرگرم رہتے ہیں جبکہ مہاجروں کے مفادات پر سیاست کرنے والوں کی تو بات ہی رہنے دیں، غرض جس طرح ملک کے اندر ہم تقسیم درتقسیم کے صحرائوں میں بھٹک رہے ہیں بیرون ملک بھی ایسی ہی صورتحال کا ہمیں سامنا رہتا ہے ۔ ہم نہ اپنے وطن میں کسی مسئلے پر متفق ہوسکتے ہیں نہ باہرکے ممالک میں اپنے اختلافات بھلا کر صرف پاکستانی بننے کو تیار ہیں، جبکہ ہمارے مقابلے میں بھارتی اپنے قومی مفادات کیلئے ہمیشہ ایک مٹھی ہو جاتے ہیں،جہاں بھارت کا مفاد ہو وہاں نہ یہ کانگریس کو پہچانتے ہیں نہ بی جے پی کو ، نہ سماج وادی پارٹی کو نہ کسی اور سیاسی ٹولے کو، یہ یک زبان ہو کر پاکستان کے خلاف دنیا کو ورغلانے بلکہ اکسانے میں لگ جاتے ہیں ماسوائے ایک کمیونٹی یعنی سکھ برادری کے جو بھارتی مہا سبھائی ذہنیت سے پوری طرح باخبر ہیں اور چونکہ جب بھی بھارتی ہندوئوں خاص طور پر آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کوموقع ملتا ہے وہ بھارتی سکھوں کو بھی نہیں بخشتے جیسا کہ تازہ ترین صورتحالمیں نوجوت سنگھ سدھو کے تازہ موقف پر بھارتی انتہاپسندوں نے پلوامہ واقعے پر ان کے بیانئے کا ساتھ نہ دینے پر انہیں دھمکیاں دینی شروع کردی ہیں بلکہ انہیں کپل شرما شو سے بھی باہر نکال دیا ہے ، اس لئے بھارتی سکھ اپنی کمیونٹی کے دکھوں کی وجہ سے بعض مواقع پر مہاسبھائی بیانئے کے برعکس رویہ اختیار ضرور کرلیتے ہیں تاہم اس کے باوجود جب بھارتی مفادات کی بات ہو تو وہ بھی اپنی حمایت بھارت ہی کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں جو بحیثیت بھارت کے شہری قابل تعریف ہی قرار دینا چاہیے ۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہم اپنے ازلی دشمن بھارت کے ان باشندوں سے بھی سبق حاصل نہیں کرتے اور بیرون ملک بھی اپنے فروعی اختلافات کا بری طرح شکار رہتے ہیں۔وجوہات پر غور کیا جائے تو ادا جعفری کا یہ شعر ضرور یاد آتا ہے ۔

راہوں میں کوئی آبلہ پا اب نہیں ملتا

رستے میں مگر قافلہ سالار بہت ہیں

ہماری سیاسی قیادت جس طرح ملک کے اندر کبھی کسی بات پر متفق نہیں ہوسکی، اسی طرح وہ اپنے ماننے والوں کو بیرون ملک بھی قومی مفادات کے منافی رویئے اختیار کر نے سے باز رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکی، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لوگ سیاست کے غلیظ اور گندے کپڑے خود ہی چوراہوں کے دھونے میں مصروف رہتے ہیں ،ایک دوسرے کو بے لباس کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں ،ہمارا کوئی سربراہ حکومت بھی باہر جائے تو وہاں پوری پاکستانی کمیونٹی شاذونادرہی اسے سننے کیلئے گروہی اختلافات ختم کرکے تیار رہتے ہیں۔ اس لئے باہر کے ممالک میں صرف اس سربراہ حکومت کی جماعت کے لوگ ہی ایسی تقریبات میں شرکت پر تیار ہوجاتے ہیں اور اکثر تو مخالف سیاسی گروہ اس کے خلا ف بینرزاور پلے کارڈ لیکر احتجاج کرتے ہیں جس سے بیرون ملک ہمارا کیا امیج بنتا ہے اس پر کسی تبصرے کی گنجائش ہی نہیں ہے ۔ یہی وہ وجوہات تھیں جن کی وجہ سے میرے ذہن میں وہ سوال ابھرے جن کا تذکرہ کالم کے آغاز میں کیا ہے ۔

قوی شدیم چہ شد ناتواں شدیم چہ شد

’’چنیں‘‘ شدیم چہ شد یا’’چناں‘‘ شدیم چہ شد

بہ ہیچ گو نہ قرارے دریں گلستان نیست

توگر’’بہار‘‘ شدی ما’’خزاں‘‘شدیم چہ شد

متعلقہ خبریں