Daily Mashriq

تین باتیں

تین باتیں

بھاگ لگے رہیں،عربی مہمان آئے اور اربوں لائے۔ معاہدوں اور ایم او یو میں فرق جان کر جیو دوست ممالک سے موثر اور کار آمد تعلقات کے لیے ہو ممکن کوشش ہوتے رہنی چاہیے ۔ انسا ن ہو ریاست دوست بنائے ہی باہمی مفادات پر ہیں اور دوستی نبھتی ہے اخلاص عملیت پسندی اور مساوی تعلقوں سے۔ مہمان برکت بھی ہوتے ہیں اور رونق بھی دوستی اس وقت تک رہتی ہے جب تک کہ زحمت اور مسائل پیدا نہ ہوں۔اطلاعات یہ ہیں کہ سعودی عرب 5سالوں کے دوران21ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ فیاض الحسن چوہان چونکہ آجکل جادو کے اثر میں ہیں اس لیئے وہ21کو 26کہہ گئے۔ کوئی بات نہیں بڑی خوشیوں میں چھوٹی موٹی غلطی ہو ہی جاتی ہے ۔ دو تین لطیفے اور ایک بدمزگی بھی ہوئی جانے دیجئے اگر آدمی کو بھوک لگی ہو اور طعام سامنے دھرا ہو تو طبیعت وہاتھ دونوں پر کنٹرول نہیں رہتا۔ سعودی مہمان واپس وطن تشریف لے گئے اپنے وطن سے اب وہ دورہ بھارت پر جائیں گے۔ تجارت کے شعبہ میں برطانیہ کے بعد بھارت ،سعودی عرب کا دوسرا بڑا حصہ دار ہے۔ رفیق مائنٹ کی رپورٹ کے مطابق 32لاکھ سے زیادہ بھارتی شہری سعودی عرب میں خدمات سرانجام دیتے ہیں ان کا مجموعی زرمبادلہ میں32فیصد حصہ ہے ۔ آئل ریفائنری کے لئے بھارت سے 44ارب ڈالر کا معاہدہ ہے ۔ 322سعودی کمپنیوں میں بھارتی سرمایہ کارشراکت دار ہیں یا مالک ۔ہم بھی نادان ہیں جو چند کلیوں پر قناعت کر گئے ۔ تعلقات کے نئے دور کا آغاز اچھا ہے امید اچھی رکھنی چاہیئے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ابتری سے بھی آگے کی ہے ۔ پلوامہ دھماکے کے بعد وادی میں موجود بھارتی افواج نے پچھلے 3دنوں کے دوران32کشمیریوں کو شہید اور درجنوں کو زخمی کردیا ہے جبکہ 5سو سے زیادہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ مودی کہتے ہیں مذاکرات کا وقت ختم اب کارروائی کا وقت آگیا۔ ارے تو کیا پہلے بھارتی فوج کشمیریوں کو پھول پیش کرتی رہی؟ پلوامہ خودکش حملے پر جلد بازی میں اپنائے گئے بھارتی موقف سے مودی مافیا کو انتخابی سیاست میں تو شاید فائدہ ہو لیکن اطلاعاتی اور سفارتی محاذ پر اسے جو سُبکیاں ملی ہیں وہ الگ داستان ہے۔ سوموار کو بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ پلوامہ حملہ کے ماسٹر مائنڈ کو ساتھی سمیت ہلاک کردیا گیا ہے ۔ اچھاتو وہ جن جن کی تصاویر ماسٹر مائنڈز کے طور پر پھیلائی گئیں اُن کا کیا ہوگا۔ ان میں سے ایک عبدالرشیدغازی تو برسوں سے راجن پور کے ایک قبرستان میں دفن ہیں۔ کشمیر کی ابتر صورتحال پر پرانے راگ الاپتے بھارت کو کبھی ٹھنڈے دل کے ساتھ کشمیری عوام پر توڑے گئے مظالم کا حساب بھی یاد کرلینا چاہیئے۔ ایٹمی طاقت کے خوف کا عالم یہ ہے کہ شہیدمقبول بٹ کی آخری آرام گاہ تہاڑ سنٹرل جیل دہلی کے اندر ہے ۔ بھارتی جانتے ہیں کہ اگر شہید مقبول بٹ کی قبر مقبوضہ کشمیر کے اندر ہوتی تو وہ آزادی کے متوالوں کا مرکز بن جاتی۔ صاف سادہ بات یہ ہے کہ الزام تراشی اور بین ڈالنے سے زیادہ بہتر یہ ہے کشمیریوں کی بات سنی جائے ۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق حق خود ارادیت سے زیادہ اہم کشمیری عوام کی خواہشات ہیں۔ دنیا کی دوسری قوموں کی طرح کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیئے۔ قبضہ گیری طاقت کے بل بوتے پر وحدت قرار نہیں پاتی ۔انتخابی سیاست کے لیے سازشوں اور الزامات کی بجائے حقیقت پسند ی کا مظاہرہ خود بھارت کے لیے مناسب ہے ۔ آزادی کشمیر یوں کا بنیادی حق ہے آزادی پسند سر پر کفن باندھ لیں تو ان کی منزل کھوٹی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ خون بہانے اور لاشیں گرانے سے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ بھارتی سرکار کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرے۔ تیسری بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو نے چند دن قبل امریکہ اور سوموار کو برطانیہ میں پاکستان کے موجودہ نظام اور وزیراعظم کے حوالے سے کیئے گئے سوالات کے جواب میں پرسکون انداز میں کہا’’داخلی سیاست اور سیاسی مخالفین کے بارے میں بیرون ملک بات کرنا مناسب نہیں سمجھتا اس کے لیے پاکستان کا سیاسی میدان موجود ہے ‘‘نوجوان سیاستدان نے یہ موقف پہلی بار نہیں اپنایا قبل ازیں بھی وہ غیر ملکی دوروں کے دوران یہ کہہ چکے ہیں کہ داخلی سیاست پر گفتگو پاکستان کے اندر ہی ہوسکتی ہے ۔ یہ مثبت انداز فکر ہے ان تجربہ کار اور من رسیدہ سیاستدانوں کو سبق سیکھنا چاہیے جو بیرون ملک دوروں کے دوران بے لگام گفتگوئوں کو سیاسی معراج سمجھتے ہیں ۔ پاکستانی سیاست میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت سے پیدا ہوتے مسائل کسی سے مخفی نہیں۔ سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں انہیں اسی ملک کے رائے دہندگان ووٹ دیتے ہیں، آخری بات یہ ہے کہ مہمان آئے اور رخصت ہوگئے سعودی مہمانوں کے قیام پاکستان کے دوران حکومت نے ان کی اچھی آئو بھگت کی یہ حکومت کافرض مہمان کا حق تھا۔ مہمان رخصت ہوگئے اب مہمان نوازی کے خمارسے باہر نکل کر درپیش مسائل پر توجہ دیجئے۔ اہم ترین اور فوری توجہ انصاف ، تعلیم،صحت اور روزگار کی فراہمی کو دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں