Daily Mashriq

سی پیک کا تیسرا شراکت دار؟

سی پیک کا تیسرا شراکت دار؟

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ ٔ پاکستان بلاشبہ دور رس اثرات کا حامل ثابت ہوگا ۔ولی عہد کو سعودی نظام میں ڈی فیکٹو سربراہ سمجھا جاتا ہے ۔ایسے میں جب سعودی فرماں روا پیرانہ سالی کا شکار ہوں تو ولی عہد ہی عملی طور پر اختیار کا مالک اور منبع ہوتا ہے ۔سعودی فرماں روا شاہ سلمان بھی اس وقت خاصے بزرگ ہیں اور یوں ولی عہد محمد بن سلمان کی سعودی نظام میں مرکزی اہمیت ہے ۔وہ سعودی عرب کا مستقبل ہیں ۔محمد بن سلمان ماضی کے سعودی شہزادوں اور حکمران طبقات سے اس لحاظ سے مختلف ہیں کہ ان کی تعلیم امریکہ اور برطانیہ کی بجائے سعودی عرب کے اداروں میں ہوئی ہے ۔اس طرح انہیں ’’میڈان سعودیہ ‘‘ ہی سمجھا جاتا ہے ۔محمد بن سلمان سعودی عرب میں سخت اقتصادی اصلاحات پر یقین رکھتے ہیں ۔انہوںنے سعودی تاریخ میں پہلی بارطاقتور شخصیات پر ہاتھ ڈال کر کرپشن کی رقم وصول کی ۔سعودی عرب حال ہی میں امریکہ کی دھمکیوں اور معاندانہ کارروائیوں کے ایک دور سے گزر چکا ہے ۔سعودی عرب اور امریکی اسٹیبلشمنٹ میں نائن الیون کے وقت سے ایک کھٹ پٹ چلی آرہی تھی نائن الیون کے حملہ آوروں میں اکثریت سعودی شہری تھی ۔امریکہ کے سخت گیر پالیسی سازوں نے اسی بنا پر سعودی عرب کو نشانے پر رکھ لیا تھا ۔سعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی اسی وقت سے امریکہ کے نشانے پر تھا ۔سعودی عرب بہت مشکل اور مہارت سے اس دلدل سے نکل آیا تھا مگراس سے سعودی عرب کی قیادت کو یہ احساس ہوا تھا کہ امریکہ پرانحصار کم کئے بنا کوئی چارہ نہیں ۔امریکہ اور سعودی عرب کے اقتصادی اور دفاعی تعلقات آج بھی عروج پر ہیںمگر دونوں میں ہم آہنگی کی پرانی سطح شاید اب باقی نہیں ۔سعودی عرب پاکستان کا ہمہ موسمی دوست ہے۔دونوں کے درمیان تجارتی ،سفارتی ،دفاعی اور روحانی تعلقات ہیں ۔آج بھی جب پاکستان شدید اقتصادی مشکلات کا شکار ہے یہ سعودی عرب ہی تھا جس نے چھ بلین ڈالر کی مدد دے کر پاکستان کی اقتصادی کشتی کو بھنور سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں معاشی اصلاحات کی راہ پر گامزن ہیں اور دونوں اپنے ملکوں کے وسائل لوٹنے والے بااثر طبقات اور شخصیات پر ہاتھ ڈالنے پر یقین رکھتے ہیں ۔یہ قدر مشترک پاکستان کے لئے اچھا شگون ہے ۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد سلمان کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ملکوں میں مختلف شعبوں میں تعاون کے بیس ارب ڈالر کے منصوبوں کے معاہدات ہو گئے ہیں ۔سی پیک کے بعد اسے دوسری بڑی سرمایہ کاری کہا جارہا ہے۔موجودہ حکومت نے سعودی عرب کو سی پیک کا تیسرا فریق اور شریک بنانے کی بات اشاروں کنایوں میں کی تھی ۔حکومت کی اس بات پر بہت سے حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ چین کی اعلانیہ رضامندی کے بغیر حکومت کا یہ اعلان چین کو ناراض کرنے کا باعث بنے گا ۔حکومت اس قدر بڑا فیصلہ محض یک طرفہ بنیاد پر نہیں کر سکتی تھی ۔ اس اعلان سے پہلے لامحالہ چین اور سعودی عرب کی طرف سے قبول وایجاب کے کچھ اشارے ملے ہوتے ۔اس سے پہلے ہی چین اس منصوبے میں دوسرے ملکوں کو شرکت کی دعوت دے چکا تھا ۔اب سعودی عرب کے ولی عہد پاکستان کے دورے پر تھے کہ چین کے ڈپٹی چیف آف مشن مسٹر چاولی جیان کی طرف سے ایک اہم بیان سامنے آیا ہے ۔جس کے مطابق سعودی عرب سمیت کوئی بھی ملک پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بن سکتا ہے ۔کسی تیسرے فریق کو سٹریٹجک پارٹنر بنانے پر پاک چین بات چیت ہو سکتی ہے۔تیسرے فریق کی سی پیک میں شمولیت پر بات چیت جاری ہے۔مسٹر جیان نے اس بات کو دہرایا کہ سی پیک ایک گیم چینجر منصوبہ ہے اور اس سے پاکستان اقتصادی مرکز بنے گا۔سی پیک کے پانچ سالہ منصوبے مکمل ہونے والے ہیںاب اقتصادی زونز قائم کئے جارہے ہیں۔ولی عہد کے دورہ پاکستان کے موقع پر چین کی طرف سے سی پیک کے تیسرے شراکت دارہی نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر پاک چین سٹریٹجک تعلقات میں سعودی عرب کے تیسرے شراکت دار کے طورپر گنجائش پیدا کرنے کا اشارہ دیاہے ۔اس طرح سعودی ولی عہد کا دورہ صرف پاک سعودی تعلقات کے حوالے سے ہی اہم نہیں بلکہ اس وقت پاکستان سعودی عرب اور دنیا کی اُبھرتی ہوئی معیشت چین کے درمیان بھی ایک پُل کا کردار ادا کررہا ہے۔سی پیک کے مخالفین کی کوشش تھی کہ اس منصوبے کو پاکستان اور چین کے کسی فوجی گٹھ جوڑ کا کیمو فلاج بناکر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے ۔ان کی کوشش تھی کہ وہ اسے اقتصادی سرگرمی کی بجائے عسکری منصوبہ بنا کر پیش کریں ۔اس تاثر کو دور کرنے کے لئے ضروری تھا کہ اس منصوبے میں چین اور پاکستان کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے ممالک بھی شریک ہوں اور یوں یہ دو ملکوں کے رازونیاز کا شاخسانہ بنا رہنے کی بجائے ایک عالمی اور علاقائی اقتصادی سرگرمی کا حامل منصوبہ بن سکے۔اسی سے منصوبے کی بین الاقوامی ساکھ قائم ہو سکتی تھی۔سعودی عرب نے پہل کر کے اس منصوبے کا شراکت دار بننے کا فیصلہ کیا ہے ۔سعودی عرب بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ خطے میں آرہا ہے تو یہ کوئی دوسرے ملکوں کی جھجک اور خدشات کو دور کرنے اور انہیں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ دینے کاباعث بھی بن رہا ہے۔

متعلقہ خبریں