Daily Mashriq

بیٹی کسی غریب کی فاقہ سے مرگئی

بیٹی کسی غریب کی فاقہ سے مرگئی

آج پاکستان سمیت ساری دنیا میں سماجی انصاف کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ہر سال فروری کے مہینے کی بیس تاریخ کو عالمگیر سطح پر اس دن کو منانے کا آغاز فروری 2009 میں ہوا۔ جب کہ اس دن کو عالمی سطح پر منانے کے لئے نومبر 2007ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کرتے ہوئے ہر سال فروری کے مہینے کی 20 تاریخ کو اسے منانے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر دنیا بھر میں سماجی انصاف سے متعلق تقاریب منعقد کی جاتی ہیں ؛جن میں دنیا کے مختلف معاشروں میں انصاف کے تقاضوں کو اجاگر کرنے اور وہاں کے شہریوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے، ریلیاں نکلتی ہیں سیمینار منعقد ہوتے ہیں مذاکرے مناظرے اور اس نوعیت کی ہر وہ تقریب منعقد کی جاتی ہے جس میں نہ صرف سماجی انصاف کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ کرہ ارض پر جہاں کہیں بھی سماجی ناہمواری نظر آتی ہے اس کے خلاف واویلا برپا کیا جاتا ہے۔ ظلم اور زیادتی کے خلاف شور اٹھتا ہے تاکہ اس حوالہ سے عالمی شعور کو بیدار کیا جاسکے۔ جس طرح کرہ ارض پر زندگی کی مستعار سانسیں گننے والے ہر انسان کو انسانی حقوق حاصل ہیں اس طر ح ہر سماج کو سماج کے اندر اور سماج کے باہر مل جل کر زندہ رہنے کے لئے سماجی انصاف کی ضرورت پڑتی ہے۔ انسان یا بنی آدم کے متعلق دنیا بھر کے دانشوروں نے متفقہ طور پر فیصلہ دے دیا ہے کہ وہ سماجی جانور ہے یعنی مل جل کر اور سماج بنا کر رہنا پسند کرتا ہے۔

فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں بیرون دریا کچھ نہیں

ہر فرد قوم ملت یا سماج سے علیحدہ ہوکر اپنی شناخت کھودیتا ہے۔ اسے جدائی اور تنہائی کی سزا بھگتنی پڑتی ہے اور وہ تن تنہا یا اکیلا ہوکر بڑی مشکل سے جی پاتا ہے۔ کیونکہ اکیلا رہ جانے سے وہ ان سہولتوں اور مراعات سے محروم ہوجاتا ہے جو اسے ایک سماج میں رہ کر سماج کے دوسرے ساتھیوں یا بھائی بندوں کی وجہ سے میسر آتی ہیں۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

انسان انسان کا ہمدرد اور غمخوار ہوتا ہے۔ دکھ درد میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا یا کسی مشکل گھڑی میں کسی کے کام آنا اچھے انسانوں کی فطرت میں شامل ہے ،

ہیں جہاں میں وہی لوگ اچھے

آتے ہیں جو کام دوسروں کے

لیکن جس وقت ہم اپنے چہار سو پھیلی معاشرتی اور سماجی نا ہمواریوں پر نظر ڈالتے ہیں تو مولی اکھاڑے کھڈے ہی کھڈے نظر آتے ہیں۔ ہمیں قدم قدم پرنہ صرف سماجی نا انصافیوں سے پالا پڑتا ہے بلکہ ہر روز ان نا انصافیوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے سماج کا ہر فرد ایک دوسرے کو الٹی چھری سے ذبح کر رہا ہو۔ یوں لگتا ہے جیسے ہم سب عادی ہوچکے ہوں ایسے ظلم ستم اورزیادتیوں ،معاشرتی اور سماجی نا ہمواریوں کے۔ جو گلا کاٹنا چاہتا ہم اس کے آگے اپنا گلا رکھ دیتے ہیں۔ جب عالمی سطح پر سماجی انصاف یا انسانی حقوق کا عالمی دن منانے کا شوشا چھوڑا جاتا ہے تو ہمیں بھی اس بات کااحساس ہونے لگتا ہے کہ کتنے محروم ہیں ہم اپنے سماج میں رہ کر بھی سماجی انصاف کے حق سے۔

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

اگر یہ بات درست ہے تو ہم کو اس وقت تک ملک اور ملت کی تعمیر و ترقی کے متعلق سوچنا بھی نہیں چاہئے جب تک ہم ہر فرد کو ملت کے مقدر کا ستارہ سمجھ کر اس کو برابری کا حق نہیں دیتے ، آج ہمارے سماج میں امیر اور غریب میں بہت نمایاں فرق ہے ، ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہیں دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جن کو اپنی دھن دولت عیاشی میں اڑاتے وقت شرم تک محسوس نہیں ہوتی ، لوگوں کو اس بات کی فکر کب رہتی ہے کہ ان کی ہمسائیگی میں کون بھوکا سویا ہے۔کوئی حال مست ہے تو کوئی مال مست ، تجوریاں بھرنے والے حرص و ہوس کی دوڑ میں مگن ہیں ، ان کو کیا پڑی ہے کہ کس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے اور کون بھوکا سو یا ہے ، ان کو تو بس ذخیرہ اندوزی اور دھن دولت جمع کرنے کی فکر لاحق ہے ،

گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب

بیٹی کسی غریب کی فاقہ سے مرگئی

یہ سماجی ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے جو کسی غریب کے آنگن میں کھلنے والے ننھے پھول اور کلیوں جیسے بچوں کو اسکول جاکر پڑھنے لکھنے یا کسی لان اور چمن میں کھیلنے کودنے کی بجائے محنت مشقت اور چائلڈ لیبر کے کٹھن مرحلے طے کر کے روزی روٹی پیدا کرنے پر مجبور کردیتی ہے ،

وہ کون ہے جو انہیں کھیلنے نہیں دیتا

یہ کم سنی میں جو روزی کمانے لگتے ہیں

آسمان سے باتیں کرنے والے محل کوٹھیاں اور پلازے تعمیر کرنے والے ہل من مزید کی گردان رٹتے رہتے ہیں جب کہ غریب اپنی کٹیا کے دروازے پر ٹاٹ کا پردہ لٹکا کر چادر اور چاردیواری کا بھرم رکھنے کی ناکام سی کوشش کرتا رہتا ہے ، ، جب تک ہم اپنے سماج سے غربت ، ناداری اور بے روزگاری کا خاتمہ نہیں کرپاتے ، اس وقت تک ہم دعویٰ نہیں کر سکتے سماج میں عدل وانصاف لانے کا ،

اسلم بڑے وقار سے ڈگری وصول کی

اور اس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا

متعلقہ خبریں