Daily Mashriq

یونین کونسل خالصہ ون میںبنیادی سہولیات کا فقدان،جرائم کی بھرمار

یونین کونسل خالصہ ون میںبنیادی سہولیات کا فقدان،جرائم کی بھرمار

پشاور( سید شبیر شاہ ) ایک لاکھ سے زائد آبادی والا یونین کونسل خالصہ ون بنیادی سہولیات سے محروم علاقے میں پینے کا صاف پانی ناپید ، صفائی کا معقول نظام نہ ہونے سے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگ گئے ،بجلی لوڈ شیدنگ نے لوگوں کی چیخیں نکال دی، پشاور بھر میںجرائم کی شرع سے سب زیادہ شہری خود کوغیر محفوظ سمجھنے لگے ، علاقے میں ڈاکے، زاہزنیاں، موبائل سنیچنگ اورہوائی فائرنگ معمول بن گیا ، منشیات فروش کھلے عام نوجوانوں کی زندگیوں سے کھیلنے لگے، پولیس نے آنکھیں موند رکھی ہیں ، مشرق فورم میں شریک علاقہ مکینوں حکومتی عدم توجہی پر پھٹ پڑے ، ان کا کہنا ہے کہ یونین کونسل خالصہ 1 دو نیبر ہوڈ کونسلز سربلند پورہ اور پہاڑی پورہ پر مشتمل ایک گنجان آباد علاقہ ہے لیکن یہاں کے مکین دور جدید میں بھی پتھر کے دور کی زندگی گزار رہے ہیں ،20 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرزاور ایک لاکھ سے زائد نفوس کی آبادی پر مشتمل علاقہ حکومت عدم توجہی کی وجہ سے مسائلستان بن چکا ہے ، فورم میں اظہار خیال کر تے ہوئے اہلیان علاقہ کا کہنا تھا کہ آئے روز لوگوں کو لوٹا جارہا ہے ،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،ڈاکے ، راہزنیاں اور چوریاں عام ہیں ، مقامی پولیس جرائم کی ایف آئی آر تک درج نہیں کرتی اگر کوئی ناخوشگوار واقعات رونما ہوتے ہیں تو صرف متاثر شخص کو درخواست پر ٹرخایا جاتا ہے ، مکینوں کا کہنا تھا کہ15 اور 16 برس کے نوجوان آئس کی لت میں مبتلا ہیں نوجوان نشہ کرنے کے بعد اسلحہ لے کر علاقے میں دندناتے پھرتے ہیں اور کوئی ان کو روکنے والا نہیں ہوتا ہے،رائیڈر سکواڈ رنگ روڈ اور موٹر وے پر نان کسٹم سامان کو پکڑنے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں ،یونین کونسل میں زیادہ تر مکین کرائے کے گھروں میں مقیم ہیں تاہم 80 فی صد سے زائد افراد کا ڈیٹا پولیس کے پاس نہیں ، اہلیان علاقہ کا کہنا تھا پراپرٹی ڈیلرز کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ نئے آنے والے کرائے دار کا ڈیٹا پولیس کو فراہم کیا جائے ،پروگرام میں شریک خلیل احمد نامی مکین کا کہنا تھا کہ چند دن قبل ان کے جواں سال بیٹے سے اسلحہ کی نوک پر راہزنوں نے موبائل اور نقدی چھین لی، اسی طرح گزشتہ تین دنوں میں کمبوہ کے علاقہ سے سکول سے چوری اور تین افراد کو اسلحہ کی نوک پر لوٹا گیا ، علاقہ مکینوں کو کاغذات گھر سے لانے تک کی مہلت نہیں دی جاتی اورگھنٹوں تھانے کی حوالات میں بند رکھا جاتا ہے ، پروگرام میں شریک سینئر کرائم رپورٹر شہزادہ فہد کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی آپریشن ظہور آفریدی کیمطابق پہاڑی پورہ ضلع بھر میںواحد تھانہ ہے جہاں تھانے اور چوکیوں میں نفری مکمل ہے جبکہ یونین کونسل کے ہر بازار اور متعدد گلیوں میں چوکیدار بھی موجود ہوتا ہے اس کے باوجود چوریاں اور راہزنی معمول ہے جو تشویش ناک بات ہے، پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے تھانہ پہاڑی پورہ کے ایڈیشنل ایس ایچ او بابر خان کا کہنا تھا جب تک عوام ان کا ساتھ نہیں دیں گے اس وقت تک جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا ان کا کہنا تھا کہ پہاڑی پورہ میں 70 سے 80 فیصد گھروں میں کرائے کے مکین رہ رہے ہیں جن کی چھان بین کرنے کے لئے پولیس متحرک ہے مکینوں سے گزارش ہے کہ جن لوگوں کو پولیس تفتیش کے لئے لے کرجاتی ہے ان کوریلیز کرنے کیلئے بلدیاتی نمائند ے اورعلاقہ مکین میدان میں آجاتے ہیں جس سے تفتیشی عمل متاثر ہوجاتا ہے،بابر خان نے بتایا کہ تھانہ پہاڑی پورہ کے حدود میں رہنے والے تمام ناظمین اور معزز مکینوں کے ساتھ میٹنگز کا سلسلہ ہر مہینے ہوتا ہے جبکہ گزشہ روز علاقے میں موجود تمام مساجد کے امام اور علما ء کے ساتھ بھی نشست ہوئی اور علاقے میں امن و امان کے حوالے سے ان کو آگاہ کیا جس پرا نھوں نے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔

متعلقہ خبریں