Daily Mashriq

سجدہ سہو ہونا چاہئے

سجدہ سہو ہونا چاہئے

قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سے پارلیمنٹ پر تین حرف بھیجنے کے گزشتہ روز کے بیان کے خلاف اتفاق رائے سے مذمتی قرارداد کی منظوری‘ پاکستان کی سیاسی دنیا کے لئے کوئی خوشگوار امر نہیں جبکہ تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان اوریک رکنی جماعت کے سربراہ شیخ رشید کے لئے بھی کوئی باعث عز و شرف امر نہیں۔ جوش خطابت میں شیخ رشید سے اس قسم کے الفاظ کی ادائیگی بعید نہ تھی مگر ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد کو ان کی تقلید میں ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے تھا جس کی شریعت اور اخلاق و شرافت میں گنجائش موجود نہ ہو۔ بہر حال انسان کو خطا کا پتلا گردانا جاتا ہے لیکن دوسرے روز پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی طرف سے لعن طعن کے دفاع کے ساتھ مزید سخت لفظ کے استعمال کی گنجائش کا عندیہ کسی طور قابل قبول امر نہیں اور نہ ہی یہ کسی سیاسی جماعت کے لئے قابل قبول رویہ ہے۔ جلسے کے سٹیج پر جذبات کی رو میں بہہ کر غلطی کے ارتکاب کی توجیہہ عذر لنگ کے طور پر پیش ہوسکتی ہے مگر پارلیمنٹ سے قرار داد مذمت کے جواب میں اپنے الفاظ پر اصرار اور اس سے بھی آگے بڑھنے کی گنجائش کا اشارہ غیر سیاسی اور غیر مہذب امر ہے۔ انسان سے غلطی سرزد ہوتو اس کا اعادہ نہیں ازالہ کی توقع ہوتی ہے۔ مخالفین کو موقع ملنا اپنی جگہ لیکن خود تحریک انصاف کے مرکزی رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی اس لفظ کے استعمال سے اختلاف کا برملا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح کی حرکت کے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین شہرت کے حامل رہے ہیں جن کے الفاظ کا دفاع بعد میں ایم کیو ایم کے رہنمائوں کو مشکلات سے دوچار کرتا رہا اور بالآخر قائد تحریک نے اپنی وقعت کھو دی۔ خود مسلم لیگ (ن) کے قائد کے ایک بیان پر جولے دے چلی وہ بھی کوئی پرانی بات نہیں۔عمران خان کی جانب سے لعنت کے لفظ کے استعمال پر اس کے سخت یا نرم ہونے یا پارلیمنٹ کے لیے اسے استعمال کرنے یا نہ کرنے یہاں تک کہ لعنت کی شرعی حیثیت پر بھی بحث اور تنقید و تشنیع فطری امر ہے۔ مگر اس کے باوجود عمران خان اپنے الفاظ سے رجوع پر تیار نہیں بلکہ وہ اس کے دفاع پر اتر آئے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایک ایسی پارلیمان جس نے ایسا قانون پاس کیا جو ایک نااہل قرار دیے گئے شخص کو پارٹی کا سربراہ بنانے کے لیے راہ ہموار کرے تو اس پارلیمان کے لیے لعنت کا لفظ بھی ہلکا ہے۔ وہ اس پر ایک عوامی مناظرہ کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔گوکہ آغاز شیخ رشید نے کیا تھا لیکن سیاسی طور پر دیکھا جائے توان کا کچھ زیادہ بگڑے گا نہیں۔ لیکن عمران خان کی اننگز لمبی ہے، ان کو الفاظ کے انتخاب میں زیادہ احتیاط کرنی چاہیے تھی کم از کم وہ اس پر قائم رہنے کی غلطی نہ کرتے؟ یہ درست ہے کہ پارلیمان میں سب کچھ اچھا نہیں، یہ بھی درست ہے کہ اسی پارلیمان نے غلط قوانین بھی بنائے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پارلیمانوں میں بیٹھے کئی لوگوں پر بدعنوانی کے مرتکب ہونے کے الزام بھی ہیں اور سزا بھی ہوئی ہے۔لیکن اس سب کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ یہی وہ ادارہ ہے جو پاکستان کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے۔ درست یا غلط اسی میں بیٹھے وہ لوگ ہیں جن کو عوام نے اپنا ووٹ دیا ہے۔ وہی ووٹ جو عمران خان سمیت تمام سیاستدان حاصل کرنا چاہتے ہیں۔جمہوری نظام میں یہی پارلیمان ہی ہوتی ہے جو آئین کے مطابق سب سے اعلیٰ ادارہ ہے۔ پارلیمان عوام کا نمائندہ ادارہ اور جمہوریت کی علامت ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں پارلیمنٹ‘ سیاست‘ سیاستدانوں اور جمہوریت سبھی کی قدر و منزلت اسی میں ہے کہ جذبات کی رو میں بہہ جانے کی بجائے ذمہ داری کا طرز عمل اختیار کرنے کی سعی کی جائے۔ سیاسی معاملات کو سیاسی نکتہ نظر سے دیکھا اور بیان کیا جائے۔ سیاسی مخالفت کو مخاصمت میں بدلنے کی بجائے رواداری اوراحترام کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے اگر سیاستدان خود کو معقولیت کے درجے میں پرکھے جانے کے قابل ہی نہیں رہنے دیں گے تو عوام ان سے کیا توقعات وابستہ کریں گے اور ان پر اعتماد کیسے کیاجائے گا۔عوام اپنے قائدین سے بجا طور پر تحمل اور رواداری کی سیاست اور معاشرے کے قیام میں اپنا احسن کردار ادا کرنے کی توقع رکھنے میں حق بجانب ہیں۔ہمارے تئیں سیاسی شخصیات کا اپنا مفاد بھی اسی میں ہے کہ وہ خود کو معقولیت کے کم از کم درجے پر ثابت کرنے میں کوتاہی کا مظاہرہ نہ کریں اگروہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں اس امر پرسنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ بصورت دیگر ان کو اعلیٰ ترین عہدوں اور عوامی نمائندگی کے لئے ان کو کیسے موزوں سمجھا جائے گا۔ تحریک انصاف کو اس بیان کی تلخی کااحساس عام انتخابات کے موقع پر ہی نہیں بلکہ اقتدار کی رسہ کشی کے دوران بھی بخوبی دلایا جائے گا۔ بنا بریں بہتر یہ ہوگا کہ اس تلخی کو رفع کرنے کاموزوں راستہ اختیار کیا جائے اگر عدالتوں سے معافی طلب کی جاسکتی ہے تو عوام اور پارلیمان سے ایسا کرنے میں کیاحرج ہوگا؟توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں سیاسی عناصر کو اپنے سہو کا احساس ہوگا اور وہ سجدہ سہو کے معروف طریقہ کار اختیار کرنے میں تامل کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

اداریہ