Daily Mashriq


صوبائی حکومت کے لئے توجہ طلب مسئلہ

صوبائی حکومت کے لئے توجہ طلب مسئلہ

ملاکنڈ ڈویژن میں کرش مشینوں کی بندش اور شاملات کی لیز کے لئے مشتہر کرنے پر ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور کرش مشین مالکان کی تشویش اس لئے بجا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن نہ تو صنعتی علاقہ ہے اور نہ ہی وہاں پر روز گار اور کاروبار کے سنہرے مواقع ہیں مستزاد ملاکنڈ ڈویژن کو خصوصی طور پر بعض امور میں استثنیٰ بھی حاصل ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن پاٹاکاحصہ ہے اس علاقے میں پاکستان کے کئی قوانین نافذ نہیں جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ علاقے کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس علاقے کے لوگوں کو مختلف معاملات خاص طور پر کاروباری و اقتصادی شعبے میں رعایت دی جائے۔ محولہ صورتحال سے اس امر کااظہار ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کے خود اپنے وسائل پر اختیار بھی ختم کرنے کے درپے ہے کجا کہ ان کو ملنے والی رعایت میں اضافہ کیا جائے۔صوبائی حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن میں قیمتی جنگلات کی بے دریغ کٹائی کرنے والوں کو تو رعایت ملتی ہے مگر دریا کے کنارے شاملات سے یا کسی ویران جگہ پر بجری بنانے کی اجازت نہیں دی جاتی اور مقامی باشندوں کو اپنی ضرورت کے لئے بھی بجری اور ریت اٹھانے پر پابندی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جو مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد کے لئے بھی پریشانی کاباعث بن رہاہے۔ اس صورتحال کے باعث کرش پلانٹس بند کردئیے گئے ہیں اور مقامی افراد دریا کے کنارے اپنے ہی کٹائو کا شکار ہو کر دریا برد ہوئی زمین سے ریت اور بجری نہیں اٹھا سکتے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ قدرتی عمل زمانہ قدیم سے جاری ہے اور اس حوالے سے قوانین بھی وضع شدہ ہیں۔ ریور بیڈ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں شو گرام کے ایک مقدمے کی نظیر کافی ہے مگر اس کے باوجود محکمہ معدنیات کی جانب سے عوامی ملکیت کی حامل اراضی کی لیز پردینے کی مساعی سے علاقے کے لوگوں میں اشتعال کا سبب بن جانا فطری امر ہے۔ گزشتہ سال وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ایک جلسہ عام میں اس امر کی یقین دہانی کرائی تھی کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ریت اور بجری اٹھانے پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا اور نہ ہی ان مقامات کی نیلامی کی جائے گی۔ اس تمام صورتحال کے باوجود ملاکنڈ ڈویژن میں محکمہ معدنیات کی جانب سے کئے گئے اقدامات کے باعث کرش پلانٹ بند پڑے ہیں جس سے ایک اندازے کے مطابق چالیس پچاس ہزار افراد بالواسطہ و بلا واسطہ متاثر ہو رہے ہیں جبکہ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔صوبائی حکومت کو اس ضمن میں فوری طور پر قابل قبول پالیسی کے اجراء پر توجہ دینی چاہئے تاکہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور کاروباری افراد میں پھیلی ہوئی بے چینی کاخاتمہ ہو۔

رکاوٹیں ہٹانے میں تاخیر نہ کی جائے

صوبائی دارالحکومت پشاور کے شہریوں کا سیکورٹی کے نام پر بند کی گئی سڑکوں اور غیر ضروری مقامات پر چیک پوسٹوں کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کے بعد بعض مقامات سے چیک پوسٹیں ہٹانے کا عمل احسن ہے لیکن ابھی بہت سے ایسے مقامات موجود ہیں جہاں محض عمارتوں کے تحفظ کے لئے عوام سے فٹ پاتھ پر چلنے کا حق تک چھین لیا گیا ہے۔ اس میں کئی تھانے اور پولیس افسروں کے دفاتر سر فہرست ہیں جبکہ کینٹ کے ایریا میں بھی عوام کو چیک پوسٹوں پر مشکلات کا سامنا ہے حالانکہ اب صورتحال اس قدر مشکل نہیں جیسا دہشت گردی کی شدید لہر کے دوران تھی۔ اس طرح انتظامات اور بلا وجہ کی رکاوٹیں اور سختیاں جھیل کر عوام اسی احساس سے نہیں نکل سکے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر واقعی میں شکستہ ہوچکی ہے بلکہ ان انتظامات سے بھرپور خطرے کا ادراک ہوتا ہے جس کا عوام پر پڑنے والے نفسیاتی اثرات اور منفی تاثرات فطری امر ٹھہرتے ہیں۔ گزشتہ روزہی اس ضمن میں عدالت سے رجوع کرنے والے درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کوبتایاکہ یونیورسٹی ٹاؤن میں واقع ایرانی قونصلیٹ کے ساتھ سڑک پر رکاوٹیں لگا کر راستہ عوام کی آمد ورفت کیلئے بند کیا گیا ہے۔ سڑک بندش کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کاسامناہے اسی طرح کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے کینٹ میں بھی مختلف سڑکوں پر رکاوٹیں لگاکر عام لوگوں کی آمدورفت کیلئے بند کیا گیا ہے جبکہ گورنر ہاؤس ،سول سیکرٹریٹ ،پولیس لائن اور دیگر راستوں کی بندش سے بھی عوام شدید ذہنی اذیت کاشکارہوچکے ہیں۔ فاضل عدالت نے کینٹ ایگزیکٹو آفیسر اور ٹاؤن تھری انتظامیہ سے اگلی سماعت پر رپورٹ بھی طلب کرلی۔اس شہری مشکل پر شہریوں کو عدالت سے رجوع ہونے پر مجبورہونے سے قبل ہی متعلقہ حکام کو احساس ہوجانا چاہئے تھا۔ بہر حال اب توقع ہے کہ عدالت ہی سے اس کا جلد فیصلہ آئے گا اور متعلقہ حکام لیت و لعل اور تاخیری حربوں کے استعمال کی بجائے عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ممکنہ اقدامات یقینی بنائیں گے۔

متعلقہ خبریں