Daily Mashriq

عوام کی توہین

عوام کی توہین

ی مودودی ؒ نے کہا تھا کہ اگر پاکستان میں منتخب ادارے اور منتخب حکومت دو مرتبہ اپنی مد ت پوری کرلیں تو پاکستان میں جمہوریت کو استحکا م مل جائے گا یہ عام فہم بات تھی مگر اصل حاکم نے اس میں اپنے مطلب کی بات ڈھو نڈنکالی ،تب سے پا کستان میں تسلسل کے ساتھ دومرتبہ کسی منتخب حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع فراہم نہ ہو نے دیا منتخب پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کو اجاڑنے والی قوتوں کے درمیا ن پنجہ آزمائی جا ری ہے ، اب بالکل نئے طر ز کا دھرنا لگا ہے ، جس میں امپائر کی انگلی پر کھڑا رہنما بھی اس طر ح شریک ہے کہ وہ کہتا ہے کہ ملک کی سابق بر سراقتدار پارٹی کے سربراہ کے ساتھ وہ منج پر نمو دار نہ ہو ں گے اس کی وجہ کیا ہے کیا بدنا می صرف لگ کر بیٹھنے سے ہوتی ہے یا ایک ساتھ محفل سجا نے کو نیک نا می کہا جاتا ہے ، آج نیا زی صاحب اسی کے رکیب ہیں جس کے بارے میںانہو ں نے کہا تھا کہ پا کستان کے سب سے بڑے دو چور ہیں ایک نو از شریف اور دوسرے آصف زرداری۔ یہ دعویٰ کہا ں تک درست ہے اس بارے میں عمر ان خان ہی جانتے ہو ں گے تاہم بچپن سے یہ ضرب المثل سنتے آئے ہیں کہ چور کا بھا ئی چور ہوتا ہے لیکن عمر ان کے دعوے کے مطا بق ایک بھائی ان کے ساتھ منج پر ہے دوسرے کے خلا ف ہے اور اس وقت کپتان کا ساتھی بنا ہو اہے۔ یہ ضرب المثل سنتے تھے کہ چور کا ساتھی گرہ کٹ اب کیا بات سچ ہے اللہ ہی بہتر جا نتا ہے ۔

زینب بی بی کے ساتھ سفاکانہ سلوک پر ایک تلا طم بپا ہوا تھا اور لا ہو ر کا دھرنا اسی کی کڑی تھی کہ معصوم زینب کے قاتل زندان کی بجا ئے زندہ پھر رہے ہیں لیکن لا ہو ر ما ل رو ڈ کا شو زینب بی بی کو بھلا بیٹھا اب زینب بی بی کی روح کو کون انصاف دلا ئے گا یہ جو اب تحریک انصاف والے ہی دے سکتے ہیں یا طاہر القادری بتاسکتے ہیں کہ ان کا کہا ہے کہ سانحہ ما ڈل ٹاؤن کے متاثرین کے ساتھ ہی سانحہ زینب بی بی کا بدلہ لیا جا ئے گا مگر وہ ڈیر ہ اسماعیل خان کی کر ما ں بی بی کو بھول گئے اور نہ ہی ان کو مر دان کی اسماء یا د رہی، سلا م ہے روبینہ خا لد کہ وہ واحد سیا ست د ان اور وہ بھی سیا ست دان خاتو ن ہیں کہ جو انصاف کی آواز بن کراسماء کے گھر گئیں۔
لاہو ر کے دھر نے کو حکومت کے لیے ایک بڑ ا خطرہ قرار دیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ اب حکومت سے استعفے ہی لے کر واپس ہو ں گے مگر وہ وہا ں تو یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ جو استعفیٰ لینے آئے تھے وہ خود استعفیٰ دے رہے ہیں۔ شیخ رشید نے جو ش خطا بت میں آکر لالو لا ل جھکڑ یو ں چلا یا کہ استعفیٰ کا اعلا ن کر دیا اگر یہ کر نا ہی تھا تو راولپنڈی سے کوچ کر نے سے پہلے اسلام آباد کی یا ترا کر آتے اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کی خدمت میں استعفیٰ بنفس نفیس پیش کر کے ہا تھ لا ل پیلے کر آتے۔ بہر حال لا ل حویلی کے لا لو ہیں کائیاں۔ ایسے مواقع پر ہر مرتبہ عمر ان خان کو ایک نئی آزمائش سے دوچار کر دیتے ہیں اس مر تبہ بھی انہو ں نے مستعفی ہو نے کا اعلا ن کرکے عمر ان خان کو کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے ۔شیخ رشید نے خطا ب کرتے ہو ئے کہا کہ وہ ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں ایسے وزیر اعظم پر ، ایسے وزیر اعلیٰ پر ایسے قاتلوں پر لعنت بھیجتے ہیںِ جمہو ریت پر لعنت بھیجتے ہیں کہ جو سانحہ ماڈل ٹاؤں کے متاثرین کو انصاف نہ دلا سکیں ، عمر ان خان نے کہا کہ وہ ایسی پا رلیمنٹ پر لعنت بھیجتے ہیں جس نے ایک مجر م کو پا رٹی کا سربراہ بنا دیا ۔مختصر یہ کسی نے بھی زینب بی بی کے لیے انصاف کا نا م نہیں لیا کیوں کہ اگر وہ ایسا کرتے تو ان کو اسماء بی بی کے انصاف کے لیے بھی دو بول بولنا پڑ جا تے ۔ جہا ں تک پا رلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کا تعلق ہے تو یہ عوام کی توہین کے متر ادف ہے کیو ں کہ پا رلیمنٹ کو نہ تو پر ویز مشرف نیمنتخب کر نے کا شرف بخشا ہے اور نہ ہی کسی امپائر کی مر ہون منت ہے یہ عوام کا منتخب کر دہ ادارہ ہے دوسرے الفا ظ میں پارلیمنٹ عوام کا عکس ہے ، اس کے ایو ان میں بیٹھنے والے اپنی نما ئندگی نہیں کر تے بلکہ عوام کی نما ئند گی کرتے ہیں اس کی چار دیو اری میں جو فیصلے ہو تے ہیں وہ عوام کے فیصلے ہی ہو تے ہیں کیوں کہ عوام نے ہی ان کو منتخب کیا ہے کہ وہ یہا ں مل بیٹھ کر فیصلے کر یں جس طرح عدالت کے بارے میں توہین آمیز الفا ظ استعما ل کرنا توہین عدالت ہے اسی طر ح پا رلیمنٹ کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ کا استعمال عوام کی توہین کے متر ادف ہے ۔ یہ عوام ہی ہیںجنہوں نے اپنے نما ئندے یہا ں بھیجے ہیں جن میں جا وید خاقان عباسی ، شیخ رشید ، خورشید شاہ ، عمر ان خان ، یہ سب عوام کی طر ف سے بھیجے ہو ئے ہیں۔ چنانچہ پو ری پا رلیمنٹ پر لعنت بھیجنا عوام کی توہین ہی ہے جس سے اجتنا ب کر نے کی ضر ورت ہے ۔
دھرنا والوں سے پنجا ب کے وزیر اعلیٰ نے بڑ ا چبھتا ہو ا سوال کیا ہے شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جس طر ح زینب قوم کی بیٹی ہے اسی طر ح مر دان میں زیا دتی کے بعد قتل ہو نے والی اسماء بھی قوم کی بیٹی ہے ، مال رو ڈ پر دھر نا دینے والے بتائیں کہ کیا ان کے آنسو اور دعائیں مردان کی بیٹی کے لیے بھی ہیں کیا اس بیٹی کے لیے بھی مال روڈ پر دھر نا دینے والوں کے لیے وہی ہمدردی ہے اور کیا وہ اسے انصاف دلا نے کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے ، یہ لو گ اسما ء کے قتل پر کیو ں خامو ش ہیں ، شہبازشریف نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ میر مرتضیٰ بھٹو کا قتل اس وقت ہو ا تھا جب ان کی بہن بینظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں ِ، اس وقت احتجا ج اور دھر نے کیو ں نہیں کیے گئے ، مر تضیٰ بھٹو کے بچے آج بھی انصاف کے طلب گار ہیں ۔بات تو سچ ہے تاہم یہ بھی حیر ت کی بات ہے کہ جب حکومت کو آئینی طور پر ختم ہو نے میںصر ف چار پانچ ما ہ ہی رہ گئے ہیں تو پھر ایسے میں حکومت سے مستعفی ہو نے کا مطالبہ اتنے بڑے پیمانے پر کرنے کا مطلب۔ ساڑھے چار سال گزار دئیے اب استعفیٰ کی سوجھ بوجھ باعث حیر ت ہے پس پر دہ کیا کا ر فرما ہے اس کا ذکر بند ہو نٹو ں سے حکمر ان کر تے تو ہیں مگر کھل کر وہ بھی نہیں بولتے ۔

اداریہ