Daily Mashriq

رنگ لائے گا نقیب کا لہو

رنگ لائے گا نقیب کا لہو

پولیس مقابلہ ہوگیا ،اہم دہشتگرد مارے گئے، پولیس اہلکار کو خراش تک نہیں آئی، پولیس پارٹی کے سربراہ کی واہ واہ ہوگئی، فائل بند کردی گئی، قصہ ختم۔ یہ ہے کراچی کے بدنام زمانہ’’ انکائونٹر سپیشلسٹ ‘‘ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے کارناموں کا خلاصہ۔ انیس سو تیرانوے سے اب تک جتنے ’’مقابلے ‘‘ کیے بیشتر جعلی نکلے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ راؤ انوار کی ٹیم سے مقابلہ کرنے والے انتہائی مطلوب تربیت یافتہ دہشتگرد اتنے ہلکے نکلتے ہیں کہ خود کش جیکٹس اور جدید ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود پولیس پر ایک فائر تک نہیں کرتے اور راؤ انوار کے دبنگ جوان ان ہائی پروفائل دہشتگردوں کو منٹوں میں موت کی نیند سلادیتے ہیں۔ حالیہ تین چار برسوں میں تمام ’’ہائی پروفائل دہشتگرد‘‘ گڈاپ، سہراب گوٹھ اور گردو نواح میں بہادر پولیس افسر کے ہتھے چڑھے ہیں۔ راؤ انوار پر ہونے والا حالیہ خودکش حملہ شاید پاکستان کی تاریخ کا پہلا خود کش حملہ تھا جس میں حملہ آور مکمل طور پر جھلس کر راکھ ہوگیا۔اس کا سر ملا نہ ٹانگیں اور راؤ انوار اس حملے میں بھی معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ راؤ انوار کا یہ بھی کارنامہ ہے کہ کراچی سے جتنے را کے’’ ایجنٹ ‘‘پکڑے ان میں زیادہ تر عدالتوں سے باعزت بری ہوچکے۔ اتنے ’’بہادر‘‘ پولیس افسر کی پوسٹنگ تو بلوچستان کے کسی شورش زدہ علاقے یا فاٹا میں پاک افغان بارڈر پر ہونی چاہیئے تھی جہاں ہمارے جوان ’’خوامخواہ‘‘ دشمن کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں ۔

یہ تھا ’’دبنگ‘‘ اور ’’بہادر‘‘ پولیس افسر راؤ انوار کا مختصر تعارف جس نے گزشتہ دنوں ایک اور نوجوان نقیب اللہ محسود کو جعلی مقابلے کی بھینٹ چڑھادیا۔ نقیب اللہ کا اصل نام نسیم اللہ محسود اور تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین سے تھا، کئی برسوں سے کراچی میں مقیم نقیب اللہ فوٹو گرافی اور ماڈلنگ کا شوقین تھا، سوشل میڈیا پر مختلف پوز میں اس کی خوبصورت تصویریں بھی گواہی دے رہی ہیں کہ مقتول کو اپنے آپ اور زندگی سے کتنا پیار تھا۔ ’’بہادر ‘‘ پولیس افسر کا دعویٰ ہے کہ نقیب اللہ دہشتگردوں کا ساتھی تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سادہ لباس اہلکاروں نے اس جعلی مقابلے سے کئی روز پہلے نقیب اللہ کو سہراب گوٹھ میں ہوٹل سے اٹھایا تھا،، بتایا جاتاہے کہ نقیب اللہ کپڑے کا کاروبار کرنا چاہ رہا تھا اور اس سلسلے میں سودے کے لیے اس کے پاس ساٹھ لاکھ روپے بھی موجود تھے ۔ راؤ انوار کا کہنا ہے کہ مقتول کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آگئے تو راؤ صاحب کہیں ایسا تو نہیں کہ یہی ساٹھ لاکھ ہتھیانے کے لیے پہلے آپ نے ایک بے گناہ نوجوان کو دہشتگرد بنا ڈالا اور پھر ہمیشہ کی طرح جعلی مقابلے کا ڈرامہ رچایا ۔ حساب تو آپ کو دینا پڑے گا ان ساٹھ لاکھ روپے کا نہیں بلکہ ان درجنوں نوجوانوں کا جنہیں آپ نے اپنے نامعلوم آقائوں کو خوش کرنے کے لیے دہشتگرد بناکر مارڈالا ۔ ( یہاں نہ سہی کہیں اور کیونکہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے)
نقیب کا معاملہ پہلے سوشل میڈیا نے اٹھایا پھر مین سٹریم میڈیا نے بھی اس ماورائے عدالت قتل پر سوالات اٹھادیے تو پی پی چیئرمین بلاول بھٹو کے نوٹس پر واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بن گئی۔ راؤ انوار کے ساتھی پولیس افسران اس کمیٹی کے ممبرز ہیں یہ حیرت کی بات نہیں حیرت کی بات تو یہ ہے کہ راؤ انوار اس دوران دھڑلے سے کام کرتے رہیں گے۔وہ کوئی عام پولیس افسر تو ہیں نہیں بلکہ وہ پیپلزپارٹی کے لاڈلے اور سابق صدر آصف زرداری کے چہیتے جو ٹھہرے۔ تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان چاہے کتنے ہی ایماندار، غیر جانبدار اور اصول پسند کیوں نہ ہوںمجھے خدشہ ہے کہ راؤ انوار اس بار بھی بچ نہ نکلے اللہ کرے میرا یہ خدشہ غلط ثابت ہو ۔ وہ پہلے بھی مختلف اوقات میں معطل ہوتا رہا ہے لیکن زیادہ عرصے تک سین سے آئوٹ نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ راؤ انوار کی پشت پر بڑے مضبوط لوگ ہیں اور جب تک وہ قوتیں راؤ انوار کی پشت پناہی کرتی رہیں گی تو ماورائے عدالت قتل کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
راؤ انوار کے جعلی مقابلوں کی بازگشت تو ایک عرصے سے سنائی دے رہی تھی لیکن نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کو جس طرح میڈیا نے اٹھایا تو ایک امید بندھ چکی ہے کہ شاید اس بار انصاف ملے، سندھ اسمبلی میں معاملے پر بحث ہوچکی ہے قومی اسمبلی کے اسپیکر نے بھی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی از خود نوٹس لیکر آئی جی سندھ سے سات روز میں رپورٹ طلب کرلی ہے لیکن بات یہاں پر آکر رکنی نہیں چاہیئے آگاہی اور دبائو ڈالنے کا سلسلہ جاری رکھنا پڑے گا کیونکہ حکومت سندھ کی کوشش ہوگی کہ راؤ کو معطل یا برطرف کرکے معاملے کو دبایا جائے۔یہ بات اتنی معمولی نہیں کہ معطلی یا برطرفی پر ختم ہوجائے۔ اس کی جوڈیشل انکوائری کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی کو اس وقت تک متحرک رہنا پڑے گا جب تک مظلوم خاندانوں کو انصاف نہ ملے۔اگر یہ معاملہ دب گیا تو راؤ جیسے نام نہاد انکائونٹر سپیشلسٹ کے ہاتھوں اسی طرح بے گناہ نقیب مرتے رہیں گے اور ہم بے بسی سے صرف کڑھتے رہیں گے۔
نوٹ: (میں نے پولیس مقابلے کو جعلی مقابلہ یا ماورائے عدالت قتل لکھا ہے اورجان بوجھ کر کہیں بھی مبینہ کا لفظ استعمال نہیں کیا اس کی وجہ میراکامل یقین ہے کہ راؤ انوار میں اصل مقابلے کی صلاحیت ہے نہ ہمت و جرات، وہ ایک اداکار ہے اور اسی طرح مقابلے اسٹیج کرواسکتا ہے) ۔

اداریہ