Daily Mashriq


قومی بیانیہ اور زمینی حقائق

قومی بیانیہ اور زمینی حقائق

دہشت گردی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اس کی شکلیں اور صورتیں جدا اس کے محرک اور اسباب الگ اس کے علمبردار دنیا کی تمام تہذیبوں اور مذاہب وممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ مگر المیہ یہ کہ گزشتہ دو عشروں سے یہ اصطلاح مسلمانوں کے لئے مختص کر دی گئی ہے ۔ایسی فضاء بنا دی گئی کہ دہشت گردی کا تصور ذہن میں آتے ہی اسلام کی شبیہہ اورمسلمان کا سراپا اور خاکہ ذہن میں بنتا ہے ۔اسلام کے بعد پاکستان کو دہشت گردی کی علامت بنا کر دنیا میں پیش کیا گیا ۔عین اس وقت جب عراق اور افغانستان خون میں لتھڑے ہوئے اور بدترین حالات کا شکار تھے تو امریکہ کے ایک شہرہ آفاق میگزین کی ٹائٹل سٹوری میں پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک بنا کر پیش کیا گیا۔اس ملک کے سول سٹرکچر کے بکھرنے کی پیش گوئیاں کی گئیں ۔اس کے ایٹمی ہتھیاروں کے جیب کتروں کے ہاتھ لگنے کی افسانہ طرازی کی گئی ۔یہ منظر بڑی قربانیوں اور جدوجہد کے ساتھ بدلنے لگا ہے مگر خطرات کے بادل ابھی بھی پوری طرح چھٹنے نہیں پائے ۔ایسے میںایک دلچسپ خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق صدرمملکت ممنون حسین نے اسلام آباد انٹرنیشنل یونیورسٹی کے زیر اہتمام دہشت گردی اور انتہاپسندی کے حوالے متفقہ قومی بیانئے پر مشتمل کتا ب ’’پیغام پاکستان ‘‘ کے اجراء کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں تشکیل پانے والا آئین پاکستان ہی بنیادی بیانیہ ہے جبکہ علماء کا فتویٰ اس کی تائید کرتا ہے ۔اس سے دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔کتاب میں اٹھارہ سو علما کا فتویٰ شامل ہے جس میںخود کش حملوں کو فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ اس بار ریاست کی تائید اور حمایت سے علماء کرام نے باضابطہ اپنا بیانیہ جاری کیا اور اسے ریاست اور سرکار کی بھرپور تائید ملنے سے زیادہ اہمیت بھی حاصل ہوگئی ۔علماء کا فتویٰ بلاشبہ پاکستان میں پنپنے والی دہشت گردی اور انتہا پسندی کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ثابت ہوگا ۔بالخصوص وفاق المدارس کے علماء کا تعاون اور معاونت اس فتویٰ کی اہمیت کو مزید دوچند کر رہی ہے کیونکہ پاکستان میں خود کش حملوں کے ڈانڈے دیوبندی مکتبۂ فکر سے جا ملتے تھے ۔اسی لئے پرویز مشرف کے دور میں صوفی اسلام کو سرکاری چھتر چھائے میں متعارف کرانے کی کوشش کی گئی تھی مگر ممتاز قادری کے ہاتھوں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل نے اس فلم کو فلاپ کر دیا ۔وفاق المدارس نے من حیث المجموع پاکستان میں خود کش حملوں اور شدت پسندانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کی ہے ۔لال مسجد بحران میں وفاق المدارس کے علماء نے اپنے تئیں معاملہ ہر ممکن حد تک سلجھانے کی کوشش کی تھی مگر ان کی کوششیں اکارت چلی گئیں اور اس کے بعد پاکستان میں خود کش حملوں کا سیلاب سا آگیا تھا ۔اب قومی بیانیہ سامنے آنے کے بعد حالات میں بہتری کی امید تو ہے مگر بات وہی ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے ۔مغربی قوتیں اپنے مقاصد اور پوشیدہ مفاد کی تکمیل کے لئے مسلمان نوجوانوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔داعش نام کی تنظیم اس کا واضح ثبوت ہے ۔اس لئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فتاویٰ کے ساتھ ساتھ مغربی ملکوں کو اپنی ذہنی شیطانیت کو بھی ختم کرنا ہوگا ۔علمائے کرام کا فتویٰ بظاہر پاکستان کے حالات کے تناظر میں ہے ۔جس کی وضاحت صدر مملکت نے بھی کسی حد تک یہ کہتے ہوئے کی ہے کہ پاکستان ایک اسلامی دستور کے تحت چلنے والی ریاست ہے جس میں خود کش حملوں اور دہشت گردی کا جواز نہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کی دم توڑتی ہوئی موجودہ لہرکی تین بڑی وجوہات ہیں ۔اول یہ ہے کہ افغان جہاد کے خاتمے کے بعد سوسائٹی کی بے ہنگم ملٹرائزیشن کو روکا نہ جا سکا ۔ ملٹرائزیشن کے اس وسیع عمل کے بطن سے دہشت گردوں نے جنم لیا ۔جو بندوق ایک مخصوص سمت کی جانب تنی تھی اس میں سے کچھ بندوقوں کا رخ تبدیل ہوگیا ۔دوسرا یہ کہ اس ملٹرائزیشن کے ایک حصے کو جو پاکستان کی حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہورہاتھا بھارت اور امریکہ نے کھیل کو پاکستان پر ہی اُلٹنے کے لئے استعمال کیا ۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے موجودہ مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دووال کی یوٹیوب پر دستیاب تقریر میں اس حکمت عملی کو اختیار کرنے کا برملا اظہار کیا ہے ۔تیسرا یہ کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکی اتحاد کا حصہ بننا اور امریکہ اقدامات اور کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرکے ایک طبقے کو یہ کہنے کا موقع دیا کہ پاکستان اور امریکہ ایک سکے کے دورخ ہیں ۔لال مسجد بحران کو حل کرنے کی ناقص حکمت عملی نے اس تاثر او رذہنیت کو تقویت پہنچائی ۔ صاف لگ رہا تھا یہ بحران بھی پاکستان کو تشدد کے اندھے کنویں میں دھکیلنے کی غرض سے شروع کیا ہے۔اس طرح پاکستان میں دہشت گردی کی وجوہات کی مقامی ،نظریاتی اور بین الاقوامی جہتیں ہیں ۔اب جبکہ ریاست پاکستان خود کو امریکی جنگ سے الگ کر تی چلی جا رہی ہے تو امریکہ اور پاکستان کو ایک جیسا قرار دینے والوں کا موقف کمزور ہونا یقینی ہے ۔دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فتوئوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے لئے زمینی صورت حال کا بدلنا بھی ناگزیر ہے ۔ریاست کاقومی بیانیہ بجا مگر ریاست کو بھی اپنی ادائوں اور پالیسیوں پر غور کرنا چاہئے ۔ان پالیسیوں سے گلو خلاصی کرنی چاہئے جنہوں نے ریاست کی چولیں ہلا کر رکھ دی تھیں۔

متعلقہ خبریں