Daily Mashriq


قبائلی علاقہ جات کا انضمام و انتظام

قبائلی علاقہ جات کا انضمام و انتظام

انگریز1873 ء تک صوبہ سرحد کا انتظام تاج برطانیہ کے ریگولیشن نمبر 4 کے ذریعے چلا رہے تھے ۔ 1873 ء میں پنجاب فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے نفاذ سے انتظام چلنے لگا۔ اسکے بعد 1901 ء میں فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) کا نفاذ ہوا۔ 1935ء میں سرحدی علاقے کو صوبے کادرجہ دیا گیا اور چیف کمشنر کی جگہ گورنر کی تقرری کی گئی اور صوبائی اسمبلی کا قیام بھی عمل میں آیا۔ اب فرنٹیئر کرائمزریگولیشن صرف مرکزی حکومت کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں نافذ کر دیا گیا ۔ صوبائی قبائلی علاقہ جات نوابی ریا ستوں پر مشتمل تھے ۔سوات، ملاکنڈ ،دیر، چترال، امب اور نبیر کی ریاستں صوبائی حکومت کے زیر تسلط تھیں۔ 1969ء کو ایک حکم نامے کے ذریعے ان نوابی قبائلی ریاستوں کو صوبائی حکومت نے اضلاع کا درجہ دے دیا۔ مگر آئینی طور پر یہ اب بھی صوبائی قبائلی علاقہ جات کے زمرے میں آتی ہیں۔ مرکزی قبائلی علاقہ جات (FATA) وفاقی حکومت کے زیر تسلط ہیں اور یہاں گورنر، صدر پاکستان کے نمائندے یا ایجنٹ کی حیثیت سے حکومت کا انتظام کرتا ہے۔ فاٹا میں صوبائی قوانین نافذ کرنے کیلئے صوبائی گورنر کا خصوصی حکم نامہ ضروری ہے۔ جہاں تک فاٹاکا تعلق ہے تو آئین کے آرٹیکل 247(3) کی رُوسے مرکزی پارلیمان کا کوئی بھی قانون فاٹا میں نافذ العمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ صدر پاکستان مرکزی قبائلی علاقے میں اُس قانون کے نفاذ کا خصوصی حکم نامہ جاری نہ کرلے۔ آئین کے آرٹیکل 247 (7) کی روسے فاٹا کا علاقہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ فاٹا یعنی مرکزی قبائلی علاقہ جات آج کے دور میں بھی سلطنت بے آئین وبے قانون ہے اور یہاں پر ابھی تک انگریزوں کا بنایا ہوا کالا قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (FCR) نافذ ہے ۔ FCR ایک انتہائی ظالمانہ، جابرانہ اور بد عنوانی پر مبنی نا مکمل قانون ہے جو پولیٹکل ایجنٹ اور جرگے کے اشاروں کے گردگھومتا ہے۔ اگر کسی قبائلی کے ساتھ کوئی ظلم یا زیادتی ہوتی ہے تو پہلے وہ پولٹیکل ایجنٹ کے زیر سایہ کلر کوں، نائب تحصیلدار ، اور پولیٹکل ایجنٹ کو خوش کرے گا۔ پھر ممبران کی باری آتی ہے۔ جرگے اور پولیٹکل ایجنٹ کے فیصلے کے بعد کمشنر کو اپیل ہوتی ہے اور وہاں بھی انصاف مشکل ہوتا ہے۔ کمشنر کے فیصلے کے بعد فاٹا ٹریبونل کو نظرثانی کی درخواست ہوتی ہے وہ بھی ایک قسم کی اپیل ہے۔ فاٹا کے کالے قوانین سے بھی بڑا مسئلہ وہاں پر جائیداد اور زمین کا ریکارڈنہ ہونا ہے۔ زمین سے 2 لاکھ چالیس ہزار میل پرے چاند کے ایک ایک اینچ کا ریکارڈہے مگر فاٹا اور پاٹا میں زمین کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ یہ ہماری حکومتوں اور انتظامیہ کی انتہائی نااہلی کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک بہت بڑا ظلم ہے جو قبائل پر ہو رہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کرظلم یہ ہے کہ رجسٹریشن ایکٹ بھی نافذ نہیں ۔ مگر قبائلی علاقہ جات میں اب بھی جائیدادکی خرید فروخت زبانی یا عام سفید کاغذ پر بغیر رجسٹری کے ہوتی ہے جو فساد کا سب سے بڑا سبب ہے۔ 

حکومت کو چاہیے کہ تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے زمین کا ریکارڈ مرتب کرے اور رجسٹریشن ایکٹ کا نفاذ کرے جس سے فاٹا کے آدھے مسائل خودبخودحل ہوجا ئیں گے۔ اگر فاٹا کو بندوبستی علاقے میں شامل کر بھی لیا جائے اور زمین کا سروے یا ریکارڈ نہ ہو اور جائیداد کی رجسٹری نہ ہو تو فساد اوربڑھ جائے گا۔ ایک ایک جائیداد کے کئی کئی کاغذ بنا کر لوگ اٹھائے پھرتے ہیں اور ایک بہت بڑا فساد جاری ہے۔

گزشتہ تقریباً ایک سال سے پاکستان کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں فاٹا کو صوبہ سرحد میں ضم کرنے کا نعرہ لگارہی ہیں مگر کمال یہ ہے کہ جن کا یہ مسئلہ نہیں ہے وہ آئین پاکستان کو پڑھے بغیر نعرہ بازی کر رہے ہیں۔ قبائل سیاسی اور مذہبی طور پر انتہائی بیدار لوگ ہیں۔ وہ دور اندیش بھی ہیں اور موقع شناس بھی۔ انگریز بھی انکی دور اندیشی اور سیاسی بصیرت کے معترف تھے موجودہ حالات میں قبائل کی خاموشی کچھ حیران کن ہے۔

بہر حال ہمیں مدعی سست گواہ چست والا کردار نہیں ادا کرنا چاہیے۔ جن لوگوں یعنی قبائل کا یہ براہ راست مسئلہ ہے انکی کھلی رائے بذریعہ جرگہ کبیر، جیسا کہ آئین پاکستان میں تحریر ہے حاصل کرنی چاہیے۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ آیا فاٹا کے یہ قبائل خیبر پختونخوامیں ضم ہونا چاہتے ہیں یا دُوسرا یا علیحدہ صوبہ بنانا چاہتے ہیں بہر حال جرگہ کبیر یا قبائل کا بڑا نمائندہ جرگہ بلا نا اور انکی رائے حاصل کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں قبائلی علاقہ جات سے متعلق 12 جنوری 2018 کو جو بل منظور ہوا ہے اسکے ذریعے ایف سی آر (FCR) کا کالا قانون ختم نہیں ہوگا اور قبائلیوں کی پولیٹکل ایجنٹ کی غلامی جاری رہے گی۔ اس قومی اسمبلی کے بل کے ذریعے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار قبائلی علاقہ جات تک وسیع ہو گیا ہے جو قابل تعریف ہے۔ مگر قبائلیوں کا بڑا مطالبہ ایف سی آر (FCR) کے کالے قانون کا خاتمہ تھا۔

قبائل بھی اسی ملک کے باشندے ہیں جسکی رُو سے سستا انصاف، تعلیم، صحت اور ذرائع آمدورفت مواصلات انکا قانونی حق ہے۔

متعلقہ خبریں