Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ابتلاء الاخیار میں مذکور ہے کہ ایک دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ابلیس سے ملاقات ہوئی۔ وہ لعین پانچ گدھوں کو جن پر بوجھ لدا ہوا تھا‘ ہانکے لئے جا رہا تھا۔ آپؑ نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا لادے لئے جا رہا ہے؟ ابلیس نے جواب دیا: یہ مال تجارت ہے‘ اس کے لئے خریداروں کی تلاش میں جا رہا ہوں۔ پھر آپؑ نے اس سے دریافت کیا کہ کیا کیا مال تیرے پاس ہے؟ ابلیس نے اس مال کی تفصیل جو ان پانچ گدھوں پر لدا ہوا تھا‘ یہ بتلائی کہ:۔
1۔اس میں ظلم ہے‘ اس کو میں سلاطین کو فروخت کروں گا۔
2۔اس میں کبر( اپنے کو بڑا سمجھنا) ہے‘ اس کو سوداگر اور جوہری خریدیں گے۔
3۔اس میں حسد بھرا ہوا ہے‘ اس کے خریدار علماء ہیں۔
4۔اس میں خیانت بھری ہوئی ہے جس کو میں تاجروں کے کارندوں کو فروخت کروں گا۔
5۔اس میں مکر اورفریب ہے‘ اس کو میں عورتوں میں فروخت کروں گا۔
حضرت امیر معاویہؓ کے زمانے میں دو آدمی آپس میں لڑ پڑے۔ لڑائی میں ایک کا دانت ٹوٹ گیا جس کا دانت ٹوٹا وہ شخص اس کو پکڑ کر حضرت معاویہؓ کے پاس لے گیا اور کہا کہ دانت کابدلہ دانت ہوتا ہے‘ لہٰذا قصاص دلوائیے۔
حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے تمہیں حق ہے لیکن کیا فائدہ‘ تمہارا دانت تو ٹوٹ ہی گیا‘ اس کا بھی توڑیں‘ اس کے بجائے تم دانت کی دیت لے لو‘ دیت پر صلح کرلو۔ وہ شخص کہنے لگا کہ میں دانت ہی توڑوں گا۔ حضرت معاویہؓ نے دوبارہ اس کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانا۔ حضرت معاویہؓ نے فرمایا کہ پھر چلو‘ اس کا بھی دانت توڑتے ہیں۔
راستے میں حضرت ابو دردائؓ بیٹھے ہوئے تھے‘ بڑے درجے کے مشہور صحابی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھئی دیکھو! تم قصاص تو لے رہے ہو مگر ایک بات تو سنتے جائو۔ میں نے حضور اکرمؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کو تکلیف پہنچائے اور پھر جس کو تکلیف پہنچی ہے وہ اس کو معاف کردے تو حق تعالیٰ اس کو اس وقت معاف فرمائیں گے جبکہ اس کو معافی کی سب سے زیادہ حاجت ہوگی‘ یعنی آخرت میں۔تو یہ شخص یا تو اتنے غصے میں آیا تھا کہ پیسے لینے پربھی راضی نہیں تھا جب یہ بات سنی تو کہا کہ کیا آپ نے یہ بات رسول اقدسؐ سے سنی ہے؟ حضرت ابو دردائؓ نے فرمایا کہ ہاں‘ میں نے سنی ہے اور میرے ان کانوں نے سنی ہے۔ وہ شخص کہنے لگا کہ اگر حضور اقدسؐ نے یہ بات فرمائی ہے تو جائو‘ اس کو بغیر کسی پیسے کے معاف کرتا ہوں۔ چنانچہ معاف کردیا۔ نہ قصاص لیا اور نہ دیت۔یہ مثالی معاشرے کی ایک جھلک ہے‘ ایسی مثالیں ہمارے آج کے معاشرے میں ملنا نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔
(ماخوذ از: آج کا سبق‘ صفحہ121‘
تالیف: مفتی اعظم حضرت مولانامحمد شفیعؒ)

اداریہ