Daily Mashriq

 ہر جج قانون کا پابند ہے اور قانون کی پاسداری کرنا اس کے فرائض میں شامل ہے،جسٹس ثاقب نثار

ہر جج قانون کا پابند ہے اور قانون کی پاسداری کرنا اس کے فرائض میں شامل ہے،جسٹس ثاقب نثار

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے جس جج نے پانچ پانچ ماہ میں فیصلے لکھنے ہیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں اسے گھر چلے جانا چاہیے۔

ویب ڈیسک :لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے  چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ واقعتاً ایک واچ ڈوگ ہے، شہری کو اس کا حق دلانے، مجبوری سے نجات دلانے کے لیے جو ادارہ کام کررہا ہے وہ عدلیہ ہے اور اس میں قابل احترام لوگ ہیں، ججز کے لیے اللہ نے کمال حیثیت پیدا کردی، انصاف کرنا اللہ کی ایک صفت ہے، اس میں رزق بھی دیا، عزت بھی دیدی، آپ اس ادارے میں بطور منصف کے کام کرکے اپنی مغفرت کا بھی ایک ذریعہ بناسکتے ہیں۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ قیامت کے روز جو سب سے پہلے پکار ہوگی وہ منصف قاضی کی ہوگی، تو منصف قاضی بنو، اگر کوئی جج بن کر خود کو اونچی نسل کا سمجھتا ہے تو وہ بہت بڑی غلطی پر ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ  انصاف کرنا ہمارا کسی پر احسان نہیں،  کسی جج کو اختیار نہیں کہ وہ انپی من مرضی اور منشا کے مطابق فیصلہ کرے، وہ قانون کا پابند ہے اور قانون کی پاسداری کرنا اس کے فرائض میں شامل ہے، قانون کے مطابق فیصلے کرکے لوگوں کے حق ادا کرنا ہیں، مظلوم کی داد رسی کرنا ہے، یہ لگن سے کرنا پڑے گا، اگر یہ چیزیں نہیں ہیں تو چھوڑ دو کوئی اور کام کرلو۔ اگر پانچ پانچ ماہ فیصلے نہیں لکھنے تو کوئی فائدہ نہیں ، اگر میں نے اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرنا تو مجھے اپنے سیٹ پر رہنے کا حق نہیں، مجھے گھر چلے جانا چاہیئے۔

متعلقہ خبریں