Daily Mashriq


فضا مکدر کئے بغیر انتظار کی ضرورت

فضا مکدر کئے بغیر انتظار کی ضرورت

وزیرا عظم محمد نواز شریف کی جانب سے اس امر کی یقین دہانی کہ وہ محاذ آرائی نہیں کریں گے اسمبلی تحلیل نہیں ہوگی اور جو فیصلہ عدالت کی طرف سے آئے گا اسے قبول کیا جائے گا پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھی استعفے کے مطالبے پر زور دینے کی بجائے عدالت کے فیصلے کے انتظار کا عندیہ خوش آئند ہے ۔ ایک عدالتی معاملے کو سیاسی درجہ حرارت کا پارہ چڑھانے کا رویہ کسی طور مناسب نہ تھا مگر مختلف جانب سے اس معاملے کو ایک خاص رنگ دینا اور تحقیقات و شواہد اور دلائل کے بعد عدالت سے نتیجہ آنے کا انتظار کئے بغیر معاملات کو اچھا ل کر ملکی فضا کو مکدر کرنا کسی طور بھی دانشمند ی کا تقاضا نہ تھا مگر پہلے عدالت عظمیٰ میں پیشیوں کے مواقع پر اور بعد ازاں جے آئی ٹی کی تحقیقات سے لیکر تا ایندم مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ کی طرف سے جو رویہ اختیار کیا گیا بادی النظر میں اس کی وجوہات اور مصلحتیں جو بھی ہوں اس سارے عمل میں عدالتی اور تحقیقاتی عمل اگر متا ثر نہ بھی ہو ا ہو تو فضا ایسی ضرور بن گئی تھی گویا یہ معاملہ قانونی اور عدالتی نہ ہو سیاسی ہو ۔ گوکہ تحریک انصاف اور متعلقین اس معاملے کو زندہ رکھ کر محاذ گرمانے کی سعی میں کامیاب بھی رہے لیکن اگر حقیقی معنوں میں دیکھاجائے تو فضا کو مکدر بنانے سے ان کی بجائے دوسرے فریق کو زیادہ فائدہ ملا اور اصل معاملے پر سے لوگوں کی توجہ ہٹ گئی۔ وطن عزیز میں جو خود قابل احتساب گردانے جاتے ہیں وہ بھی احتساب کا علم بلند کرنے کو حالات کا تقاضا خیال کرتے ہیں۔ وطن عزیز کے عوام خواہ وہ جس سیاسی جماعت سے بھی متعلق ہوں وطن کی محبت اور ملک کی حالت کی بہتری کا واحد ذریعہ احتساب اور حقیقی معنوں میں احتساب ہی کو سمجھتے ہیں۔ حقیقی احتساب سیاسی نعروں کی گونج انتقام والزام کی ڈھال استعمال کر کے خود کو بچانے کا ذریعہ پیدا کرنے کے ماحول میں نہیں ہو سکتا۔ عدالت کو جہاں ثبوتوں اور دلائل سے معاملات دیکھنا ہوتا ہے اس کیلئے بھی بہرحال ماحول کی اہمیت ہوتی ہے۔ بنا بریں ہر د و فریق اور جملہ سیاسی جماعتیں کو اس امر کے ادراک کی ضرورت ہے کہ وہ اور میڈیا جب اپنی اپنی عدالتیں لگا نا بند کریں گے اور تمام ترتوجہ مقدمے کی کارروائی اور عدالت سے انصاف کی توقعات کی وابستگی پر لگائیں گے اور عدالتی فیصلے کو خوش دلی سے تسلیم کرنے اور کسی بھی فیصلے سے مزید سیاست جنم لینے کے بجائے اسے عدالتی فیصلہ اور اس ضمن میں محولہ باب ختم کرنے کا رویہ اپنائیں گے تبھی ملک میں احتساب کی روایت قائم ہوگی ۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں عدالت سے سزا اور عدالت سے بری کی ہر دوصورتوں کو اس قدر سیاست زدہ کردیا جاتا ہے اور اس کا سیاسی استعمال اور پروپیگنڈہ اس انداز سے کیا جاتا ہے کہ معاملہ عدالتی ہونے کے باوجود سیاسی بن جاتا ہے اور سزاوار کی تقصیر بھی اس کی تقدیر بن جاتی ہے یا بنائی جاتی ہے ۔ اس کے قصور وار عوام بھی ہیں ۔ کتنی ایسی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں جن میں عدالتی فیصلے کی رو سے منتخب ارکان نا اہل قرار پائے مگر جب وہ عوام کی عدالت میں گئے تو ووٹوں کاہار انہی کے گلے میں ڈالا گیا اور وہ ایک مرتبہ پھر ایوان اقتدار پہنچ گئے ۔ پانامہ لیکس کو اگر سیاست زدہ کر کے یہ مثال دہرائی جاتی ہے تو عدالت سے آنے والا فیصلہ ایک قانونی فیصلہ ہی ہوگا مگر اس کے اثرات محدودہوں گے ۔ اگر ہمیں معاشرے اور ملک سے بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ مطلوب ہے تو اس کیلئے افراد اور عہدوں کی بجائے اس فعل کو بر ا ثابت کرنے پر توانائیاں صرف کرنا ہوں گی جو قوم کیلئے ناسور بن چکا ہے بہر حال خوش آئندامر یہ ہے کہ تمام تر شور وغو غا کے باوجود قانون کو اپنا راستہ لینا ہے جس کی پابندی طوعاً کرھاً سہی ہر ایک کو کرنا ہی ہوگی ۔ اس موقع پر عدالت کی مدد اور ماحول پیدا کرنے کیلئے کرپشن و بد عنوانی اختیار ات کے ناجائز استعمال اور پیسہ بنانے کی ان کوششوں کو جو مباح نہ ہوں اجا گر کرنے اور ان کی ہرسطح پر مذمت اوراس کے مرتکبین خواہ وہ جو بھی ہوں حکمران ہوں کہ سیاستدان، مدرسیں ہوں کہ معلمین جج ہوں کہ جرنیل صحافی ہوں کہ بیورو کریٹس بلاامتیاز احتساب کی فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے اس طرح کے ماحول سے جہاں اس فعل قبیح سے نفرت اور اس کے خلاف شعور اجا گر ہوگا وہاں معاشرے میں ان عناصر کو بری نظر سے دیکھنے کا رجحان پیدا ہوگا جس معاشرے میں رشوت اور بد عنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو کارنامہ قرار دینے اور اس کے بلا خوف کرنے کا وتیر ہ ہو اس معاشرے میں کسی عدالتی فیصلے سے تبدیلی واصلاح کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ہمارا مطمح نظر بد عنوانی کے ارتکاب کا خاتمہ اور بد عنوان عناصر کا احتساب ہونا چاہیئے۔ یہ دیکھے اور یہ جانے بغیر کہ اس میں ملوث کون ہیں اور اس کے سیاسی مضمرات کیا ہوں گے ۔ وزیراعظم کے پاس عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے کے علاوہ تو کوئی راستہ نہیں البتہ سیاسی طور پر وہ مختلف آپشنز کا استعمال کر سکتے ہیں ان کی جانب سے اسمبلیوں کو تحلیل نہ کرنے کا عندیہ جملہ سیاسی جماعتوں کیلئے بھی قابل قبول اور موزوں اقدام ہونا چاہیئے اس عندیہ کے بعد سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاملات کو کشیدگی اور سیاست زدہ بنانے کی بجائے قدر توقف اور انتظار کرنے کا لائحہ عمل اختیار کریں ۔ تاکہ جہاں عدالت کو ایک موزوں فضا میں فیصلہ دینے کا موقع ملے وہاں عدالتی فیصلہ آنے کے بعد اس کے نتائج سیاست کے شور میں گم نہ ہوں ۔

متعلقہ خبریں