Daily Mashriq


پبلک سروس کمیشن کے پی کوفعال بنایا جائے

پبلک سروس کمیشن کے پی کوفعال بنایا جائے

خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی سست روی اب ضرب المثل بن گئی ۔ہے مختلف آسامیوں کیلئے درخواست دینے والے امید وار جب بھول جاتے ہیں تو ان کو ٹیسٹ کا پروانہ آجاتا ہے پھر انٹر ویو کی باری آتی ہے اور اکثر و بیشتر اس امر کا علم نہیں ہو پاتا کہ تقرریوں کا کیا ہوا ۔ امید واروں کے دفتر سے رجوع کر نے پر صرف اتنا مختصر جواب ملتا ہے کہ اس پر تقر ریاں ہو چکیں ۔ میرٹ کا کیا بنا تقر ریاں کس کی ہوئیں اور امیدواروں کے نام کیا ہیں ان کا نہیں بتایا جا تا یہ تو ایک عام شکایت رہتی ہے۔ دوسری جانب پبلک سروس کمیشن کی ویب سائیٹ ضرور ہے لیکن اس میں امید واروں کی تسلی کیلئے کافی معلومات کی کمی کی شکایت عام ہے۔ بہر حال اس کی بہتروضاحت متعلقہ حکام ہی کر سکتے ہیں مگر مشاہد ے کے مطابق وہ عموماً اس طرح کی زحمت نہیں کرتے اور نہ ہی امید واروں کو تسلی بخش جواب دینا یا کسی غلط فہمی کا ازالہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اس طرح کے ماحول میں عدم اعتماد کی فضا کا پیدا ہونا اور شکو ک و شبہات کا ابھر نا فطری امر ہے اگر تھوڑی سی سعی کی جائے تو بڑی حد تک غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے ۔ کسی امتحان میں شرکت کے خواہاں اور شریک شدہ امیدواروں کو اگر جاننے اور معلومات کا حق دیا جائے تو اس سے ممتحن ادارے اورا مید وار وں میں اعتمادبڑھے گا ۔ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کی بلاوجہ تاخیر پر مبنی اقدام کسی سے پوشیدہ نہیں پروونشل مینجمنٹ سروسز کے تحریری امتحان کا چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا اور امید وار ابھی تک نتیجہ کے انتظار میں ہیں۔ اسی طرح مختلف اسامیوں کیلئے امید واروں نے سارے مراحل خوش اسلوبی سے طے کئے ہیں پبلک سروس کمیشن کی سفا رش اور متعلقہ محکمے کی جانب سے تقرر نامے کا انتظار ہے مگر امید وار سینڈ وچ بن کر رہ گئے ہیں۔ کیا ایسا ممکن نہیں کہ پبلک سروس کمیشن کو فعال بنایا جائے اور امید واروں کو اس مشکل سے نجات ملے ۔ صوبائی حکومت نے کمیشن کو فعال بنانے کیلئے ڈویژنل سطح پر اس کے دفاتر کے قیام اور تقسیم کے ذریعے کمیشن کی کارکردگی بہتر بنانے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس پر ایک فیصد بھی عملدرآمد نہیں ہوا معلوم نہیں اس منصوبے کا کیا بنا ۔ بہتر ہوگا کہ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن کے معاملات کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور حد درجہ تاخیر کی وجوہات کاجائزہ لیکر ان کو دور کیا جائے ، امید واروں کی شکایات دور کی جائیں اور ان کا اعتماد بحال کیا جائے ۔

پنشنروں کے مسائل حل کرنے کی ضرورت

معمر پنشنر ز ہمارے معاشرے کا وہ طبقہ ہے جن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ان کے مسائل بے شمار ہیں اگر دیگر مسائل نہ بھی ہوں تو صحت کا مسئلہ ہی اس طبقے کو زیر کرنے کیلئے کافی ہے لیکن فی الحقیقت ایسا نہیں بلکہ اگر دیکھا جائے تو یہ طبقہ سب سے زیادہ مسائل کا شکار ہے ۔ مہینے کی پہلی تاریخوں میں پنشنروں کی حصول پنشن کیلئے کھڑی لمبی قطار سے ان کی مشکلات وضروریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کی مجبور ی کا عالم اس سے ظاہر ہے کہ جس قطار میں گھنٹوں کھڑے ہوتے ہیں اس میں کھڑے افراد کو اس امر کا یقین بھی نہیں ہوتا کہ حال کی تاریخ میں ان کی باری آئے گی اور وہ پنشن لے سکیں گے ۔ پنشنروں کو یہی شکوہ رہتا ہے کہ سوائے پی پی پی کی حکومت کے کسی ایک حکومت نے بھی ان کے پنشن میں معقول اضافہ نہیں کیا پنشن میں دس فیصد اضافہ کافی سمجھا جاتا ہے دس فیصد سے پنشن میں اضافہ ہی کتنا ہوتا ہے اس سے کسی کو غرض نہیں ہوتی سرکاری اداروں سے پنشن پانے والوں کے مسائل کے بر عکس ای او بی آئی کے پنشنروں کے مسائل ومشکلات کہیں بڑھ کر ہیں ۔ ای اوبی آئی کے قیام کا مقصد غیر سرکاری اداروں سے ریٹائرہونے والے شہریوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد اچھی گزر بسر کیلئے ریلیف فراہم کرنا ہے ، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے اس ادارے سے مستفید ہونے والے افراد تک وہ فوائد نہیں پہنچ رہے جس کے وہ حقدار ہیں ۔ اس وقت ای او بی آئی پنشنرز کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ ان پنشنر ز کو ماہانہ 5250روپے پنشن دی جاتی ہے جو مہنگائی کے اس دور میں گزر بسر کیلئے ناکافی ہے ۔ جہاں ایک طرف ای او بی آئی کے پنشنر ز کی تعداد زیادہ ہوئی ہے وہی اس ادارے کے اثاثوں میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوا ہے مگر ان کا درست استعمال کیا جارہا ہے ۔ حکومت کو چاہیئے کہ بجٹ میں ای او بی آئی کے پنشنروں کا بھی خیال رکھے اور ان کی پنشن میں اضافہ کیا جائے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ متعلقہ حکومتیں پنشنروں کے مسائل و مشکلات کا ادراک کریں گی اور آئندہ بجٹ میں پنشنروں کے پنشن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا اور اگر ممکن ہوتو رواں مالی سال کے دوران ہی پنشنروں کو ریلیف دیا جائے ۔

متعلقہ خبریں