عدالت کا احترام سرآنکھوں پر

عدالت کا احترام سرآنکھوں پر

لاہورہائی کورٹ کا حکم سرآنکھوں پرجس کے رو سے اب پاکستانیوں کی آنکھوں کی تواضع بھارت میں بننے والے ڈراموں سے بھی کی جائے گی۔ بھارتی فلموں پرپہلے ہی پابندی اُٹھائی جا چکی ہے عدالت نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ اس حکم سے سرتابی کی جرأت نہیں لیکن مزیدگزارش سے پہلے ایک واقعہ پیشِ نظر ہے۔ میرا مرحوم چھوٹا بھائی اور اس کی بیوی مرحومہ دونوں متمول تھے۔ کراچی میں رہتے تھے ۔ وی سی آر کے زمانے کی بات ہے جب دوبئی سے سمگل ہونے والی بھارتی فلموں کی ویڈیو کیسٹس گھروں میں چلائی جاتی تھیں۔ میرے بھائی نے مجھے بتایا کہ ایک دن میرے دل میں ہول سا اُٹھا اور میں دفتر سے جلدی گھر روانہ ہو گیا۔ وہاں پہنچا تو بیوی حادثے کی وجہ سے بے ہوش پڑی تھی۔ نوعمر بچوں میں سے بڑا بیٹا ایک ٹانگ پر کھڑا آنکھیں بند کیے ہاتھ جوڑے لب ہلا رہا تھا اور چھوٹا بیٹا ایک بڑی پلیٹ اُٹھائے اسے گھما رہا تھا۔ دونوں ماں کے لیے پراتھنا کر رہے تھے۔ میرے بھائی نے بتایا کہ اس نے سب کوگاڑی میں ڈالا بیوی کو ہسپتال لے گیا اور گھر آنے سے پہلے بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے کے لیے قاری صاحب کا بندوبست کرلیا۔ اس سے قارئین کیا اخذ کرتے ہیں یہ ان پر منحصر ہے۔ بھارتی ڈراموں کے نشر کیے جانے کے حق میں لیو کمیونی کیشن کی درخواست کی سماعت کے دوران عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگربھارتی فلموں سے ہماری ثقافت متاثر ہورہی ہے اور نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں تو پیمرا نے اپنے تحریری جواب میں اس کا تذکرہ کیوں نہ کیا۔ واقعی سوال اہم ہے کہ پیمرا نے اپنے تحریری جواب میں ایسا تذکرہ کیوں نہ کیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پیمرا کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے ہم کب تک بلاجواز پابندیاں عائد کرتے رہیں گے۔ اور عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے پاکستان میں بھارتی فلمیں' ڈرامے اور ویڈیو دکھانے کی اجازت دے دی۔ 

پیمرا کے وکیل نے یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ بھارت میں لذت بصارت و سماعت کے لیے جومواد تیار ہوتاہے۔ وہ ظاہر ہے کہ بھارتی ثقافتی اور معاشری اقدار کے فروغ کا باعث بنتا ہے جس کے بہت سے پہلو پاکستانی ثقافتی اور معاشری اقدار سے متصادم اور برعکس ہیں۔بلکہ پیمرا کے وکیل نے کہا ہے کہ یہ پیمرا کی پالیسی ہے کہ اور پالیسی پر کوئی بات نہیں کی جاتی۔آخر پیمرا کی پالیسی جب بنائی گئی ہوگی تواس پر کبھی بحث ہوئی ہو گی ، کوئی نوٹنگ ڈرافٹنگ ہوئی ہو گی ، کوئی سمری تیار کی گئی ہو گی اور اس میں موجود دلائل پر پالیسی مرتب کی گئی ہوگی۔ پیمرا کے وکیل نے پالیسی مرتب کرنے کے لیے جو کارروائی کی گئی ہو گی اس پر اپنے دلائل کی بنیادکیوں نہ رکھی۔ عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ پیمرا نے بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت دے رکھی ہے تو بھارتی ڈراموں کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ عدالت نے یہ بھی سوال اُٹھایا کہ جب وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے تو پیمرا الگ ڈگر پر کیوں چل رہا ہے۔ پیمرا کے وکیل کے پاس شاید اس کا کوئی جواب نہ تھا محض یہ کہ یہ پالیسی کامعاملہ ہے اس میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔
ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان میں ایک جیسے لوگ بستے ہیں ، تقریباً ایک سی زبانیں بولتے ہیں ان کے مسائل بھی زرعی معاشرے کے ماضی کی بنا پریکساں ہیں۔ اور یہ جو پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد کی لکیر ہے یہ تاریخ کا حادثہ ہے۔1947ء سے پہلے کے ''پرتاپ''، ''ملاپ'' اور ہندو پریس کے مضامین اور ولبھ بھائی پٹیل کی قبیل کے ہندو سیاستدانوں کے وعظ بھی یہی کہتے تھے کہ پاکستان بنا توچند سال میں ناکام ہوجائے گا۔لیکن درج بالا مماثلتوں کے باوجود پاکستان اور بھارت دو الگ معاشری اقدار اور معاشی نظاموں پر استوار حقیقتیں ہیں۔ انگریز کے آنے کے بعد یہاں کچھ سطحی تبدیلیاں آئیں ۔ انگریز کے لائے ہوئے نظام عدالت نے بہت کچھ تبدیل کر دیا لیکن ہزاروں سال کی معاشرت کے اثرات آج بھی اجتماعی ضمیر کے گوشوں سے منعکس ہوتے رہتے ہیں۔ بھارتی معاشرہ میں سرمائے کا بہت احترام ہے ۔شوہر مر جائے تو اس کی بیوی جو ایک معاشی بوجھ ہے اسے جلا دینا معاشری عموم تھا اور اس کی بہت قدر افزائی کی جاتی تھی۔ انگریز کے آنے کے بعد زبردستی اس رسم کو ختم کیاگیا لیکن معاشری سوچ میں اس کی جڑیں موجود ہیں۔ جو ایک مذہبی حیثیت رکھتا ہے حالانکہ اس میں محنت کی کمائی کا احترام ختم ہوجاتا ہے۔ بھارتی غلام داری نظام میں شودر کبھی آزاد نہیں ہو سکتا۔ پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے ان علاقوں میں اگرچہ ہندومت کے عقائد اور رسومات تھیں لیکن جس انسان دشمن معاشری نظام کے رسوم ورواج کا ذکر سطور بالا میں کیاگیاہے ان علاقوں میں بسنے والوں میں رائج نہ تھیں۔ان علاقوں کے رہنے والوں نے اسلام قبول کیا جس میں جو ا حرام ہے اور شادی ایک معاہدہ ہے۔ بیوہ کی شادی رائج ہے۔ موضوع بہت تفصیل طلب ہے تاہم درج بالا چند اشارات کی بنیاد پر ہی بھارتی اور پاکستانی معاشرے کے ضمیر اجتماعی میں فرق دیکھا جاسکتا ہے۔ آج کابھارتی معاشرہ قدیم بھارتی سماج کے احیاء کی کوشش کررہاہے۔ اور اس کامیڈیا بھی اس کوشش سے خالی نہیں ہے۔ بھارتی ڈراموں کے پاکستان میں نشر کیے جانے کی اجازت طلب کرنے والوں کے کچھ تجارتی مفادات ہوں گے یا نہیں ہوں گے ۔ممکن ہے وہ محض مجرد آزادی کی سوچ کے حامل ہوں تاہم یہ سوال کسی نے نہیں اٹھایا کہ بھارتی ڈراموں پر پابندی ہے تو بھارتی فلموں پرپابندی کیوں نہیں؟یہ سوال کسی نے نہیں اٹھایا کہ پاکستان کے فلمیں اور ڈرامے بنانے والے اتنے مفلس کیوں ہیں کہ وہ پاکستانیوں کو صحت مند اور خوبصورت تفریح نہیں دے سکتے۔ اس موضوع کے لیے کئی نشستیں درکار ہوں گی ۔ پھر کبھی سہی۔

اداریہ