Daily Mashriq

ایک کالم اپنی بستی کی تعریف میں

ایک کالم اپنی بستی کی تعریف میں

ہماری طرح ایک بزرگ شہری نے پائنچے اٹھا کر سڑک پر کھڑے بارش کے پانی کے جوہڑ کو پار کیا اور قریب آکر ہم سے کہنے لگے پروفیسر صاحب گزشتہ سال بیٹے سے ملنے انگلینڈ گیا تھا۔ یہی رات کے کوئی گیارہ بجے کا وقت ہوگا اچانک ہمارے گھر کے سامنے سائرن بجاتی دو گاڑیاں آکر رکھیں۔ گاڑیوں کی ہیڈ لائٹس سے ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ روشنیاں دیکھ کر گھر کی دوسری منزل کی کھڑکی کا پردہ سرکا کر باہر دیکھا تو ایک ہنگامہ بر پا تھا۔ ٹریفک وارڈنز ہاتھ کے اشارے سے گاڑیوں کو متبادل راستے پر جانے کے اشارے کر رہے تھے۔ فکر لاحق ہوئی کہ کہیں سڑک کے کنارے پڑے کسی بم کو ڈی فیوز کرنے کے لئے تو یہ سب کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ صورت حال معلوم کرنے نیچے اترا۔ دیکھا تو دو آدمی سڑک پر سفید دائرہ کھینچ کر اسے خود کار مشین سے کھودنے میں مصروف تھے۔ نشان زدہ حصے کے گھڑے کو فوری طور پر دوسری گاڑی میں پڑے میٹریل سے بھر دیا گیا۔ اس پر پریمکس بچھا دیا گیا اس سارے عمل کو مکمل کرنے پر30'40 منٹ سے زیادہ نہیں لگے اور اس کے بعد ساری گاڑیاں سیٹیاں بجاتی ہوئی روانہ ہوگئیں۔ پتہ چلا کہ کسی نے متعلقہ محکمے کو فون پر کھڑے پانی کی اطلاع دی تھی۔ اس کی مرمت کے لئے کسی مجاز افسر کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ محکمے نے علاقہ مکینوں کو اگلے بجٹ میں فنڈز کی فراہمی تک انتظار کرنے کے لئے نہیں کہا' نہ کوئی وفد مجاز افسر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ محکمے کو اطلاع ملی اور دوسرے ہی لمحے سڑک پر کھڑے پانی کی وجہ معلوم کرکے اس کی مرمت کردی گئی۔ ایسے کچھ اور واقعات بھی انہوں نے سنائے اور پھر پوچھا کیا یہ سب کچھ ہمارے ملک میں ممکن نہیں۔ ہمارے پاس ان کے اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ اب ہم یہود و نصاریٰ کی اخلاقیات اور کاموں کی تعریف تو نہیں کر سکتے تھے۔
ہم اپنے ایک دیرینہ رفیق کار کو روزانہ سیمنٹ ملی بجری سے اپنے محلے کی گلی میں پڑے گھڑوں کو بھرتے دیکھتے ہیں۔ پوچھا تم کب تک ان گھڑوں کو بھرتے رہو گے' کیا کریں ان راستوں پر سے تو ہمیں گزرنا پڑتا ہے یہی کوئی 25 سال پہلے کی بات ہے جب ہم بستی میں مکان بنا کر رہنے لگے تو وہاں بارش کے بعد سڑکوں پر پانی کے جوہڑ دیکھ کر انکشاف ہوا کہ اس جدید بستی میں بارش کے پانی کے نکاس کا کوئی بندوبست ہی نہیں کیا گیا۔ ہم منصوبہ بندی اور انجینئرنگ کے اس کمال کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بادلوں کے یہ آنسو علاقہ مکینوں کی آہوں سے بھاپ بن کر خود بخود سوکھ جاتے ہیں۔ گھروں کی صفائی کا پانی بھی سڑکوں پر ہی جمع ہوتا رہتا ہے۔ خالی پلاٹوں میں مدتوں بارش کا پانی مچھروں کی افزائش نسل کے لئے نرسری میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ہماری بستی میں کوڑا اٹھانے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں۔ اتھارٹی والوں نے کہیں سے سن رکھا ہے کہ یورپ میں کوڑے کچرے سے گیس بنتی ہے۔ لگتا ہے وہ بھی علاقہ مکینوں کو اپنے گھروں میں گیس پلانٹ لگانے کی ترغیب دینا چاہتے ہیں۔ فی الوقت تو خالی پلاٹوں میں غلاظتوں کے ڈھیر کتوں کی خوراک کے سٹورز ہیں۔ کباڑئیے بوتلیں اور دوسرا سامان اس میں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ اتھارٹی والوں نے البتہ کوڑا اٹھانے کے لئے ایک گاڑی کا بندوبست کر رکھا ہے۔ گاڑی سے آپ کا ذہن ٹرک' سوزوکی وین یا پھر ٹریکٹر ٹرالی کی طرف منتقل ہونے سے پہلے فوری طور پر آپ کی یہ خوش فہمی دور کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک گدھا گاڑی ہے جسے ایک نیم جان شخص خزلہ شتہ کی آواز لگاتے ہوئے گلی میں سے کبھی کبھار گزرتا ہے۔ اس کھلی گدھا گاڑی سے کوڑا کرکٹ اٹھانے کی بجائے نسبتاً صاف راستوں پر غلاظت پھیلانے کا کام لیا جاتا ہے۔ یہ گاڑی جہاں سے بھی گزرتی ہے اس سے غلاظت ٹپکتی رہتی ہے۔ آج کل مردان کی اس جدید بستی میں سیوریج سسٹم پر بڑے زور و شور سے کام جاری ہے جو تسلی بخش طور پر ہو رہا ہے لیکن ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ اتھارٹی کے کسی ذمہ دار افسر نے کبھی اس کام کے پراگرس کو دیکھنے کے لئے اپنے دفتر سے باہر نکلنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ سیوریج سسٹم کے لئے نئے پائپ بچھانے کی وجہ سے پرانے گٹرز بند ہوچکے ہیں۔ غلیظ پانی گلی کوچوں میں بہہ رہا ہے۔ اتھارٹی کے نلکوں سے پانی نہیں صرف ہوا خارج ہوتی ہے۔ گٹرز کا پانی زمین میں جذب ہونے لگا ہے۔ آلودگی اور بد بو کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہا۔ آج کے اخبارات میں خبر لگی ہے کہ صوبے میں یرقان کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ یہی وہ غلیظ پانی ہے جو جدید بستیوں میں عوام کو فراہم کیا جاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ زہر آلود پانی کے بلز بڑی باقاعدگی کے ساتھ لوگوں سے وصول کئے جا رہے ہیں۔ ہم نے مجاز اتھارٹی کو اپنے مسائل سے آگاہ کرنے کا ارادہ اس خیال سے ترک کردیا کہ اتھارٹی بے چاری کیا کیا کرے گی۔ آوارہ کتوں کو ٹھکانے لگائے گے جن کے کاٹنے سے اب تک ایک خبر کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں صوبے کے سترہ ہزار افراد ہسپتالوں تک پہنچ چکے ہیں۔ صاف پانی کا بندوبست کرے کہ گندے پانی کے استعمال سے یرقان کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ابلتے گٹرز بند کرے جو پینے کے پانی میں شامل ہو رہا ہے۔ ٹوٹی پھوٹی گلیوں کی مرمت کرے جو علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت بنا رہے ہیں ۔ اس سے تو بہتر ہے کہ ہم اپنے گائوں کے نیم پختہ مکان کو لوٹ چلیں' سکون سے زندگی تو بسر ہوگی۔

اداریہ