اخلاقی اقدار کا زوال محض قابل مذمت ہی نہیں

اخلاقی اقدار کا زوال محض قابل مذمت ہی نہیں

سیاسی جماعتوں میں لوگوں کی آمد و رفت ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ کچھ لوگ اقتدار کی ڈوبتی کشتی سے اترتے ہیں۔ کچھ ہمیشہ مستقبل محفوظ بنانے کے لئے سر گرم اور کچھ سیلانی طبیعت لوگ ہیں ہجرتوں کا ذائقہ چکھتے رہتے ہیں۔ فکری ارتقا بری چیز ہر گز نہیں۔ طالب علم اور سیاسی کارکن ہمیشہ سیکھتے رہتے ہیں۔ یہی زندگی ہے مگر ہمارے یہاں کی مروجہ سیاست میں اب سیاسی کارکن رہ ہی کتنے گئے ہیں۔ کم کم بہت کم۔ انویسٹروں کا زمانہ ہے۔ دو لگانے والے پانچ کماتے ہیں۔ حساب اوپر کی طرف چلتا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں تو اسمبلی کی ممبری دو تین کروڑ میں پڑتی ہے۔ پختونخوا اور بلوچستان میں انیس بیس کا فرق ہوگا۔ سیاستدانوں کو انویسٹر دنیا داری کے لئے اور مذہبی رہنمائوں کو انتخابات کے موقع پر عاقبت سنوارنے کے لئے امیدوار مل جاتے ہیں۔ جب ہر سو یہی چلن ہو اور قدر کا پیمانہ انویسٹر کی حیثیت تو پھر سیاسی کارکنوں کو کون پوچھتا ہے۔ خرچہ کرنے والا دریاں کرسیاں بچھانے کے لئے دیہاڑی دار لے آتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب سیاسی کارکنوں کی قدر ہوتی تھی۔ سیاسی کارکن بھی ایسے بانگے سجیلے ہوا کرتے تھے کہ بنس پر دار پر جھول جاتے۔ کوڑے کھاتے' قیدیں کاٹتے' سڑکوں پر پولیس تشدد کا سامنا با وقار انداز میں کرتے۔ گئے وقت کی باتیں ہیں۔ ہم بھی ان ماہ و سال کو بیت آئے ہیں۔ خان عبدالولی خان' ذوالفقار علی بھٹو' جی ایم سید اور غوث بخش بزنجو ان سیاستدانوں میں سے تھے جنہیں اپنے کارکنوں کے چہرے ہی نہیں نام بھی از بر ہوتے تھے۔ اب تو فقط سر مایہ کاروں کے اسمائے گرامی یاد رہتے ہیں لیڈروں کو۔ تمہید طویل ہوگئی۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں رونق میلہ لگا رہتا ہے۔ ہمارے محترم دوست عمران خان کی پارٹی میں ان دنوں قدم قدم پر رونق میلہ ہے۔ لوگ اپنی اپنی جماعتیں چھوڑ کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ آئندہ وفاقی حکومت تحریک انصاف کی ہوگی۔ طالب علم اس عام تاثر سے متفق نہیں۔ مستقبل کے بھید تو اللہ ہی جانتا ہے البتہ تجزیہ یہ ہے کہ مستقبل میں وفاق میں مخلوط حکومت ہوگی۔ اس کا حصہ تحریک انصاف ہوسکتی ہے۔ پختونخوا کے لوگ چونکہ تسلسل کے ساتھ دوبارہ اقتدار پچھلی حکومت کو نہیں دیتے اور کچھ ناقص کارکردگی بھی ہے سو لگتا یہی ہے کہ اگلی باری اس سہ فریقی اتحاد کی ہوگی جس میں تحریک انصاف کی سیاست کے خون کے تین پیاسے جمع ہوں گے۔ یعنی اے این پی' نون لیگ اور جے یو آئی(ف)۔ بہر طور یہ زمینی حقائق کی روشنی میں تجزیہ ہے۔ اس جملہ معترضہ کو ایک طرف رکھئے ہم اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔
سیاسی کارکن کے کلچر کا خاتمہ سرمایہ کاری کی سیاست کے بڑھاوے کا سبب بنا۔ ان حالات میں جب لوگ اپنی پرانی جماعتیں چھوڑ کر تحریک انصاف( خصوصاً پنجاب میں) جا رہے ہیں پی ٹی آئی کو چھوڑ کر دوسری جماعت میں شمولیت عجیب محسوس ہوتی ہے۔ لوگوں کو سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کا حق ہے اس پر قد غن نہیں لگائی جاسکتی نا ہی ایک پارٹی سے دوسری میں جانے والوں کو طعنے دینا درست ہوگا۔ افسوس یہ ہے کہ ہر جماعت جانے والوں کے بارے میں برا تاثر پھیلاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں ہونے والی سیاسی ہجرتوں پر مختلف جماعتوں کے رہنمائوں نے جانے والوں کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ پی ٹی آئی کی مرکزی مجلس عاملہ کی رکن محترمہ ناز بلوچ پارٹی چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوئیں تو شفقت محمود بولے وہ تو ایک عام کارکن تھی۔ 10سال کی سیاسی عمر میں پانچ پارٹیاں بدلنے والے فواد چوہدری کا تبصرہ تو بہت ہی عامیانہ تھا۔ افسوس جناب عمران خان پر ہوا۔ ایک تقریب میں ابرار الحق نے انہیں بتایا کہ ناز بلوچ پارٹی چھوڑ گئیں۔ عمران خان نے عجیب سے انداز میں کہا'' چھوڑو چلی گئی تو جائے اب وہ کسی کام کی بھی نہیں تھی''۔ سوشل میڈیا پر اس گفتگو کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ جس نے بھی دیکھا سنا اسے افسوس ہی ہوا۔ ہونا بھی چاہئے ایک خاتون کے بارے میں ذو معنی انداز میں جملے بازی سوقیانہ پن کے سوا کچھ نہیں۔ جب ایک سیاسی جماعت کا سر براہ اپنی سابق کارکن بارے اس طرح کی عامیانہ گفتگو کرے گا تو ٹائیگرز کی گفتگو کیا ہوگی۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ خود پی ٹی آئی کے اندر سے اس انداز تکلم کے خلاف مضبوط موقف سامنے آیا۔ پارٹی کے پڑھے لکھے نوجوانوں نے اپنے رہنمائوں اور قائد کی گفتگو کو افسوسناک قرار دیا۔ پچھلے دنوں پی پی پی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہونے والی محترمہ فردوس عاشق اعوان بارے بعض جیالوں کے تبصروں پر قمر زمان کائرہ اور دوسرے سنجیدہ رہنمائوں نے افسوس کااظہار کیا۔ ظلم یہ ہے کہ عالم دین اور حافظ کہلاتے ایک صاحب نے ناز بلوچ بارے جو تبصرہ کیا ویسا تبصرہ اس بازار والے دھندہ کرنے والیوں کے بارے میں بھی نہیں کرتے۔ ذاتی طور پر سیاسی ہجرتوں کو کفر نہیں سمجھتا۔ مطلب اور مفاد پر مبنی ہجرت اور نظریات میں اونچ نیچ دو مختلف باتیں ہیں۔ یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ اگر سیاست میں حصہ لینے والی خواتین بارے جملے بازی اور سوقیانہ تبصروں کا نوٹس نہ لیاگیا تو پھر بات دور تلک جائے گی۔ خواتین ہر حال میں قابل احترام ہیں۔ عورت کی عفت و عزت سماج کا مشترکہ اثاثہ ہے۔ ہمارے یہاں عجیب رواج ہے لڑتے دو مرد ہیں اور گالی گھر بیٹھی خواتین کو پڑتی ہے۔ کیوں بھئی؟ سیاسی قائدین کا فرض ہے کہ وہ سیاسی عمل میں شریک عزت مآب خواتین کے وقار و احترام اور عزت نفس کا نہ صرف خود خیال رکھیں بلکہ اپنے کارکنوں اور سرمایہ کاروں کو بھی سمجھائیں۔

اداریہ