Daily Mashriq

تعلیم اور صحت ایک اچھی ''صنعت ''

تعلیم اور صحت ایک اچھی ''صنعت ''

فیس بک پر ایک دوست نے پیغام بھیجا جس میں تاکید کی گئی تھی کہ پرائیویٹ سکولوں کی بڑھتی ہوئی فیسوں، داخلہ فیس اور پرائیویٹ سکولوں کی حالت زار کی طر ف ارباب اختیار کی تو جہ مبذول کر نے کے لئے ایک کالم تحریر فرمائیں۔ وطن عزیز میں سرمایہ دار چار شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جس میں تعلیم، صحت ، ٹرانسپورٹ اور ہو ٹلنگ شامل ہیں۔یہ چاروں شعبے ایسے ہیں جس میں قرض نہیں۔ سکول اور کالج بچے تب جاتے ہیں جب والدین کے پاس اُن کے ایڈمشن ، کتابوں ، کاپیوں اور یونی فارم سے لیکر تمام ضروریات پوری کرنے کے لئے پیسے ہوں۔ پرائیویٹ ہسپتال میں ایک مریض تب جاتا ہے جب اُس کی جیب بھری ہوئی ہو۔ اسی طرح ہوٹل اس وقت جاتا اور ٹرانسپورٹ میں سفر کر تا ہے جب اُسکے پاس پیسے ہوں۔اگر دیکھا جائے تو یہ چاروں ایسے شعبے ہیں جو کیش پر چلتے ہیں اور اس میں قرض نامی کوئی شے نہیں۔بزنس کے لحا ظ سے تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے اسلئے کامیاب ہیں کیو نکہ سرکاری سکولوں ، کالجوں اور ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہمیشہ لوگ پرائیویٹ سکولوں ،کالجوں ، ہسپتال اور نر سنگ ہومز میں جاتے ہیں کیونکہان کے پا س کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔ پاکستان کے ہر دور کی سیاسی اور فوجی حکومتیں تعلیم اور صحت سے متعلق دعوے اور باتیں تو کر تی ہیں مگر بد قسمتی سے ان سرکاری سکولوں ، کالجوں اور ہسپتالوں کی طر ف توجہ نہیںدی جاتی۔اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جتنے پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہیں وہ ملک کے با اثر شخصیات کی ملکیت ہیں جنکا حکومت میں کوئی نہ کوئی حصہ اور عمل دخل ضرور ہوتا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ یہی با اثر شخصیات حکومتی اور سرکاری سکولوں کو ترقی دینے کے بجائے اپنے سکولوں کالجوں اور ذاتی مد میں قائم کئے گئے اپنے ان اداروں کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں تاکہ انکی تجارت اور وسائل میں بڑھوتری ہو۔میرے پانچ بچے ہیں اور سب کی ایڈمشن فیس اور داخلہ فیس ہزاروں اور یونیورسٹی لیول کے بچوں کی فیس لاکھوں میں ہے۔ یونیفارم ، بچوں پر غیر حاضری کی صورت میں دن کا 50روپے جُرمانہ ، بچوں کی کتابوں اور کاپیوں کا خرچہ،ٹرانسپورٹ کا خرچہ اور امتحان سے چار مہینے پہلے بچوں کے ہا سٹل کا خر چہ ، سالانہ دن اور 100قسم کے مزید خرچے بر داشت کرنا اسکے علاوہ ہیں۔ پاکستان میں اوسط خاندان کی تعداد 6 ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ جن کے 6یا اس سے زیادہ بچے ہوں وہ کیسے ان کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں پڑھا سکیں گے۔ خیبر پختونخواکے مختلف کالجوں کی فیسیں بھی حد سے زیادہ ہیں۔جب ہم نے میٹرک کیا تو اُس وقت کالج میں ہمارے ہا سٹل اور اسکے علاوہ دوسرے خر چے ماہانہ200 روپے سے زیادہ نہیں تھے۔ اب تو ایجوکیشن ایک صنعت کا درجہ اختیار کر چکی ہے ۔ا ب تو انجینئرنگ اور میڈیکل کالجوں کی انٹری فیسوں پر یونیورسٹیوں والے کروڑوں کماتے ہیں۔ ان سکولوںاور کالجوں میں کتا بیں بھی وہ تجویز کی جاتی ہیں جو من پسند پبلشرز کی تیار کی ہوئی ہوتی ہیں۔اگر کوئی پیسے والا ہے خواہ اُس کی عقل اور فہم ہے یا نہیں مگر اُسکے پاس پیسے ہیںتو وہ ٹیچرز یا ڈاکٹرز ہائر کر کے نرسنگ ہوم ، سکول کالج کھول کر اچھی کمائی کر سکتا ہے۔ ہر دور کے حکمران حکومتی اداروں کو مضبوط کر نے کے بجائے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو مضبوط کر تے رہے ۔ تعلیمی شعبے میں تجارت نے ہمارے ملک کے سیاست دانوں کو جو منافع دیا ہے اُس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے موجودہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کے اکثر سکولوں میں ایڈمشن فیس نہیں لی جاتی مگر خیبر پختون خوا کے اکثر تعلیمی اداروں میں ماہانہ فیس کے ساتھ ساتھ ایڈ مشن فیس بھی لی جاتی ہے۔کے پی کے کے زیادہ تر سکولوں میں اساتذہ کرام کی کوالی فیکیشن تجربے اور تعلیمی استعداد کا زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ بلکہ ان تعلیمی اداروں کے مالکان اپنے سکولوں میں بہت کم معاوضے پر اساتذہ کرام کو رکھ کر ان کا استحصال کر رہے ہوتے ہیں اور مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور اساتذہ کرام ان تعلیمی ما فیا کے آگے سر تسلیم خم ہوتے ہیں۔ حکومت کی طر ف سے ایسا کوئی قانون اور ضابطہ نہیں جس میں یہ بات طے ہوکہ پرائمری سے لیکر میٹرک تک بچوں کی کیا فیس ہونی چاہئے۔ اکثر پرائیویٹ سکولوں میں تو میٹرک کے لئے سائنسی تجربہ گاہیں نہیں مگر اعلیٰ حکام کوئی ایکشن نہیں لیتے۔کئی سکول کسی کے گھر اور یا کسی کی کوٹھی میں بنے ہوتے ہیں اور تقریباً ٩٠ فی صد پرائیویٹ سکولوں کے پاس کھیلنے کے گرائونڈ نہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ابھی سے جوان لڑکوں کو امراض قلب اور ہائی بلڈ پریشر کے عوارض لا حق ہو رہے ہیں ۔ ما ضی میں ڈویژن اور صوبائی سطح پر زیادہ تر کھلا ڑی سرکاری سکولوں سے آئے تھے کیونکہ ایک تو سرکاری سکو لوں میں کھیل کے میدان موجود تھے اور اساتذہ کرام کا بھی شوق تھا۔ایک سروے کے مطابق آج کل ہر پاکستانی کا زیادہ سے زیادہ خرچہ بچوں کی تعلیم،خوراک اور صحت پر ہوتا ہے ، حالانکہ یہ تو ریاست کی ذمہ داری ہے ۔

اداریہ