Daily Mashriq


بس سنگ میل !!

بس سنگ میل !!

آزادی کے دن سے لے کر آج تک ان سات دہائیوں میں پاکستان میں بہت کچھ بدلا ہے ۔ لوگوں کی اقدار ، لوگوں کی روایات ، رویے ، ان کی خواہشات اور ان خواہشات تک پہنچنے کے راستے ۔ مجھے یاد ہے ہماری نانی ہمیں کہا کرتی تھیں کہ قناعت سے بہتر کوئی شے نہیں ۔ انہوںنے ہمیں سکھایا کہ دوسروں کے پاس کچھ بھی ہو ، اسے دیکھنے کی ضرورت نہیں ، اپنے ہاتھ میں جو چیز ہے وہی آپ کے لیے سب سے اچھی ہے اورا س پر خوش رہنا چاہیئے ۔ میں اس وقت بہت چھوٹی تھی ۔ باتوں کی گہرائی کا ، زندگی پر ان کے اثرات کا بھی کوئی اندازہ نہ تھا لیکن نانی امی کی باتیں بہت اچھی لگتی تھیں ، کیونکہ نانی امی بہت اچھی لگتی تھیں ۔ وہ صبح ہمارے اٹھنے تک جائے نماز پر ہی ہوتیں ، انہوں نے کبھی کوئی خوشبو، کوئی پر فیوم نہیں لگایا لیکن ان کے پاس سے ہمیشہ ہی بڑی خوبصورت خوشبو آیا کرتی تھی ۔ ان کی وہ ننھی ٹوکری جس میں ہمیشہ سلیقے سے ان کی مسلسل استعمال کی چیزیں دھری رہتی تھیں ان دو ائیوں اور دیگر اشیاء کے ساتھ وہ ایک ہمیشہ دھلا ہوا سفید ڈوپٹہ جو تہہ کیا دھرا رہتا ۔ ایک ڈوپٹہ کب دُھلتا ، کب دوسرا پہنا جاتا کچھ پتا نہیں چلتا تھا ۔ اور انکے وہ سفید بال جنہیں وہ ہمیشہ باندھ کر رکھتیں ۔ 

اور پھر میری دادی جنہوں نے ایک اور ہی طرح کی بات مجھے سکھائی ۔ انہوں نے کہا ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے ، تبھی تو مسئلہ پیدا ہو تا ہے ۔ سو جب کوئی مسئلہ درپیش ہو ، اس کے بارے میں پریشان ہونے ، گھبرانے یا متفکر ہونے کی ضرورت نہیں ۔مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔ مسئلے کا حل ہمیشہ ہمارے آس پاس ہی کہیں موجود ہوتا ہے ۔ وہ لوگ جو گھبراجاتے ہیں یا پریشان ہو جاتے ہیں انہیں مسائل کے حل کبھی نہیں ملتے ۔ میری دادی نے مجھے یہ بھی سمجھا یا کہ لوگوں کے بارے میں ، معاملات کے حوالے سے حسن ظن رکھتے ہیں ۔ انہیں اس وقت تک موقع دینا چاہیئے جب تک وہ اپنے آپ کو ثابت نہ کر لیں کہ ان کا ارادہ واقعی براہے ، یا وہ کوئی اچھا مقصد نہیں رکھتے ۔ اس سے پہلے ہر کسی کو موقع دینا چاہیئے کہ وہ اپنی اچھائی یا برائی خود ثابت کرے ، بے وجہ اپنے اوپر یہ بار ڈالنے کی ضرورت نہیں ۔ ان دونوں نے مل کر تمہاری زندگیوں میں بڑی آسانی بھر دی ۔ میں نے اپنے نانا سے سیکھا کہ گھر میں ہمیشہ مہمان ہونے چاہئیں ، اس سے اپنے دستر خوان کی بھی رونق بڑھتی ہے ، گھر میں برکت بھی رہتی ہے ۔ اور میرے داد ا نے مجھے لفظ کی حرمت سکھائی ، کتاب سے محبت سکھائی ، محنت سکھائی اور یہ سکھایا کہ ہر شخص ہر کام کر سکتا ہے ، کام کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہیئے۔ تبھی تو میں نے دس سال کی عمر میں پہلی بار اپنے داد ا کے ساتھ مل کر اپنا پہلا سالن بنایا ۔ یہ اور ہی لوگ تھے ۔ انکی باتیں ہی بالکل الگ تھیں ۔ ان کے لیے زندگی ہی بالکل الگ تھی ۔ ان کی زندگیوں کے مقصد تھے ۔ یہ محض رویے یا ترقی کے لیے پیدا نہ ہوئے تھے ۔ ان کی زندگیوں کا مقصد اپنے بچے پال کر ان کی شادیاں کرنا ہی نہ تھا ۔ یہ سب کام کرتے تھے اور اسکے ساتھ ساتھ یہ لوگ روشن چراغ تھے ۔ ان کے لہجوں میں سچائی تھی ، ان کے رویوں میں بھی کبھی کوئی بناوٹ نہ تھی ۔ یہ دوسرے لوگوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شامل رکھتے تھے ۔ اور اب اپنے آپ کو دیکھتی ہوں ، اپنے ارد گرد دیکھتی ہوں ، میرے ہم عصربھی اس دوڑ میں اندھے ہو کر دوڑے چلے جارہے ہیں جس میں میں شامل ہوں ۔ہم جیسے لوگوں کی زندگیوں کے مقاصد بڑے سطحی ، بڑے معمول کے ہوتے ہیں اس لیے ہم کہیں اجالا نہیں بکھیر تے ۔ ہمیں کسی بھی معاملے میں کوئی کمال کی بات نہیں سوجھتی۔ میں اپنے بچوں کو کوئی نئی بات نہیں بتا سکتی ۔ جیسے میری امی نے مجھے سکھا یا تھا کہ کوئی کام مشکل نہیں ہوتا ۔ انسان کو سب قسم کے کام آنے چاہئیں ۔ ہرفن مولا ہونا چاہیئے اور میرے پاپا نے مجھے سکھا یا کہ کبھی شکست کے خوف سے مقابلہ نہیں چھوڑ دیتے ۔ اور بہت سی باتوں کا صلہ اس زندگی میں پانے کی خواہش ہی نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زندگی بہت چھوٹی ہے کہ میں کئی بار ، اپنے رویوں کو ، خود اپنے آپ کو پرکھنے کی کوشش کر تی ہوں تو معلوم ہے کہ جو کچھ بھی مجھ میں اچھا ہے وہ تو ان لوگوں کے باعث ہے ۔ کچھ میرے والدین اور کچھ ارد گرد کے لوگ جنہوں نے مجھے اس قابل بنایا کہ میں وہ ہوں جو آج دکھائی دیتی ہوں ۔ آبدا ر صاحب جن کی شخصیت اپنے نام کی طرح آبدار ہے ۔ جنہوں نے مجھے مشقت ظاہر کیے بغیر آسانی سے کام کرنا سکھا یا ، جو نہایت محبت اور شفقت سے سمجھا کر مجھ میں وہ تبدیلی لے آتے ہیں جو میں نے کبھی سوچی ہی نہیں ہوتی ۔ یہ سب لوگ کمال کے لوگ ہیں اور میں آج جو بھی کچھ اپنے بچوں کو سکھا رہی ہوں ، جب میں کوئی بھی بات کرتی ہوں تو مجھے ان بڑے لوگوں کی آواز سنائی دیتی ہے ۔ میں ان کے جملے دہراتی چلی جاتی ہوں ۔ جب میں اپنے بیٹے کو کچھ سکھاتے ہوئے کہتی ہوں کہ اتنی سی تو بات ہے اس میں تو کوئی مشکل نہیں تو میں نہیں بولتی یہ سب لوگ بولتے ہیں ۔ میں کئی بار حیران ہوتی ہوں کہ اتنے بڑے لوگ ، اتنے خوبصورت رویے ، ایسے روشن۔دماغ میری زندگی پر اثر انداز رہے اور پھر بھی میں اس ایک پتھر کی طرح ہوں جو روشنی منعکس تو کر سکتا ہے ، خود روشنی پیدا نہیں کر سکتا لیکن پھر سوچتی ہوں کہ شاید کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف روشنی منعکس کرتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں روشن ہو جائیں ۔ ان کے راستے منور ہوجائیں ۔ان کی شخصیات میں وہ کمال ہو جو ان سے پہلے لوگوں میں تھا ۔ کچھ لوگ میری طرح بس سنگ میل ہی ہوتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں