Daily Mashriq

’آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کیلئے سیاسی اتفاق رائے لازم ہے‘

’آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی کیلئے سیاسی اتفاق رائے لازم ہے‘

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کو اس کے اہم عناصر کے مابین سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے میں ناکامی پر سنگین خطرات کا سامنا ہے۔

پاکستان میں آئی ایم ایف کی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہ نکلنے کی صورت میں عالمی منڈیوں سے نجی سرمایہ کاری تک رسائی بھی پیچیدہ ہوسکتی ہے‘۔

ٹیریسا ڈبن سانشیز نے یہ بات سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ میں’پاکستانی معیشت اور آئی ایم ایف پروگرام: چیلنجز اور مواقع‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کہی جس میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی اور وزیر اعظم کی معاون خصوصی شمشاد اختر نے بھی خطاب کیا۔

آئی ایم ایف پروگرام کے لیے ٹیریسا ڈبن سانشیز نے سیاسی مخالفت کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ ’پروگرام میں کچھ نکات ایسے ہیں جس کے لیے قانون سازی کرنے یا اس میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہےجس کے لیے قومی اسمبلی میں جانا پڑتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت حکومت کے پاس کوئی قانون منظور کروانے کے لیے اکثریت موجود نہیں، ہمیں اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا، ہمیں قائل کرنا ہوگا اور ہمیں ایک قسم کی حمایت پیدا کرنے کی ضرورت ہے‘۔

ان کے الفاظ آئی ایم ایف کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے دستاویز میں ظاہر کیے گئے خدشات کا اعادہ تھے۔

آئی ایم کی دستاویز میں کہا گیا تھا کہ ’ایوانِ بالا میں حکمراں جماعت کی اکثریت نہ ہونا آئی ایم ایف پروگرام کے مقاصد کے حصول کے لیے کسی قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے‘۔

خیال رہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اسٹیٹ بینک ایکٹ، نیپرا ایکٹ، انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ اور ریاست کی ملکیت میں موجود کمپنیوں کے قوانین میں تبدیلی کرنے کے لیے تیار ہے۔

تاہم ان قانونی ترامیم میں ناکامی کی صورت میں پروگرام کے جائزے کے وقت حکومت کو چھوٹ حاصل کرنے کی کوشش کرنی پڑے گی، اس کا پہلا جائزہ رواں برس دسمبر میں لیا جائے گا۔

آئی ایم ایف عہدیدا کے مطابق سیاسی اتفاق رائے کے بعد گرے لسٹ سے نکلنے میں ناکامی رواں مالی سال کے دوران نجی سرمایہ کاری پر اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنا ہوگا‘، تاہم انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف اور قرض دینے والے دیگر اداروں مثلاً عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی فنڈ کی ادائیگی کا اس فہرست میں اندراج سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ’ آئی ایم ایف ان ممالک کے ساتھ بھی کام جاری رکھتا ہے جن کا اندراج بلیک لسٹ میں ہو‘۔

اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات کی مزاحمت سخت ہوگی لیکن حکومت کو انہیں حل کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نئے اقدامات سے جن افراد کے مفادات متاثر ہوں گے وہ مزاحمت کرسکتے ہیں جس سے مشکلات پیدا ہوں گی جبکہ ان تمام اصلاحات کی مخالفت بھی کی جائے گی‘۔

آئی ایم ایف عہدیدار نے مزید کہا کہ رواں مالی سال میں مالیاتی خسارہ کم کرنے کے جو اہداف حکومت حاصل کرنا چاہتی ہے اس کے لیے صوبوں سے تعاون حاصل کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں