Daily Mashriq

قانون سازی درست ،عملدرآمدیقینی کون بنائے گا؟

قانون سازی درست ،عملدرآمدیقینی کون بنائے گا؟

خیبر پختونخوا حکومت کی صوبے میں چرس، افیون، کوکین اور آئس سمیت دیگر منشیات کے کاروبارسے وابستہ افراد کیلئے سزائے موت ، عمر قید اور بھاری جرمانہ جیسی سزائیں مقرر کرتے ہوئے قانونی مسودہ کی تیاری صوبے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کی ایک سنجیدہ سعی ضرور ہو سکتی ہے لیکن مروجہ قوانین کے مطابق منشیات کی روک تھام اور سزائوں کا جو نظام اس وقت رائج ہے اس پر عملدرآمد کی صورتحال دیکھی جا ئے تو مایوسی ہوتی ہے ایسے میں قوانین بنانے سے زیادہ قوانین پر عملدرآمد اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے بل میں مروجہ قوانین کو سخت بنانے اور خصوصی عدالتوں کا قیام منشیات کی روک تھام کے لئے نارکاٹکس کنٹرول ونگ کا قیام بھی عمل میں لانے کی تجویز ہے اسی طرح صوبہ بھر میں منشیات کی عادی افراد کی رجسٹریشن سمیت سرکاری خرچہ پر علاج بھی بل کا حصہ ہے حکومت نے نارکاٹکس کنٹرول کے قانون کے عملی نفاذ سے اورسزاؤں پر عملدرآمد سے پہلے لوگوں میں شعور اجاگرکرنے کیلئے روایتی اور غیر روایتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے وسیع پیمانے پر آگہی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ صوبے میں انسداد منشیات کا وفاقی ادارہ،ایکسائیز اینڈ ٹیکنشن کا شعبہ انسداد منشیات،پولیس، سرحدوں اور شاہراہوں میں چیک پوسٹوں پر تعینات مختلف سیکورٹی اداروں کا عملہ سبھی کو منشیات کی سمگلنگ اس کی روک تھام منشیات ساتھ رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کے مختلف مدارج کے اختیارات حاصل ہیں اور عدالتی نظام بھی موجود ہے سخت سے سخت قوانین بھی موجود ہیں ان کو مزید سخت بنانے اور شواہد وثبوت کے ساتھ کیس ثابت کر کے عدالتوں سے سخت سے سخت سزا دلوانے کی کسی بھی قانونی ضرورت اورقانون سازی سے کسی کو بھی انکار نہیں اور نہ ہی اس مسودہ قانون کی کابینہ سے منظوری اسمبلی سے بل کی منظوری اور نفاذ کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہے اصل سوال اور ضرورت قوانین کے نفاذ کا ہے قوانین سخت سے سخت ہونا مسئلے کا کلی نہیں جزوی حل ہے اصل بات عملدرآمد کی ہے اس ضمن میں اگر مسودہ قانون میں کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے اور قوانین پرعملدرآمد مئوثر بنانے کیلئے اقدامات تجویز ہوں تو زیادہ بہتر ہوگا۔منشیات کی سرحدوں پر تجارت کی روک تھام کیلئے سرحدی عملے اور متعلقہ تمام اداروں کے عملے کی کارکردگی کیسے بہتر بنائی جائے اور ان کو سمگلنگ کی کسی بڑی کوشش کو ناکام نہ بنانے پر کیسے ذمہ دار قرار دیا جائے اور اس امر کا کیسے تعین ہو کہ منشیات کی جو بھاری کھیپ سرحد پار سے لائی گئی ہے اس میں ملی بھگت بدعنوانی اور چشم پوشی کا عنصر کتنا تھا غلطی وتساہل یا پھر دھوکہ کھانے کا امکان کتنا تھا ان سارے معاملات کی تحقیقات اسباب وعلل اور صورتحال کا تعین اور نگرانی کیلئے بھی کوئی طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس لعنت کی حقیقی روک تھام اور صحیح وقت اور مقام پراس کا تدارک ہو جہاں تک اندرون ملک منشیات کے اڈوں اور منشیات فروشی کی صورتحال ہے اسے حوالے سے وثوق اور شواہد کی روشنی میں یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ متعلقہ ادارے اور علاقہ پولیس کی کارکردگی مایوس کن ہے تھانوں کی حدود میں منشیات کے اڈوں منشیات سپلائی کرنے والوں اور منشیات حاصل کرنے والوں کی مانیٹرنگ اور اس کی روک تھام زیادہ مشکل امر نہیں۔اگر حکام کی ملی بھگت نہ ہو تو منشیات فروشی کا منظم کاروبار ممکن ہی نہیں کچھ ہی عرصہ قبل مشرق ٹی وی فورم میں تھانہ ہشتنگری اور گلبہار کی حدود میں بالخصوص اور دیگر علاقوں میں بالعموم منشیات کے اڈوں ،منشیات فروشی اور منشیات فروشوں کے ہاتھوں علاقے کے عوام کے یرغمال بنائے جانے اورسخت مشکلات کا پولیس حکام کی موجودگی میں کیمرے کے سامنے آکر سفید ریشوں نے شکایت کی تھی اور گواہی دی تھی کی منشیات کے اڈے اور منشیات فروشی سے پورے علاقے کے عوام کی زندگی اجیرن ہے کیا ان شکایات کا حکومت،پولیس حکام اور متعلقہ اداروں نے نوٹس لیا اور ان عناصر کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی کی گئی اور انسداد منشیات کو یقینی بنایا گیا ان سوالات کا جواب افسوسناک نفی میں ہے۔پشاور میں جا بجا منشیات استعمال کرنے والے سڑکوں کے کنارے بی آر ٹی پل کے نیچے ریلوے پٹڑی اور جہاں جہاں ان کی سینگ سمائی ہے کھلے عام نظر آتے ہیں کیا ان کو منشیات سپلائی کرنے والوں کا ہاتھ کسی نے روکا ہے اور ان کا پیچھا کر کے ان اڈوں پر کوئی چھاپہ پڑا ہے،بالکل نہیں،کسی علاقہ ایس ایچ او کو اس کے علاقے میں منشیات فروشی پر معطل کیا گیا کسی تھانے کے اہلکارواں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے ان سوالات کا جواب وزیراعلیٰ سرکاری دستاویزات کی روشنی میں معلوم کریں۔ آئی جی سے رپورٹ طلب کریں سی سی پی اوسے جواب طلبی کریں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اپنی مدت اقتدار کا ریکارڈ دیکھ کر میڈیا رپورٹس کا جائزہ لیں تو وہ اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ اصل ضرورت قوانین کو سخت سے سخت بنانا نہیں قوانین پر عملدرآمد ہے۔ ہمارے تئیں اس نظام کے تحت سخت سے سخت قوانین کا بھی غیر مئوثر ہونے کا اتنا ہی امکان ہے جو صورتحال مروجہ قوانین کی ہے۔ منشیات کے عادی افراد کا علاج معالجہ احسن اقدام ہوگا اس وقت بھی مختلف حکومتی وغیر حکومتی ادارے بساط بھر سعی کر رہے ہیںان کی کارکردگی کا سوال اپنی جگہ علاج معالجے کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار بھی منشیات کے حصول کی مکمل روک تھام اور اس لعنت کو جڑ سے ختم کرنے پر ہے۔جب تک مسودہ قانون کی منظوری کے مراحل طے نہیں ہوتے تب تک موجودہ قوانین کے سختی سے اطلاق کی مشق ہونی چاہیئے سزائوں کا خوف جرم کی روک تھام کا مئوثر سبب نہیں اسباب کا خاتمہ مئوثر نسخہ ہے۔

متعلقہ خبریں