Daily Mashriq

احتساب کی وقعت باقی رہنے دیجئے

احتساب کی وقعت باقی رہنے دیجئے

نیب کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے مقتدررہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری اور مفتاح اسماعیل کی گرفتاری سے ملک کی سیاسی فضائوں میں ارتعاش کی نئی لہر آگئی ہے مریم نواز کو ایک فیصلہ شدہ مقدمے میں دوبارہ سے گھیرنے کی کوشش متعلقہ عدالت کے فیصلے کے بعد ختم تو ہوگئی لیکن ان کی پیشی کے دوران پیش آنے والے واقعات بھی سیاسی حدت میں اضافہ کا باعث رہے حکومت تمام کوششوں کے باوجود چیئر مین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا توڑ کرنے میں کامیاب دکھائی نہیں دیتی۔ان حالات کا چیئر مین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے کوئی تعلق بنتا یا نہیں یا پھر ایک خود مختار ادارے کی جانب سے مالی بد عنوانی کے الزامات کے تحت گرفتاریوں کو حکومتی منشاء سے جوڑنا درست ہوگا یہ ایک سوال ضرور ہے لیکن جس طرح کا ماحول میڈیا پر حکومتی وزراء بنار ہے ہوتے ہیں گرفتاریوں کا عندیہ اور پیشگوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں اس کے تناظر میں ان سارے معاملات میں ربط بنانے کیلئے کافی ہیں کسی بھی گرفتاری اور الزام کی صداقت اور محض الزام ہونے بارے قیاس آرائی مناسب نہیں البتہ نیب کی اب تک کی کارروائیوں اور معاملات کے تناظر میں اس امر کا اظہار بے جا نہ ہوگا کہ نیب کی جانب سے ان گرفتاریوں سے قبل اور بعدازاں ان کو جس طرح ہوا بنا کر پیش کیا جاتا ہے اس پھولے ہوئے غبارے کا عدالتی کارروائی کے دوران ہوا نکلنا احتساب کے نظام اورخود نیب کے ادارے کی جگ ہنسائی کا باعث بنتا ہے۔شاہد خاقان عباسی کے خلاف مقدمے کی حقیقت کیا ہے اس کے خلاف کیا شواہد اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں اس کا عقدہ تو عدالت لگنے پر ہی کھلے گا البتہ جس الزام میں ان کی گرفتاری ہوئی ہے اس حوالے سے عالمی جرائد کی رپورٹس بہت مختلف ہیں وہ کیا حقائق اور دستاویزات ہیں جو اس کیس میں سامنے آتے ہیںوہ اپنی جگہ حیران کن امر یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نے نہ تو ضمانت قبل از گرفتاری کا حق استعمال کیا نہ ہی اپنی پیشی پر کوئی وکیل کیا اور نوے دن کے ریمانڈ پر بھی بخوشی راضی ہوگئے ان کے اس کرداروعمل سے نیب کی کارروائی اور مقدمے کا مذاق اڑنا فطری امر ہوگا۔ ایک اور اہم سیاسی شخصیت راناثناء اللہ کی گرفتاری کے الزامات کا بھی سر عام مذاق اڑایا جارہا ہے اس قسم کی پراسرار گرفتاریاں بباطن کسی پر سرار معاملات کا باعث ہے یا پھر واقعی ان عناصر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے یا واقعتاًوحقیقتاً احتساب ہورہا ہے اور یہ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کی کارروائیاں ہیں سوالات کئی ہیں اور جواب کوئی نہیںبہرحال جو بھی ہوا احتساب کے عمل کو کمزور شواہد اور عدالت میں دفاع میں ناکامی کی صورت میں مذاق نہ بنایا جائے اور رہی سہی کسر پوری نہ کی جائے وگرنہ احتساب کے عمل سے لوگوں کا یقین مزید اٹھ جائے گا اور اسے لپٹنے کے سوا کوئی راہ باقی نہیں بچے گا۔

دور اضلاع،کنٹریکٹ ڈاکٹروں کو سہولیات بھی دی جائیں

محکمہ صحت کی جانب سے کنٹریکٹ بنیادوں پر ڈاکٹروں کی بھرتی میں صوبے کے دوردراز اور پسماندہ اضلاع کو ترجیح دینے کا فیصلہ پسماندہ اضلاع کے عوام کو صحت کی سہولت کی مقامی طور پر فراہمی کی ایک سنجیدہ سعی ہے۔پسماندہ اضلاع کے سابق ادوار میں بھی ڈومیسائل کے حامل اضلاع رکھنے والے ڈاکٹروں کی ان کے آبائی اضلاع میں تعیناتی کی کوششیں ہوتی رہیں مگر اس حقیقت کا اعتراف کیا جانا چاہیئے کہ موجودہ حکومت نے اس سلسلے میں سنجیدہ اور عملی اقدامات کے ذریعے ان اضلاع میں ڈاکٹروں کے تبادلے کئے۔ بہت سے ڈاکٹروں نے قوانین کا سہارا لیکرتعیناتیاں رکوادیں اس سے قطع نظرحکومتی مساعی بڑی حد تک کامیاب رہیں اس سعی کے بعد کنٹریکٹ پر ڈاکٹروں کو ایک مرتبہ پھر پسماندہ اضلاع میں تعینات کرنے کی پیشکش اور کوشش ایک اور اہم پیشرفت ہے جس سے جہاں نوجوان ڈاکٹروں کو مشکل اضلاع میں تعیناتی پررضا مند ہونے پر ترجیحی طور پر روزگار ملے گا وہاں عوام اور حکومت دونوں کیلئے یہ اطمینان کا باعث ہوگا۔ ہماری تجویز ہوگی کہ ان علاقوں میں تعیناتی پر رضا مند ہونے والے ڈاکٹروں کو تنخواہ کے علاوہ بھی ایسی سہولیات دی جائیں کہ وہ ان علاقوں میں خدمات کی فراہمی کو بوجھ نہ سمجھنے لگیں۔ رہائشی سہولت کے علاوہ مناسب وقفے کے بعد چھٹی کی سہولت بھی ملنی چاہیئے ایک ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے کہ عوام کو علاج کی سہولت بھی ملے اور ڈاکٹرخود کو ان علاقوں میں یرغمال نہ سمجھیں۔

متعلقہ خبریں