Daily Mashriq

کڑوی میٹھی باتیں

کڑوی میٹھی باتیں

شاہد خاقان عباسی گرفتار ہوگئے مفتاح اسماعیل کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ لگتا ہے اگلے ہفتے شہباز شریف پھر نیب کے مہمان بننے والے ہیں۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے چند مزید اہم رہنمائوں کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔ دو دن قبل نیب میں مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے بھی ''خوب'' غور و فکر ہوا۔ ادھر اپوزیشن کے 55سینیٹرز نے چیئر مین سینٹ صادق سنجرانی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ 21جولائی کو امریکہ کے دورہ پر جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی زندہ دل نے لکھا'' عمران خان دورہ امریکہ میں جنرل باجوہ کے وفد میں شامل ہوں گے''۔ یہ مناسب بات بہر طور نہیں۔ خود عمران خان کے دورہ امریکہ کو لے کر جذباتی مذہبی بحث اٹھا رہی ہے یہ سراسر غلط ہے۔ وزیر اعظم نے دو دن قبل کہا '' سمگلنگ کا سامان بیچنے والے ٹیکس نیٹ میں نہیں آنا چاہتے۔ ادھر خیر سے یوٹیلٹی سٹور پر فروخت کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں میں 10 سے 19فیصد تک اضافہ کردیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کی اہلیہ نے الزام لگایا ہے کہ '' ان کے شوہر کا ہمشکل تلاش کرکے منشیات کی برآمدگی کی جعلی ویڈیو بنالی گئی ہے''۔ خبریں اور بھی ہیں جن میں سے ایک یہ کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے کزن طورو خان بزدار جوکہ قانون گو ہیں رشوت لینے کے الزام میں گرفتار ہوئے۔ گرفتاری اور ایف آئی آر کے اندراج کو ملتوی نہ کرنے والے افسر سید احمد علی بخاری کا ڈی جی خان سے راولپنڈی تبادلہ وزیر اعلیٰ کے حکم پر کردیاگیا۔ سوشل میڈیا پر نون لیگ' تحریک انصاف اور بعض جیالے ایک د وسرے کے خلاف جو زبان استعمال کر رہے ہیں وہ زبان اب ہمارے سماج کا تعارف ہے۔ کیا حزب اختلاف کے لوگوں کی گرفتاریوں سے ون پارٹی رول مستحکم بنا لیا جائے گا؟۔ اپوزیشن کہتی ہے نیب بنی گالہ کے کچن میں کام کر رہا ہے۔ حکمران کچھ اور کہتے ہیں۔ دو باتیں مکرر یاد دلاتا چلوں۔ آصف زر داری جن کیسز میں گرفتار ہوئے ان میں تحقیقات کا آغاز سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے حکم پر ہوا تھا تب ملک میں نون لیگ کی حکومت تھی۔ کل جمعرات کو شاہد خان عباسی جس ریفرنس میں گرفتار ہوئے اس میں سابق سیکرٹری پٹرولیم وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔ ایل این جی گیس سکینڈل تب سامنے آیا تھا جب شاہد خاقان عباسی میاں نواز شریف کی کابینہ میں وفاقی وزیر پٹرولیم تھے۔ تحریر نویس کو یاد ہے کہ ان دنوں ہماری محبوب جماعت پیپلز پارٹی بھی اس سکینڈل کی تحقیقات' عباسی کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی تھی۔ اب اسے نیب گردی کہا جا رہا ہے۔ جمعرات کی دوپہر ایک دوست نے شاہد خاقان عباسی کے معاملے میں آواز اٹھانے کو کہا تو ان کی خدمت میں عرض کیا '' کچھ لمحے قبل عمر چیمہ کے ٹیویٹ پر ری ٹیوٹ کرتے ہوئے عرض کرچکا۔ اخبار نویس کسی کے وکیل صفائی کیوں بنیں۔ جس یا جن پر الزام ہے وہ خود کو بے قصور ثابت کریں''۔ بہت ادب کے ساتھ ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا محض تحریک انصاف کی مخالفت میں نون لیگ کی حمایت مشکل ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ شاہد خاقان عباسی نیب کو تحریری طور پر دو دن کے لئے عدم دستیاب ہونے کی اطلاع دے چکے تھے۔ لاہور میں جس وارنٹ گرفتاری کی بنیاد پر انہیں گرفتار کیاگیا اس پر 16جولائی کی تاریخ لکھی ہے سوال صرف اتنا ہے کہ 16 اور 17جولائی کو انہیں اسلام آباد میں گرفتار کرنے کی بجائے 18جولائی کو لاہور میں کیوں گرفتار کیا گیا وہ بھی اس کے باوجود جب وہ 20جولائی کو سوالات کاجواب دینے کے لئے پیش ہونے کی تحریری اطلاع بھجوا چکے تھے۔ دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بھی حیرانی ہے کہ دو سابق اد وار کی کرپشن کہانیاں سنانے میں پیش پیش وہ رہنما ہیں جن کی تحریک انصاف میںبھرتی کے بعد ان کے خلاف نیب کی تحقیقات بند کردی گئیں۔ اس سے زیادہ حیرانی یہ ہے کہ جناب ہاشوانی کا بالک اب ہمیں جمہوریت' انصاف' ایمانداری اور دودھ مہنگا ہونے کی کہانیاں سناتا ہے۔ دوسری طرف ایک سرکاری ادارے کے لئے طویل عرصہ سے مخبر کے طور پر کام کرنے والا شخص سوشل میڈیا پر صحافیوں اور اینکروں کے ایک گروپ کے خلاف مہم جوئی میں مصروف ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ان دوستوں میں سے اکثر کے نظریات سے اختلاف ہے اور 2008ء سے 2013ء کے درمیان ان کاریاستی شو بوائے کا کردار بھلائے نہیں بھولتا۔ اس کے باوجود یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ سوشل میڈیا پر مرد و خواتین صحافیوں کے خلاف چلنے والی غلیظ مہم درست ہر گز نہیں حکومت یاکسی ادارے کے پاس ان صحافیوں اور اینکرز کے خلاف ثبوت موجود ہیں تو بسم اللہ کریں۔ قانون اور عدالتیں موجود ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو پچھلے دس سالوں کے دوران پی ٹی آئی اور عمران خان کو نجات دہندہ بنا کر پیش کرتے رہے۔ اب زیر عتاب ہیں ہمارے کچھ سوشل میڈیا مجاہدین نے جمعرات کے روز ایک جعلی خبر گھڑی اور پھر اسے ہوا کے دوش پر رکھ دیا۔ سیاستدانوں سے خاندانی نفرت کاشکار نسل سوچے سمجھے بنا اس خبر کو لے اڑی اس جعلی خبر کے مطابق '' بلاول بھٹو نے کلبھوشن کو پھانسی نہ دینے کا مطالبہ کیاہے''۔ بلاول کے ترجمان اور پیپلز پارٹی اس جعلی خبر کی تردید کرچکے۔ جعلی خبروں اور افواہوں سے رزق پانے والے سوشل میڈیا مجاہدین کی اکثریت سابق جیالوںپر مشتمل ہے اور انداز اسی و نوے کی دہائی والے لیگیوں جیسا ہے قبل ازیں بھی ان سطور میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ سیاسی جماعتیں نظریات کی بجائے شخصیات پر منظم ہوں گی تو غیر سنجیدگی اور انتہا پسندی کو بڑھاوا ملے گا۔ مکرر عرض ہے کہ مولانا فضل الرحمن سمیت جن خواتین و حضرات کو ان دنوں مذہبی کارڈ کھیلنے کا شوق چڑھا ہوا ہے وہ اس ملک اور عوام پر رحم کریںسو آج بھی ان حضرات سے دست بدستہ یہی درخواست ہے سیاسی اختلافات میں مذہبی ہتھیار کا استعمال کسی بھی طور درست نہیں۔

متعلقہ خبریں