Daily Mashriq

موت کے گڑھے

موت کے گڑھے

روزی روٹی کی تلاش میں مزدور محض چند سو روپے کے عوض اپنی جان خطرے میں ڈال کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال رہے ہیں، آئے روز مختلف واقعات میں متعدد مزدور جان کی بازی ہار جاتے ہیں، 2019کے محض گزشتہ چھ مہینوں میں سینکڑوں مزدور مختلف حادثات میں جاں بحق ہو چکے ہیں،جاں بحق ہونے والے مزدوروں میں زیادہ تر تعداد کوئلہ کی کان میں کام کرنے والوں کی ہوتی ہے، گزشتہ دنوں کوئٹہ میں کوئلہ کی کان میں 10مزدور کان کے اندرپھنس جانے کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے بلکہ ایک ہفتہ کی تگ و دو کے بعد ان کی لاشیں نکالی جا سکی ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ آج تک مزدوروں کی ہلاکت کے واقعات کی تحقیقات نہیں ہو سکی ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کوئٹہ، بولان، ہرنائی، لورالائی اور دکی سمیت بلوچستان کے کئی اضلاع میں کوئلے کے 256 ملین ٹن سے زائد ذخائر موجود ہیں۔ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری لالہ سلطان خان کے مطابق کوئلہ کی کان کنی کے شعبے سے بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد مزدور وابستہ ہیں تاہم مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں کان کن مختلف حادثات میں زندگی کھودیتے ہیں۔محکمہ معدنیات کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ نو سالوں کے دوران 530سے زائد کان کن کوئلہ کی کانوں میں حادثات کا شکارہوکر جاں بحق ہوئے ہیں۔صرف اس سال چھ مہینوں میں حالیہ حادثے کے علاوہ 39 مزدوروں کی موت ہوئی ہے۔ تاہم مزدور یونین کا اصرار ہے کہ سرکاری اعداد و شمار اصل تعداد سے کہیں کم ہیں اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں اب تک 82 مزدور کوئلے کی کانوں میں گیس بھرنے سے دم گھٹنے، ملبے تلے دبنے اور ٹرالی لگنے جیسے مختلف حادثات میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ کوئلہ کان مالکان، ٹھیکیدار اور سرکاری محکمے مزدوروں کی اموات کو چھپاتے ہیں۔ وہ مرنے والے مزدوروں کے لواحقین کی مالی امداد سمیت دیگر قانونی ضابطوں سے خود کو بچانا چاہتے ہیں اس لئے وہ حادثات کو سامنے لانے نہیں دیتے۔کوئلے کی کانوں میں حادثات کی بڑی وجہ صحت و سلامتی کے قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔اس قانون کے تحت کوئلہ کانوں میں حادثات سے بچنے کیلئے مناسب انتظامات کرنے ہوتے ہیں جن میں تازہ ہوا کے اندر آنے، گیس کے اخراج، آگ لگنے یا کسی دوسری ہنگامی صورتحال میں نکلنے کے لیے متبادل راستہ کا بندوبست کرنا،کان کو منہدم ہونے سے بچانے کیلئے مضبوط لکڑی کا استعمال کرنا، کان کی لمبائی اور چوڑائی کو چھ سے سات فٹ سے زائد رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس قانون پر کوئلہ کان کے مالکان، ٹھیکیدار عملدرآمد کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی محکمہ معدنیات قانون کے نفاذ کیلئے کوئی مؤثر کام کررہا ہے۔محکمہ معدنیات کے حکام بیس بیس گز کے فاصلے پر کوئلے کی کان کی الاٹمنٹ کرتے ہیں حالانکہ یہ فاصلہ کم از کم ڈھائی سو گز ہونا چاہیے۔چیف انسپکٹرآف مائنز کا کام ریسکیو کرنا ہوتا ہے مگر انہوں نے آج تک کسی زخمی کو ریسکیو کیا اور نہ کسی مردہ کان کن کی لاش نکالی۔ سرکاری ٹیمیں صرف کوئلہ کان سے نکلنے والی لاشوں کی گنتی کرکے واپس چلی جاتی ہیں۔ سب امدادی کام کان کن خود اپنی مدد آپ کے تحت کرتے ہیں اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ کان کنوں کو ہی ریسکیو ٹیموں میں بھرتی کیا جائے مگر چیف انسپکٹر مائنز اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتے۔ کوئلے کی کانیں اب تک کتنے مزدور نگل چکی ہیں؟مزدور تنظیموں کے مطابق صوبہ بلوچستان میں ایک لاکھ سے زائد افراد کوئلہ کی کان کنی کا کام کرتے ہیں مگر مناسب حفاظتی انتظامات اور سہولیات نہ ہونے کے سبب یہی کانیں مزدوروں کے لیے موت کے کنویں بن گئی ہیں جہاں ہر سال اوسطاً ایک سو سے زائد کان کن مختلف حادثات میں جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی2018 کی رپورٹ کے مطابق صحت و سلامتی کے معیار اور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کے سبب بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں اضافہ ہوا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق2010 سے2018 تک318 کان کن مختلف حادثات میں ہلاک ہوئے۔کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کان کنوں کی حالت زار کو تشویشناک اور حکومت کی جانب سے ان کی حفاظت کی خاطر کیے گئے اقدامات کو ناکافی قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں مئی اور اگست2018 میں بلوچستان کے علاقے ماراوڑ اور سورینج میں صرف دو حادثات میں 23 مزدوروں کی موت ہوئی تھی۔ ان میں وہ مزدور بھی شامل تھے جو حادثے کے بعد پھنسے ہوئے اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے کان میں اترے تھے ان حادثات کے بعد بھی حکومت کی جانب سے کان کنوں کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت کان کنوں کی بڑھتی ہوئی اموات کا جائزہ لے اور محنت کشوں کی جان بچانے کیلئے سخت سے سخت قوانین بنائے ،کان مالکان کو ان قوانین پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ محنت کش محفوظ ماحول میں کام کر سکیں ۔

متعلقہ خبریں