Daily Mashriq

گن مین زبردستی کا نہیں ،بڑے اعتبار کا دمی ہوتا ہے ،پشاور ہائیکورٹ

گن مین زبردستی کا نہیں ،بڑے اعتبار کا دمی ہوتا ہے ،پشاور ہائیکورٹ

پشاور(جنرل رپورٹر) پشاورہائیکورٹ نے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ باڑہ کی جانب سے ایک شخص کو 14 سال کی سزا کو معطل کرتے ہوئے ملزم کی ضمانت منظور کرلی، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہے یا نہیں، کس قانون کے تحت اے پی اے نے شہری کو سزا دی ہے ،کیا ضم شدہ اضلاع میں لاقانونیت ہے ،کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی نے کی، درخواست گزار ہارون رشید کے وکیل یوسف خان مرزا نے عدالت کو بتایا کہ ان موکل کا تعلق باڑہ اکاخیل سے ہے اور ان کو دہشتگردوں کیساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں 17 مئی 2017 کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اے پی اے باڑہ نے انہیں16 اگست 2018 کو چودہ سال قید کی سزاسنائی، حالانکہ28 مئی کو قبائلی اضلاع کا صوبے میں انضمام ہواتھا اور قبائلی اضلاع صوبے کے دائرہ اختیار میں آچکے ہیں اور دسمبر 2018میں فاٹا انٹیرم گورننس انٹیرم ریگولیشن 2018 منظور ہوا اورایف سی آر جیسے کالے قانون بھی ختم کر دیا گیا ، سماعت کے دوران جسٹس ہلالی نے درخواست گزار کے وکیل سے پوچھا کہ جرگہ نے کیا فیصلہ کیا تھا؟ جس پر ملزم کے وکیل نے بتایا کہ جرگہ ممبرز نے مقدمہ کا جائزہ لیا اور جرگہ ممبرز نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم ہارون رشید کو زبردستی مقامی طالبان کمانڈرکیساتھ گن مین کے طور پر کام کرنے پر مجبور کیا گیا جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ گن مین زبردستی کا نہیں ہوتا ، گن مین بڑے اعتبار کا آدمی ہوتا ہے،انہوں نے کہا کہ28 مئی کوقبائلی اضلاع کا انضمام ہوا ، اب ملزم کو سولہ اگست کو کس قانون کے تحت سزا دی؟ قانون ہے اس ملک میں یا نہیں۔جسٹس ہلالی نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں لاقانونیت ہے، نوجوانوں کو تباہ کردیا گیا ہے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعدملزم کو دولاکھ کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کو خیبرریمانڈ کردیا جبکہ ملزم کے ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔

متعلقہ خبریں