Daily Mashriq

بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت دینے کا فیصلہ

بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت دینے کا فیصلہ

پشاور(سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بچوں کیساتھ زیادتی واقعات میں اضافہ کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی اور آگاہی مہم چلانے کیساتھ ساتھ زیادتی میں ملوث افراد کو سزائے موت دینے سے متعلق قانونی مسودہ تیار کر نے کا فیصلہ کیا ہے آگاہی مہم کیلئے منتخب عوامی نمائندوں کے علاوہ سول سوسائٹی، انتظامیہ ، علماء ، والدین، میڈیا اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی خدمات حاصل کی جائینگی گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران تحریک انصاف کی رکن ڈاکٹر سمیرا شمس نے نکتہ اٹھاتے ہوئے اپنی ہی حکومت سے شکوہ کیا کہ جمعرات کے روز بھی انہوں نے گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق بل کیلئے سلیکٹ کمیٹی تشکیل نہ دینے کی بات کی تھی اور بچوں کیساتھ ہونے والے جنسی زیادتی واقعات کی روک تھام سے متعلق کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا مگر نہ تو صوبائی وزیر قانون اور نہ ہی سپیکر نے انہیں جواب دیا وہ حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ دونوں مسائل کا حل تلاش کیا جائے جب ایوان میں خواتین کے حقوق کیلئے بات کی جاتی ہے تو خاتون رکن کے سوال کا جواب نہیں دیا جاتا اور ایوان خاموش ہوجاتا ہے یہ خواتین کیساتھ امتیازی سلوک ہے سمیر اشمس کے نکتہ اعتراض کاجواب دیتے ہوئے وزیرقانون سلطان محمد نے کہاکہ بچوں کیساتھ جنسی زیادہ گھمبیرمسئلہ ہے اس میں ملوث لوگ درندے کہلانے کے مستحق ہیں بچوں کے جنسی تشدد کے خلاف قانون سازی پرکام ہورہاہے اس قانون کو اتنا سخت بنایاجائے کہ ملوث افراد کو کم سے کم سزائے موت کی سزاہوسکے اسی طرح اس قانون میں تیزترانصاف کے عمل کے ساتھ معاشرے کے تمام مکاتب فکر سے رائے لی جائے تاکہ ایک موثرقانون سامنے آسکے اوربچوں کے جنسی تشدد کیخلاف تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات پر باقاعدہ آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ والدین کو آگاہ کیاجاسکے کہ بچوں کے متعلق ان کی ذمہ داریا ںکیاہیں وزیرقانون نے کہاکہ گھریلوخواتین پرتشدد کے متعلق قانون کو اسمبلی میں پیش کیاجاچکاہے اوروہ چاہتے ہیں کہ خصوصی کمیٹی ان تمام ترامیم کوبغورجائزہ لے جومختلف اراکین اسمبلی نے جمع کی ہیں تاکہ ایک جامع قانون سامنے آسکے ۔

متعلقہ خبریں