پاکستان کی شاندار فتح

پاکستان کی شاندار فتح

بائیسویں رمضان المبارک کے اسی روز جس دن پاکستان کرکٹ کا عالمی چیمپئن بن گیا تھا دفاعی چیمپیئن بھارت کو شکست دے کر پاکستان کا آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کا چیمپیئن بننا پوری قوم کے لئے مسرت کا باعث ہونا فطری امر ہے۔پاکستان نے بھارت کو339رنز کا ہدف دیا لیکن جواب میں دفاعی چیمپئن ٹیم صرف 158رنز پر ڈھیر ہو گئی اور پاکستان نے 180رنز سے کامیابی حاصل کر کے چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی فائنل میں دفاعی چیمپئن انڈیا کو شکست دے کر پہلی بار یہ ٹورنامنٹ جیتنے پر پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ اس فتح کے ساتھ ہی انہوں نے یہ داغ بھی دھو دیا کہ پاکستان آئی سی سی کے بڑے ٹورنامنٹ میں انڈیا سے ہمیشہ ہار جاتا ہے۔پاکستانی قوم ایک جذباتی قوم ہے جو کھیلوں کے میدان کو بھی میدان جنگ ہی سمجھتی ہے اور جنگی جوش و جذبے کا اظہار کرتی ہے اگر میچ روایتی حریف پاک بھارت کے درمیان ہو تو پورے ملک میں میچ کے دوران سڑکوں کا سنسان ہونا اور ہر گھر سے نعروں کی گونج ایک اور منظر پیش کر رہا ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کی انہی ساعتوں میں 25سال قبل پاکستان کرکٹ ٹیم نے عالمی کپ جیت کر پاکستانی قوم کو عیدالفطر کا جو تحفہ دیا تھا25 سال بعد بھارت سے فائنل میچ جیت کر پاکستان کرکٹ ٹیم نے عالمی چیمپئن بننے کی یادیں تازہ کیں۔ دلچسپ امر صرف یہ نہیں کہ وہ بھی رمضان المبارک کے یہی دن تھے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کے حامیوں کا بائیسواں اور خیبر پختونخوا میں غیر سرکاری طور پر رمضان المبارک کا اعلان کرنے والوں کا تئیسواں روزہ تھا بلکہ مزید دلچسپ امر یہ ہے کہ اس وقت نواز شریف ہی ملک کے وزیر اعظم تھے اور تحریک انصاف کے موجودہ قائد اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے جن کی قیادت میں پاکستان کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ ٹرافی پاکستان لائی ۔آج نواز شریف ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم ہیں تو عمران خان کرکٹ ٹیم کی بجائے ایک سیاسی جماعت کے قائد ہیں اور ان کی پوری سعی ہے کہ وہ حکمرانوں کو بدعنوان ثابت کرکے نا اہل قرار دلوائیں اور آئندہ انتخابات میں اقتدار کا ہما ان کے سر بیٹھے۔ بہر حال سیاسی میدان میں کیا ہوتا ہے یہ ہمارا موضوع نہیں۔ چیمپئن شپ جیتنے کی خوشی میں خوشی و مسرت کا اظہار بے جا نہیں عین فطری امر ہے لیکن جذبات میں جس طرح کے مظاہر دیکھنے میں آئے ان کی کسی بھی طرح گنجائش نہیں تھی۔ رمضان المبارک کے اس ماہ مقدس میں عین اذان عشاء اور نماز عشاء اور تراویح کی ادائیگی کے لمحات میں جس طرح پشاور میں ہوائی فائرنگ' آتش بازی اور گولے پھینکے گئے اس سے تھوڑی دیر کے لئے یہ گمان ہونے لگا کہ ہم پاکستانی قوم نے میچ جیتنے کی خوشی میں سب کچھ بھلا دیاہے اور جذبات میں دین' قوانین' اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داریاں کچھ یاد نہیں رہا۔ ہماری دعائیں اور سجدے بس میچ میں کامیابی تک کے لئے تھے اس کے بعد قوم نے سب کچھ پس پشت ڈال دیا۔ پشاور میں کرکٹ میچ جیتنے کی خوشی میں ہوائی فائرنگ سے بیس سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ ہوائی فائرنگ سے زخمی ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل تھیں۔ لنڈی کوتل میں ہوائی فائرنگ سے ایک خاتون جاں بحق ہوگئی۔ قبائلی علاقہ جات اور صوبے کے دیگر علاقوں سے مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد صورتحال کا مزید گمبھیر ہونا بعید نہیں دکھ کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے مواقع پر صوبائی دارالحکومت میں پولیس سڑکوں پر ہونے کے باوجود کارروائی نہیں کرتی۔ حیات آباد میں منچلوں نے پولیس موبائل کی پرواہ نہ کرکے شغل میلہ کا انعقاد کیا مگر پولیس نے تعرض نہ کیا دوسرے علاقوں میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہ ہوگی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو پولیس چاند رات پر ہوائی فائرنگ کی روک تھام کے لئے نمائشی بینر لگاتی پھرتی ہے کیا یہ اس پولیس کی ناکامی نہیں کہ لوگوں نے کھلے عام ہوائی فائرنگ کی جس میں 20سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ آئی جی خیبر پختونخوا کو نہ صرف اس کا سخت نوٹس لینا چاہئے بلکہ چاند رات ہوائی فائرنگ کی روک تھام کو موثر بنانے کے لئے ان علاقوں میں جہاں زبردست ہوائی فائرنگ ہوئی ہو ان تھانوں کے ایس ایچ اوز کے خلاف تادیبی کارروائی کر ے جبکہ ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی جائیں اور گھر گھر تلاشی لے کر اسلحہ ضبط کیا جائے۔ کسی بڑے میچ میں کامیابی پر مسرت کا اظہار معیوب نہیں احسن ہے لیکن جس خوشی کے اظہار سے کسی گھر کے چراغ کے بجھنے کسی کے مجروح ہونے اور مساجد میں نماز یوں اور گھروں میں بیمار افراد سخت متاثر ہو اس کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ کھیل کھیل ہوتا ہے ہار جیت ہوتی رہتی ہے جو ٹیم اچھا کھیلتی ہے مواقع سے فائدہ اٹھاتی ہے وہی جیتتی ہے۔ جذبات میں آنے میں برائی نہیں لیکن جذبات کا اظہار اس سلیقے سے ہونا چاہئے کہ خوشی کا اظہار بھی ہو اور کسی کا گھر بھی ماتم کدہ نہ بنے اور قانون کا احترام بھی ملحوظ خاطر رہے۔

اداریہ