Daily Mashriq

رویت ہلال کا جھگڑا طے نہیں ہوتا

رویت ہلال کا جھگڑا طے نہیں ہوتا

مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور غیر سرکاری مقامی کمیٹی کے درمیان رسہ کشی کی تازہ صورت سے اس امر کا خدشہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں دو عیدوں کی روایت بر قرار رہے گی ۔ حکومت کو یا تو اس معاملے کو سراسر عوام کی صوابدید پر چھوڑ دینا چاہیئے یاپھر ملک میں کسی قانون اور عملد اری کے اظہار کیلئے کوئی ایسا ٹھوس اور سنجیدہ قدم اٹھالینا چاہیئے کہ عوام کو اس ذہنی وروحانی کوفت سے نجات ملے حکومت کی گو مگو ں کی جو کیفیت ہے ہمارے تئیں ملک میں دو دو عید یں ہونے کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے ۔ حکومت کو ہر دو کمیٹیوں کو ایک پلٹ فارم پر لاکر کوئی مستقل فیصلہ کرلینے میں کسی عوامی رد عمل کا خدشہ نہیں ہو نا چاہیئے ۔اس صورتحال سے عوام بیزار آچکے ہیں اور اس سے نکلنا چاہتے ہیں عوام کی شدید خواہش ہے کہ پورے ملک میں ایک ہی دن روزہ اور عید ہوں ۔ جہاں تک محولہ صورتحال کا تعلق ہے ۔ وفاقی وزیر مذہبی امور کی جانب سے شوال کے چاند کی رویت کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا جو اجلاس پشاور میں طلب کیا گیا ہے اجلاس میں غیر سرکاری مقامی رویت ہلال کمیٹی کے نمائندے کو شرکت کی دعوت کا اقدام کوئی ایسا سنجیدہ اور ٹھوس اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا تھا جس میں اس امر کی سعی ہو کہ مقامی کمیٹی اجلاس میں شرکت کرتی اور اتفاق رائے کے ساتھ فیصلہ کرنے کی راہ نکل آتی۔ اب مقامی کمیٹی کی جانب سے درجواب آ ں غزل کے طور پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے نمائندے کو اس روز مقامی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے جب سرکاری کمیٹی کے اعلان کے مطابق اٹھائیسواں روزہ ہوگا ۔جس روز سرکار ی کمیٹی کے کسی رکن کا چاند کی رویت کی کسی سعی میں شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ان کی دعوت پر سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے کسی نمائندے کااجلاس میںشرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جبکہ سرکاری کمیٹی کی دعوت کا لا حاصل ہونا بھی اس لئے فطری امر ہے کہ غیر سرکاری کمیٹی کا اجلاس مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس سے ایک دن قبل ہی منعقد ہو چکا ہوگا جس میں اگرشوال کاچاند نظر آنے کا اعلان کیاگیاتو اجلاس میں بیٹھنے کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ علاوہ ازیں بھی جس روز مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوگا اس روز مقامی طور پر رکھے گئے روزہ داروں کے تیس روزے ویسے بھی پورے ہوں گے جس کے بعد ویسے بھی عیدالفطر ہوگی۔ اس دلچسپ صورتحال میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور مقامی کمیٹی کے نمائندوں کو شریک کرنے کے لئے اٹھائیسویں روزے کو مشترکہ اجلاس بلانا ہوگاجو کمیٹیاں معمول کے ایام میں شوال اور رمضان کا چاند دیکھنے میں اتفاق کی بجائے تقدیم اور تاخیر کی روایت رکھتی ہوں وہ کس طرح اس غیر معمولی صورتحال میں کسی درمیانی صورت نکالنے پر رضامندی کا اظہار کریںگے جب کہ اُن کے پاس اس کی گنجائش ہی نہ ہو ۔ ایسا لگتا ہے کہ وفاقی وزارت مذہبی امور اس مسئلے کے حل کی خواہاں ہی نہیں وگرنہ اس کی جانب سے جو اقدامات تجویز کئے گئے تھے ان پر کم ازکم کچھ تو پیش رفت ہو جانی چاہئے تھی۔ اس تنازعے کے خاتمے کی واحد صورت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو ہے اور اسکے چیئر مین سمیت تمام ممبران کی جگہ نئے ممبران کو اتفاق رائے سے شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک ایسی کمیٹی کا قیام عمل میں آئے جس پر ملکی سطح پر اور خاص طور پر خیبر پختونخوا میں اعتماد کیا جاسکے۔
پولیس تشدد کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں
شاہی مسجد چترال میں ایک مخبوط الحواس شخص کی جانب سے ارتکاب تو ہین رسالت پر شاہی مسجد کے امام اور نمازیوں نے جس ذمہ داری اور قانون کے احترام کا مظاہرہ کیا تھا چترال پولیس نے اس کے بالکل برعکس عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظاہرین کو جس وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات کا اندراج کیا وہ اپنی جگہ اب جبکہ عدالت سے مظاہرین کی ضمانت ہو چکی تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ چترال پولیس نے گرفتارشدگان سے سراسر خلاف قانون سلوک کیا اور ذہنی وجسمانی تشددسے کئی افراد کے معذور ہونے کا خطرہ ہے ۔ رہا شدگان جس ذہنی کیفیت کا شکار ہیں ان کے خوف کا ان کے ذہنی توازن کے بگڑنے کا سبب بننے کا خطرہ تقریباًیقینی نظر آتا ہے ضلع کونسل چترال کی جانب سے اس ضمن میں قرار داد کی منظوری دی ہے جبکہ ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے پریس کانفرنس میں اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا جو مطالبہ کیا ہے صوبائی حکومت کو اس پر فوری طور پر کان دھرنا چاہیئے ۔ پشاور ہائیکورٹ کے معزز چیف جسٹس کو اس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہیئے جبکہ آئی جی کو اس واقعہ میں اپنے ماتحت اہلکاروں کی قانون سے تجاوز پر محکمانہ انکوائری کروانی چاہیئے ۔ یہ واقعہ بھی مشال قتل کیس سے کم اہم نہیں اس واقعے کے خلاف ضلع میں نہ صرف پولیس کے خلاف اشتعال موجود ہے بلکہ ایسے فریقوں کے درمیان کشید گی کا بھی باعث بن سکتا ہے جس سے چترال کا امن خطرے میں پڑ جائے ۔

اداریہ