Daily Mashriq


کون بہتر ہے ؟؟

کون بہتر ہے ؟؟

سیاست دانوں کے رویے حیرانی بن کر ہماری آنکھوں کی پتلیوں میں پھیلتے رہتے ہیں ۔ ہم آنکھیں پھیلا تے ہیں کہ شاید اس حیرانی کو اپنی آنکھوں میں سمیٹ سکیں لیکن سیاست کے کمالات کی کوئی حد تک ہوتی کوئی دلاسہ بھی کسی جانب سے سنائی نہیں دیتا کہ بالآخر یہ کسی جانب سے اپنا سفر موقوف بھی کریں گے سیاست دانوں کے پاس ہمیں حیران کرنے کو اتنی نئی جہتیں ہیں ، ایسے کمالات ہیں ، ان کی منطق سے عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ کبھی کبھی ایک عام آدمی کو اپنے فہم پر پاگل پن کا گمان ہو تاہے ۔ یہ کیسے کمال لوگ ہیں ۔ درست اور غلط کے درمیان فرق کب مٹتا ہے اور کب دونوں اپنی جگہ ہی بدل لیتے ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ جو ہمارا سچ ہے وہ ان کا جھوٹ ہو یہ ضروری تو نہیں ۔ لیکن ان کے جھوٹ نے ہمارے سارے زاویے ہی بگاڑ کر رکھ دیئے ہیں ۔ سیاست ان بھول بھیلوں کی مانند ہو چکی ہے جن میں ہر جانب شیشے ہی شیشے لگے ہیں ، دشمن اور دوست کا فرق ہی مٹ گیا ہے ، صحیح اور غلط نے بھی اپنی تمیز کھو دی ہے ۔ جھوٹ کو چلا کر بولنے سے اگر وہ سچ ہو جاتا تو شاید ہماری حیرانی میں اس قدر اضافہ نہ ہوتا کیونکہ ہم جانتے ہیں چانکیہ کی بات ہم بھولے نہیں کہ ایک ہی جھوٹ کو بآواز بلند ، باربار بولنے سے اس پر سچ کا گمان ہونے لگتا ہے ۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ با واز بلند بھی جھوٹ بولتے ہیں اور سرگوشی میں بھی ۔ یہ اپنی بے عزتی کو گھماکر اچانک ہی اپنی بڑائی بنا دیتے ہیں ۔ یہ اپنی غلطیوں کو اپنی عظمت کی داستانوں میں تبدیل کر دیتے ہیں ۔ اور ہمارے لیے ہر زاویہ بدل کر رہ جاتا ہے ۔ اگر کسی پر چوری کا ، ہیرا پھیر ی کا ، دغا بازی کا الزام ہو ، اسے تفتیش کا سامنا کرنا ہو ۔ اسے تما م حربہ آزمانے کے بعد بھی کوئی راہ فرار نہ ملی ہو اور اسے عدالت میںپیش ہونا پڑے تو یہ اس شخص کی عظمت کیسے بن جاتی ہے۔ سمجھنے سے قاصر ہوں لیکن ان کی فسوں گری کا کمال ہے کہ لوگ اس میں یقین رکھ رہے ہیں ۔ اونچی آواز میں بول رہے ہیں ۔ اور سچ جانے کہاں ، کس کو نے بس جا چھیا ہے ، کچھ معلو م نہیں ہوتا ۔ اور کون جانے وہ سچ بھی ہے یا نہیں ۔ ہم نے تو سنا تھا کہ سچ روز روشن کی طرح عیاں ہوا کرتا ہے اور یہاں ایک کونے میں لرزتا کانپتا ، سایوں کو اپنے اوپر لپٹتا ، سچ کیسا عجیب ہے ، سمجھ نہیںآتا یہ سچ ہے بھی یا نہیں ۔ ایک عام آدمی کو لگتا ہے کہ یہ کیسے شرم کی بات ہے ، ملک کے وزیر اعظم پر بد عنوا نی کا ، منی لانڈرنگ کا دھوکہ دہی کا الزام ہے ۔ اور وزیرا عظم کے حواریوں کو لگتا ہے کہ وزیر اعظم کو عدالت کے سامنے صفائی پیش کرنے کیلئے مجبور کر دیا جانا ، وزیر اعظم کی عظمت ہے ، جے آئی ٹی عدالت کو درخواستیں دے رہی ہے کہ اسے دھمکا یا جا رہا ہے ، ثبوتوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے اور حکومتی دعوے سن کر محسوس ہوتا ہے کہ شاید کسی ولی کے خلاف کوئی جھوٹ گھڑا گیا اور اس جھوٹ کو غلط ثابت کرنے کے لیے وہ قاضی کے سامنے پیش ہو گئے ۔ تاریخ رقم ہوگئی اور اب دنیا اس سب کی مثالیں دے گی ۔ جھوٹ اور سچ کی سرحدیں مدغم ہوجائیں تو دونوں میں فرق کرنا ناممکن ہوجاتا ہے ۔ اور بد ترین جھوٹ وہ ہوتا ہے جس میں سچ کی آمیزش کر دی جائے کیونکہ پھر سچ بھی جھوٹ ہو جاتا ہے اور جھوٹ سچ ہو جاتا ہے ۔ لیکن ان سب باتوں پر غور کرنے کی ہمیں فرصت ہی کہا ںہے ۔ ہم تو بھوک پریشانی ، لوڈ شیڈنگ ، بیروزگاری ، بیماری اور جانے کن کن اذیتوں میں اُلجھے ہوئے ہیں ۔ یہ کتنا جھوٹ کتنے سچ میں ملاتے ہیں ، ہمیں اس سے کیا غرض ، ہمیں تو ہمارے سچ چین ہی نہیں لینے دیتے جلتی دھوپ میں ننگے پائوں کھڑی اس قوم کو اپنے پیروں تلے کی تپش کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ ہمیںیہ فیصلہ کرنے میں شدید دقت کا سامنا ہے کہ ہمارے سیاست دان چور ہیں ، بد عنوان ہیں ، جھوٹے ہیں یا دوسروں کے ستم کا شکار ہیں ، ہمیں ماضی کی ساری کہانیاں یاد ہیں ، ایس آرکے قصوں سے لے کر موٹروے کے کمیشن تک کی باتیں ، میٹرو سے لے کر بجلی کے کارخانوں میں سرمایہ کاری کی کہانیاں ۔ ان میں کتنا سچ تھا کتنا جھوٹ ، کوئی اب اس سب کو کہاں الگ الگ کر پائے گا ۔ لیکن ایک خبر ہے جس نے میرے اعصاب جھنجوڑ کر رکھ دیئے ہیں ۔ میں اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھی ہوں ۔

میں نے کیا سوچنا ہے ، میرا ردعمل کیا ہونا چاہیئے ، میں فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں ، ایک ننھی منی سے خبر کہتی ہے کہ امریکی فلموں کے اداکار پروڈیو سر اور سرگرم سماجی کارکن ، لیونا رڈو ڈی کیپر یو نے منی لانڈرنگ سکینڈل میں اپنا نام آنے پر ، خود کو ملنے والا آسکر ایوارڈ واپس کردیا ہے ۔آسکر ایوارڈ فلمی دنیا میں ملنے والا اعلیٰ ترین ایوارڈ ہے جو فلمی دنیا سے وابستہ لوگوں کو ان کی بہترین کارکردگی پر دیا جاتا ہے ۔ لیونارڈو ڈی کپیر یو نے انعام میں ملنے والی دیگر کئی اشیاء بھی واپس کرنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ 2013ء میں ایک امریکی عدالت میں لیونارڈو ڈی کیپر یو کے خلاف منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے ۔ یہ الزام لیونارڈو کے خلاف بھی نہیں ۔ وہ فلم جس میں لیونا رڈو نے کام کیا جس میں لیونارڈ و کو یہ ایوارڈ دیا گیا اس فلم کو بنانے والی کمپنی پر یہ الزام ہے کہ یہ اور اسی کمپنی کو اور دوسری فلموں کو بنانے میں وہ پیسہ استعمال ہوا جسے غیر قانونی طریقے سے ملائیشیا سے بھیجا گیا تھا ۔ منی لانڈرنگ کے خلاف ایک اصولی موقف ثابت کرنے کے لیے لیونارڈو نے نہ صرف اپنا آسکر ایوارڈ واپس کر دیا ہے بلکہ دیگر اشیاء کے بارے میں بھی عندیہ ظاہر کیا ہے ۔ لیونارڈو ایک فلمی اداکار ہیں اور اس منی لانڈرنگ سے ان کا کوئی تعلق نہیں لیکن یہ ایک اصولی موقف ہے ۔ لگتا ہے کہ سیاست دان بے چارے اداکاروں سے بھی گئے گزرے ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اصول یا اصولی موقف دونوں ہی سے ان کی کوئی واقفیت نہیں ہوتی ۔ وہ بیچارے تو سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش میں دن رات محنت کرتے ہیں ۔ اوراکثر اس کا پھل بھی پاتے ہیں ۔ اور میرے جیسے لوگ بس اس سوچ میں غلطاں رہتے ہیں کہ کیا یہ سب کبھی نہ بدلے گا ؟ اوردونوں میں سے کون بہتر ہے ؟۔

متعلقہ خبریں