اور اب چین کے فوجی اڈے کا واویلا

اور اب چین کے فوجی اڈے کا واویلا

جب سے امریکی محکمہ دفاع نے عوامی جمہوریہ چین کی ایک رپورٹ کی بنیاد پر پاکستان میںممکنہ طور چین کے فوجی اڈے کے قیام کی پیش گوئی کی ہے اس وقت سے بھارت کے ہاتھ میں بیانیے کی ایک ڈگڈگی آگئی ہے ۔اس پیش گوئی کی بنیاد چین کی عسکری اور دفاعی صورت حال کے حوالے سے شائع ہونے والی ستانوے صفحات کی ایک رپورٹ ہے ۔اس رپورٹ میں دفاعی شعبے میں چین اور پاکستان کے تعاون کا متعدد مقامات پر ذکر ہونے سے امریکیوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اس قریبی دفاعی تعاون کے بعد اب چین کا ممکنہ قدم پاکستان میں فوجی اڈے کا قیام ہے۔اس کے کچھ ہی دن بعد پاکستان اور چین کے درمیان بحری مشقوں کا آغاز ہوا تو یوں لگا کہ بھارت کے ہاتھ اس پورے منصوبے کا بلیو پرنٹ لگ گیا ہے۔بھارت نے سمندری حدود میں ہونے والی ان مشقوں کو بنیاد بنا کر یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے بعد اب چین پاکستان میں اپنا باقاعدہ فوجی اڈہ قائم کررہا ہے ۔جس کے لئے گلگت بلتستان کا انتخاب کیا گیا ہے۔بھارت کی طرف سے کہا گیا کہ چین جان بوجھ کر خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ کر بھارت کو کمزور کر رہا ہے جبکہ بھارت حالات پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے ہے۔چین کشمیر کے کسی بھی علاقے میں فوجی اڈہ قائم نہیں کر سکتا یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے بلکہ اس کی مزاحمت بھی کی جائے گی۔

اس کے لئے ماضی کے حوالے بھی دئیے جا رہے ہیں جب سوویت خطرے کے پیش نظر پاکستان نے امریکہ کو پشاور کے قریب فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دے رکھی تھی اور یہ اڈہ 1959سے 1970تک کام کرتا رہا۔پاکستان میں چین کے فوجی اڈے کے قیام کی پیش گوئی اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ اس کا انکشاف امریکہ سے ہوا جہاں امریکہ کے محکمہ دفاع نے ایسے کسی فوجی اڈے کے قیام کی بُو سونگھ لی ۔جس کے بعد حسب ِروایت اس پر شور واویلا بھارت کی جانب سے ہونے لگا۔یہ خطے میں امریکہ اور بھارت کے مفادات کے باہم یکجا ہونے کا واضح ثبوت ہے۔ امریکہ اور بھارت کی جانب سے پاک چین اقتصادی راہداری کے بعد الزام تراشی اور مخالفت کے لئے فوجی اڈے کے نام سے ایک نیا ''سینڈ بیگ'' سجا دیا گیا ۔ امریکہ اور بھارت دونوں سٹریٹجک پارٹنرہیں ۔دونوں کے خطرات اور دفاعی تزویرات اور اہداف ایک ہوچکے ہیں۔اس لئے یہ ممکن نہیں کہ بھارت کسی سٹریٹجک معاملے کی مخالفت کر رہا ہو اور اسے امریکہ کی تائید حاصل نہ ہو۔سب سے پہلا نشانہ اقتصادی راہداری رہی ۔اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے طویل المیعاد حکمت عملی اپنائی گئی تھی اور اس کے لئے بے پناہ مالی وسائل بھی جھونک دئیے گئے تھے ۔کلبھوشن یادیو جیسے'' شہ دماغ'' بھی اس کام پر مامور تھے ۔افغانستان جیسا بیس کیمپ بھی اس کام کے لئے میسر تھا ۔بہت سی مقامی کٹھ پتلیوں کے لئے یورپ کے عافیت کدوں کے دروازے بھی کھلے تھے ۔بھارت کے اعتراض اور سبوتاژ کی سرگرمیوں کی بنیاد ہی یہ موقف تھا کہ اقتصادی راہداری چونکہ گلگت بلتستان سے گزر رہی ہے اور پوری ریاست جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور یوں یہ بھارت کی خودمختاری اور سلامتی کے لئے کھلا چیلنج ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ انتقام ،ردعمل اور غصے کی آگ کے سوا کچھ اور نہ تھا ۔بھارت کے اقدامات میں ردعمل اور انتقام صاف جھلکتا تھا ۔اقتصادی راہداری کا منصوبہ تیزی سے روبہ عمل ہے اور بھارت اس منصوبے کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوا تو اب گلگت بلتستان میں چین کے فوجی اڈے کے قیام کا شوشہ چھوڑ دیا گیا اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ کہانی بھی مغرب سے شروع ہوئی ۔پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون کوئی نئی بات نہیں یہ پون صدی کا قصہ ہے۔دونوں ملک دفاعی اور اقتصادی شعبے میں تعاون کا طویل پس منظر رکھتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے دونوں کو حالات نے سٹریٹجک شراکت دار بنایا ہے ۔دونوں بھارت کے ساتھ تنازعات میں اُلجھے ہوئے ہیں ۔پاکستان کو اپنے قیام کے چند روز بعد ہی بھارت سے جنگ لڑنا پڑی جبکہ اس کے چند سال بعد1962میں چین اور بھارت کے درمیان بھی ایک ایسی سبق آموز جنگ ہوئی کہ دوبارہ بھارت نے چین کے خلاف کشیدگی کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیا ۔دونوں کے قائدین اور بانیان نے بھارت کے ساتھ اچھے ہمسایوں کی طرح رہنے کا خواب دیکھا تھا ۔قائد اعظم محمد علی جناح تو دونوں ملکوں کی سرحدات کو امریکہ اور کینیڈا کی سرحد کی طرح تعبیر کررہے تھے جبکہ چینی قیادت نے بھارت کی آزادی کے ساتھ ہی ''ہندی چینی بھائی بھائی'' کا نعرہ بلند کیا تھا چینی راہبر مائوزے تنگ نے دس میل لمبے استقبالی جلوس کے جلو اورہندی چینی بھائی بھائی کے نعروں کی گونج میں دہلی کا دورہ بھی کیا تھا مگر پھربھارت کے ساتھ خوش گوار تعلقات اور دوستی سے متعلق دونوں ملکوں کے خواب چکنا چور ہوتے چلے گئے۔ چین اور پاکستان کا دفاعی تعاون بلندیوں کو چھورہا ہے اور اس گرم جوش تعلق کے باوجود کسی باقاعدہ فوجی اڈے کی کیا ضرورت باقی رہتی ہے؟مگر مغرب اور بھارت کو چین پاکستان دفاعی تعاون کو مستقل موضوع بحث بنائے رکھنے کے لئے مواد کی ضرورت رہتی ہے۔سی پیک کے بعد فوجی اڈے کی دُر فنطنی کے پیچھے یہی مقصد ہے۔

اداریہ