Daily Mashriq

بجلی کی ترسیل کا بوسیدہ نظام

بجلی کی ترسیل کا بوسیدہ نظام

کسی دل جلے شاعر نے کہا ہے 

ہم نے چاہا تھا کہ حاکم سے کریں گے فریاد
وہ بھی کم بخت ترا چاہنے والا نکلا
ہم نے اپنے ایک حاکم سے فریاد کی کہ حضور! اندھیروں میں پڑے ہیں' کچھ اس کا علاج فرما دیجئے۔ وہ بھی ایک ستم ظریف نکلے ' اندھیروں کا مداوا کیا کرتے الٹا ہم پر الزام دھر دیا' تم سب چور ہو۔ اندھیرے تمہارے نصیب میں ہیں' بھگتو۔ کیا کہہ سکتے تھے خاموش ہوگئے ۔ مگر وہ جو کہتے ہیں تنگ آمد بہ جنگ آمد۔ وہاں پشاور میں ایک عوامی نمائندے کو غصہ آیا جم غفیر لے کر گریڈڈ سٹیشن پر چڑھ دوڑے۔ اس پر قبضہ کیا اور وہاں نصب تمام فیڈرز کھول دئیے۔ بجلی والوں کی پھر ان سے گفت و شنید ہوئی اور علاقہ مکینوں کو کچھ سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا۔ یہ اس صوبے کی صورتحال ہے جہاں کے پانی سے حاصل ہونے والی بجلی 80فیصد پاکستان کو روشن رکھتی ہے۔
نندی پور پاور سٹیشن اور رینٹل پاور سٹیشن جیسے تجربے کارپردازوں کی نا اہلی کی وجہ سے ناکام ہوچکے ہیں۔ زبانی دعوئوں کا بازار اب بھی گرم ہے۔ وزیر اعظم نے رمضان سے پہلے اعلان کیا تھا کہ رمضان میں لوڈشیڈنگ برداشت نہیں کروں گا۔ قوم تو مگر برداشت کر رہی ہے۔ یہ موصوف نے اپنے لئے کہا ہوگا۔ آج تک سحری اور افطار د ونوں اوقات میں اندھیروں کا راج قائم رہا ہے۔ دوسرے اوقات میں بھی چوبیس گھنٹوں میں کم و بیش 8 سے بارہ گھنٹے تک بجلی سے قوم محروم رہتی ہے۔ اس کے بعد بھی وزیر اعظم صاحب نے کئی بار برہمی کا اظہار کیا واپڈا والوں کو برا بھلا کہا' جلی کٹی سنائیں لیکن ان پر ان تمام باتوں کاکوئی اثر نہیں ہوا۔ قوم پہلے بد دعائیں دیا کرتی تھی اب کوسنوں پر اتر آئی ہے اورکونسے ایسے کلاسک ٹائپ کے ہوتے ہیں جنہیں سن کر علامہ چرگیں بھی شرما جائیں اور اپنا دیوان جلا دیں۔ ہم بجلی والوں کو اس ضمن میں بالکل بے قصور سمجھنے ہیں جب ملک میں بجلی موجود ہی نہیں تو وہ اپنے خون سے بجلی پیدا کرنے سے تو رہے ۔ ہمیں تو یوں لگتا ہے کہ 70سال گزر جانے کے باوجود ہمارے حکمران زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں بڑھے۔ ہمارے دوست اقبال فلسفی نے گزشتہ روز ایک ماہر برقیات انجینئر کی تقریر کے چیدہ چیدہ نکات بیان کئے۔ یہ انہوں نے انجینئر کی کسی تقریر سے اخذ کئے تھے۔ ماہر برقیات نے اپنی تقریر میں پورے وثوق سے کہا ہے کہ صرف گلگت بلتستان میں پانی کے قدرتی وسائل سے دو لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
وادی سوات کے آبی وسائل بھی اگر بروئے کار لائے جائیں تو بجلی کی پیداوار میں مزید ہزاروں میگا واٹ کا اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں ہوا سے (Power) 50ہزار میگا واٹ تک بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ سب ملا کر کم و بیش 3لاکھ میگا واٹ بجلی بن جاتی ہے جو 10 پاکستانوں سمیت پورے بر صغیر ایشیاء کی توانائی کی ضروریات کے لئے آئندہ ایک سو سالوں تک کافی ہے۔ فی الوقت ملک کو صرف 24 ہزارمیگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر پانی و بجلی نے بتایا کہ ہم اختتام ہفتہ 19ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
جبکہ طلب کم و بیش ساڑھے سترہ ہزار میگا واٹ رہی۔ مطلب اس کا یہ ہوا کہ شارٹ فال صرف ڈیڑھ ہزار میگا واٹ رہا۔ اس حساب سے تو ضروری تھا کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ جو آج کل شہری علاقوں میں 8 سے دس گھنٹے اور دیہات میں18گھنٹے تک پہنچ چکا ہے وہ گھٹ کر ایک یا دو گھنٹے رہ جاتا لیکن قوم 19 ہزار میگا واٹ کی ریکارڈ پیداوار کے ثمرات سے محروم رہی اور مسلسل اسے لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا ہے۔ پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر اور وزیر مملکت پانامہ لیکس کی گزشتہ ڈیڑھ سال سے تعبیر و تشریح سے فارغ نہیں ہوتے تو وہ اپنی وزارت کے مسائل کی طرف کیا توجہ دیں گے۔ ایک تو لوڈشیڈنگ بھگتنے کے 30 سالہ تجربے کے باوجود ہم اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے فرق کو آج تک نہ سمجھ سکے۔ گزشتہ رات کسی پرائیویٹ ٹی وی چینل پر یہ پٹی چل رہی تھی کہ ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اور یہ کہ کہیں پر بھی شیڈول کے بغیر بجلی بند نہیں کی جاتی۔ صورتحال یہ ہے کہ یہ شیڈول صارفین کو اطلاع دئیے بغیر روزانہ تبدیل کئے جاتے ہیں۔ بجلی والوں کو از خود یہ شیڈول جاری کرنے کی توفیق نہیں ہوتی اور ہم جیسے عام صارف کی بجلی کے کسی ذمہ دار افسر تک رسائی ممکن نہیں۔ یہ شیڈول اگر اس کا کوئی وجود ہے علاقے کا لائن مین اپنی مرضی سے ترتیب دیتا ہے جب بھی اس کا دل چاہے بانس کا ندھے پر اٹھا ' علاقہ مکینوں کو اندھیروں کے سپرد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ پوچھنے پر بتاتے ہیں کہ بجلی کے پرانے تار یعنی لائن بجلی کی مسلسل سپلائی برداشت نہیں کرسکتی۔ ہمیں ایک بار یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ گرڈ سٹیشن میں فیڈرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے ان کے گرد گیلی بوریاں لپیٹی گئی ہیں ۔ ہمیں تو یقین جا نئے بجلی کے کارندوں پر رحم آتا ے کہ وہ کن نا مساعد حالات میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں شکایات بھی بے شمار ہیں جن میں بیشتر درست ہیںان کے بارے میں عجیب وغریب کہانیاں موجود ہیں اور ایک حد تک بجلی کی ضیاع کے وہ بھی ذمہ دار ہیں تفصیل کبھی آئندہ پیش کریں گے۔ ہماری رائے تو یہ ہے کہ جب تک بجلی کے ازکار رفتہ نظام کو Renovate نہ کیاجائے 25 ہزار میگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت حاصل کرنے کے باوجود ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کہ ترسیلی نظام کی بوسیدگی ہی اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
وما علینا الاالبلاغ۔

اداریہ