Daily Mashriq


بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

وطن عزیز کا کچھ خیال کیجیے اس کی خبر لیجیے مسائل کے اژدھا اسے ہڑپ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ان گنت مسائل اور پریشانیاں ہیں جن کے ذکر سے اخبارات بھرے ہوتے ہیںان پر کالم باندھے جاتے ہیں۔ مضمون لکھے جاتے ہیںہر کوئی اپنے نکتہ نظر سے بات کرتا ہے سب پاکستان سے محبت کرتے ہیں سب کو پاکستان کی سلامتی عزیز ہے سب اسے تا قیامت قائم و دائم دیکھنا چاہتے ہیں ۔جہاں دو چار ہم طبیعت مل بیٹھتے ہیں اسی قسم کے بحث مباحثے شروع ہو جاتے ہیں۔کل اسی قسم کی ایک محفل میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا تو بہت سے لوگوں کے اقوال زریں سننے کا موقع ملا۔تقریب تو افطار کے حوالے سے تھی جسے آپ افطار پارٹی کا نام دے سکتے ہیں۔جب رمضان شریف آہستہ آہستہ عید الفطر کے قریب ہونے لگتا ہے تو افطارپارٹیاں شروع ہو جاتی ہیں۔بہت سی مساجد میں پانچ پارے روزانہ پڑھ کر چھ دنوں میں ختم القرآن کی تقریب منا کر مومنین آزاد ہو جاتے ہیں ۔ ہم ذاتی طور پر افطار پارٹیوں میں شرکت سے اجتناب کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار میزبان اتنا زور آور ہوتا ہے کہ پھر آپ کی ایک نہیں چلتی اور آپ کو بہ امر مجبوری شرکت کرنا پڑتی ہے۔شرکت نہ کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ افطار کا وقت ذرا فری سٹائل قسم کا ہوتا ہے۔آپ اپنے گھر میں بنیان پہنے اپنے سامنے بچھی ہوئی شیٹ کی طرف حریصانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیںآپ کی نگاہوں کا مرکز روح افزا کے ٹھنڈے ٹھار شربت کا پتیلا ہے۔ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں کچھ دعا ئیں بھی مانگی جارہی ہیں لیکن نظریں دیوار کے ساتھ آویزاں کلاک پر ہیں ۔کان اس انتظار میں ہیں کہ مولوی صاحب کی کانوں میں رس گھولتی آواز پڑے تو سامنے پڑی ہوئی نعمتوں پر یلغار کی جا سکے۔چھوٹے بچے کو بار بار صحن کی طرف بھیجا جارہا ہے کہ یار دیکھو اذان کی آواز تو نہیں آرہی لگتا ہے آج مولوی صاحب اذان دینا بھول گئے ہیں۔گھڑی چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ بھائی ابھی اذان میں پانچ منٹ باقی ہیںلیکن سولہ گھنٹے انتظار کرنے والوں سے صرف پانچ منٹ انتظار نہیں ہوتا۔ اور پھر اذان کے ساتھ ہی وہ گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ خدا کی پناہ! چند لمحوں میں کشتوں کے پشتے لگ جاتے ہیں۔یہی سب کچھ افطار پارٹیوں میں بھی ہوتا ہے لیکن ذرا سلیقے سے میزبان اور دوسرے مہمانوں پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے تھوڑے بہت تہذیب کے تقاضے بھی نباہنے پڑتے ہیں۔ چیزوں پر جھپٹا تو وہاں بھی جاتا ہے لیکن بقول غالب۔کچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے۔وہ جو کہتے ہیں کہ جو مزے اپنے چوبارے نہ بلخ نہ بخارے۔افطاری کے بعد میزوں پر چند مضروب ہڈیاں اور سموسوں کے کچھ بچے کچھے ٹکڑے زبان حال سے پکار پکار کے حضرت انسان کی نہ ختم ہونے والی بھوک کی داستان الم سنا رہے ہوتے ہیں ۔پشتو کی ایک ضرب المثل ہے کہ بھرا ہوا پیٹ فارسی بولنے لگتا ہے اب اللہ کی نعمتوں سے فیض یاب ہونے کے بعد دوستوں کے چودہ طبق روشن ہوئے تو انہوں نے گپ شپ کی محفل سجا لی ایسی محفلوں میں عام طور پر ہر دوسرے آدمی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی علمیت کے رعب سے حاضرین محفل کو مسحور کردیں۔ اس حوالے سے یہ افطار پارٹی اس لیے خود کفیل تھی کہ اس میںدو تین ایسے افسر شاہی کے ریٹائرڈ حضرات موجود تھے جن کے پاس ملک و قوم کے لیے اپنی نہ ختم ہونے والی خدمات کی طویل داستانیں تھیںاور جو انہیں سنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ایک صاحب تو ہر مسئلے کو چٹکیوں میں حل کرنا جانتے تھے لیکن اس کے لیے انہیں اختیارات کی ضرورت تھی یہ علیحدہ بات ہے کہ جب وہ صاحب اختیار تھے تو ان کی ساری توجہ پلازے بنانے پر مرکوز رہی۔ اس وقت انہیں ملکی مسائل کے حل سے زیادہ اپنے بینک بیلنس میں اضافے کا شوق تھاحاضرین کی نگاہوں کا مرکز حال ہی میں سبکدوش ہونے والے ایک ڈائریکٹر صاحب تھے ۔ جن کے لہجے کا خلوص بتا رہا تھا کہ بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔انہیں اس بات کا افسوس تھا کہ پاکستان ایک اچھی قیادت سے محروم ہے وطن عزیز کے مسائل کا حل ایک دیانت دار رہنما کے پاس ہی ہو سکتا ہے۔قوموں کی قسمت اس وقت بدلتی ہے جب اللہ پاک انہیں ایک با صلاحیت قیادت سے نوازتا ہے ان کا کہنا تھا کہ دیانت دار قیادت سے محرومی اللہ پاک کے عذاب کی ایک شکل ہے۔ ہمارے اعمال کے مطابق ہمیں حکمران عطا کیے جاتے ہیں آپ اپنے معاشرے میں موجود کرپشن دیکھ لیںاس کے علاوہ ہم نفاق کے عذاب میں بھی مبتلا ہیں۔بھائی بھائی کو مار رہا ہے پڑوسی پڑوسی کا گلا کاٹ رہا ہے اب ذرا سوچیے ہمارے معاشرے میں تشدد کتنا بڑھ گیا ہے۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ اچانک کانوں میں اذان مغرب کی صدا آئی بس پھر کیا تھا ایک اور میدان روزہ داروں کا منتظر تھا وہ سب میزوں کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ لپکے کیونکہ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کے ساتھ پورا پورا انصاف بھی تو کرنا تھا۔

متعلقہ خبریں