امن مدینے کے اندر تم جھانکو تو

امن مدینے کے اندر تم جھانکو تو

گزشتہ جمعتہ المبارک کے روز جب حسب معمول میں نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے قریبی مسجد گیا تو وہاں ایک پولیس سب انسپکٹر اور ایک ماتحت کو بھی مسجد میں داخل ہوتے دیکھا ، ہمارے علاقے کی یہ مسجد گلی کے اندر ہے اس لیے اہل علاقہ نے یہاں جمعہ کے روز بھی پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی دیتے کم کم ہی دیکھا ہے بہ نسبت علاقے کی دوسری مساجد کے ،ا س لئے تعجب ، کا ہونا فطری امر تھا کہ اس صورتحال کا احساس اس لئے بھی زیادہ گہرا ہوگیا کہ بے چارے تھانیدار صاحب جو توں سمیت مسجدمیں داخل ہو رہے تھے کہ انہیں اس غلطی کا احساس میں نے مسجد میں داخل ہوتے وقت باہر ہی اپنے جوتے اتارکر دلا یا تو انہیں اپنی غلطی پر افسوس بھی ہوا اور انہوں نے کانوں کوہاتھ لگاتے ہوئے اللہ کے حضور اپنی اس لغزش پر معافی بھی طلب کی کیونکہ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ مسجد کی حدود گلی میں مسجد کے دروازے ہی سے شروع ہو رہی ہیں یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے ، اصل بات جس نے مجھے پولیس کے کردار پر خوش ہونے اور اپنے فرائض سے بڑھ کر اصلاح معاشرہ کیلئے کردار ادا کرنے پر بحیثیت مجموعی پولیس کے محکمے کی تعریف پر مجبور کیا ہے اس کی جانب توجہ دلا نا ضروری ہے ویسے تو ہم لوگ عمومی طور پر ہمیشہ پولیس سے شاکی رہتے ہیں جس کے مظاہر اکثر و بیشتر سامنے آتے رہتے ہیں ،جیسے کہ حال ہی میں ڈاکٹر وں کے حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے ان ڈاکٹرو ں پر یلغار کے حوالے سامنے آنی والی خبریں ہیں اور جس پر ڈاکٹر وں نے آئندہ پولیس اہلکاروں کے علاج معالجے سے انکار کرنے کا بھی اعلان کیا ، تاہم اس معاملے میں حق پر کون تھا اور زیادتی کس نے کی یہ ایک تحقیق آمیز مسئلہ ہے کیونکہ ڈاکٹروں پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے ہسپتال میں آپریشن تھیٹرز کے تالوں میں ایلفی ڈال کو جوکام کیا وہ غلط تھا ۔ اسی طرح آئے روز سڑکوں پر جس طرح رکشو ں ، ریڑھی والوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر پولیس والے پوری سروس کی بد نامی کا باعث بنتے ہیں وہ بھی اپنی جگہ ، تاہم محولہ پولیس انسپکٹر نے مسجد کے اندر داخل ہو کر پیش امام سے مائیکروفون طلب کیا اور تمام نمازیوں کی توجہ مبذول کرتے ہوئے بطور خاص رمضان کے آخری دنوں میں رویت ہلال کے اعلان کے بعد بعض افراد کی جانب سے ہوائی فائرنگ کو روکنے میں عوام الناس کی مدد طلب کرتے ہوئے جس دلسوزی سے اپیل کی اورہوائی فائرنگ کے مضمرات عوام پر واضح کئے اس نے پولیس کے اس مثبت طرز عمل پر ہی یہ کالم تحریر کرنے پر آمادہ کیا ، حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ پولیس کا کام توجرم سرزد ہونے کے بعد متعلقہ ملزمان کی تلاش اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنا ہوتا ہے ، جبکہ اب کی بار نہ صرف محکمے کی جانب سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی جرم سرزد ہونے سے پہلے ہی اس کی راہ میں جائز قد غنیں لگانے کی جو شعوری کو ششیں کی جارہی ہیں ان میں شہر بھر کی مساجد میں جا کر عوام الناس کو اس حوالے سے ترغیب و تربیت دینے کا یہ اندازنیا بھی ہے ، خوش آئند بھی اور قابل صد ستائش بھی ، کیونکہ بقول محولہ پولیس انسپکٹر ، فائرنگ کرنے والوں کیلئے تو یہ ایک شغل ہو سکتا ہے مگر ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں پستول ، بندوق ، کلاشنکوف یا کسی اور آتش ہتھیار سے نکلی ہوئی گولی فضا میں جا کر جب واپس زمین پر آتی ہے تو اس کے نتیجے میں اکثر جان لیوا حادثات جنم لیتے ہیںاس پر لگ بھگ چالیس 45سال پہلے کا ایک واقعہ یاد آگیا جب اسی طرح شاید رمضان المبارک یا عید الفطر کے موقع پر چاند نظر آنے کی خبر کے بعد ہوائی فائرنگ ہو رہی تھی تو اچانک میری چچا زاد بہن جس کی تب عمر شاید چھ یا سات سال ہو گی نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا ، اس کے پائو ں کے نیچے سے خون بہہ رہا تھا ۔ گھر والے یہ سمجھے شاید کسی پتھر پر پائو ں پڑنے سے زخمی ہو گئی ہے ، مگر اس کی فریاد کسی طور کم نہ ہونے کی وجہ سے جب اسے قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ تو ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں اوپر سے آنے والی پستول کی گولی سے زخمی ہوئی ہے ، اسے فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے چھوٹا سا آپریشن کر کے گولی نکال کر پٹی باندھی ، ایسے واقعات اب بھی معمول کا حصہ ہیں اور اکثر وبیشتر لوگوں کی جان بھی چلی جاتی ہے ، تاہم پولیس والوں کی جانب سے ہر محلے ، ہر گلی میں مساجد میں جا کر اس ضمن میں عوام کی آگہی کی مہم چلا نا قابل تحسین ہے ، اگر چہ اس مہم کی کامیابی کی سوفیصد امید تو نہیں کی جا سکتی اور جو لوگ اس غیر انسانی مرض میں مبتلا ہیں ان میں سے بہت ہی کم ایسے ہوں گے جو اس مہم سے متاثر ہو کر اس کام سے ہاتھ کھینچ لیں گے کیونکہ ایسے مواقع پر ان کے ہاتھوں میں خود بخود خارش ہونا شروع ہو جاتی ہے چونکہ بقول مرزا غالب وہ اپنی خونہ چھوڑ نے کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اس لئے زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ یہ لوگ ہوائی فائرنگ سے باز آجائیں گے ۔ مگر پولیس کے محکمے کے کردار کی توصیف نہ کرنا بھی زیادتی ہے اور وہ اس کبوتر کی مانند جس نے حضرت ابراہیم کیلئے بھڑکائی جانے والی آگ پر چونچ میں بھر بھر کر پانی ڈالنے کی اپنی سی کوشش تو کر ڈالی تھی ، یقینا اس معاشرتی بگاڑ کے خلاف میدان عمل میں اتر چکی ہے اور امید ہے کہ اگر پولیس اسی طرح اصلاح معاشرہ کیلئے کردار اد کرتی رہی تو ایک دن ضرور اس مسئلے پر قابو پانے میں ہم کامیاب ہو جائیں گے ۔ اس صورتحال پر میرا اپنا ہی شعر ملاخہ فرمایئے ۔ 

امن مدینے کے اندر تم جھانکو تو
ہر منڈیر پہ فاختہ اک رقصاں ہوگی

اداریہ