Daily Mashriq

محمد مرسی، ضرورتوں اور خوف کا قتیل

محمد مرسی، ضرورتوں اور خوف کا قتیل

مسلمانوں پر ہمیشہ مغرب کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ جمہوری مزاج نہیں رکھتے اسی لئے وہ جمہوریت کو قبول نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا مزاج جمہوریت سے لگاؤ نہیں کھاتا۔ الجزائر کے بعد مصر میں مغرب کی سرپرستی میں مغربی جمہوریت کیساتھ جو ہوا وہ ایک ناراض اور باغی مسلم نوجوان کو باورکرانے کیلئے کافی ہے کہ مغربی جمہوریت ان کیلئے بنی ہی نہیں۔ یہ ایک مخصوص کلچر کی دین ہے اور اسی کلچر میں زندہ رہتی ہے اور اپنے پھلنے پھولنے کیلئے ایک مخصوص کلچر کی تمنائی اور محتاج ہوتی ہے۔ مغربی جمہوریت کو اپنانے کیلئے کسی بھی آبادی کیلئے ایک مخصوص حلیہ اور وضع قطع اپنانا لازمی ہے۔ ایک مخصوص نظرئیے کی مالاجپنا ضروری ہے۔ اس معیار سے ہٹ کر جو جمہوریت آئے گی وہ قابل قبول نہیں ہوگی۔ مصر کی تاریخ کے پہلے اور آخری منتخب جمہوری حکمران محمد مرسی گزشتہ روز عدالت میں پیشی کے موقع پر انتقال کر گئے۔ عالم اسلام میں یہ خبر انتہائی رنج وغم کیساتھ سنی گئی۔ محمد مرسی جدید مسلم دنیا کی اولین اسلامی تحریک اخوان المسلمین سے تعلق رکھتے تھے۔ اس تنظیم کی بنیاد مصر کے انقلابی مفکر حسن البنا شہید نے رکھی تھی اور سید قطب جیسے نابغۂ روزگار قلم کار، دانشور اور مصنف نے اس تحریک کی فکری آبیاری کی تھی۔ جب یہ تحریک شروع ہوئی تو عالم اسلام بدترین افراتفری، انتشار اور غلامی کا شکار تھا۔ مسلمان صلیبی جنگوں اور سپین کے حالات کے بعد پیدا ہونے والے احساس برتری اور حاصل ہونے والے اعتماد کی چکی میں پس رہے تھے۔ مغربی استعمار اور یورپ عالم اسلام کو گرم کیک کی طرح ٹکڑوں میں بانٹ کر ہضم کر رہا تھا۔ ان کی تہذیب کا جنازہ نکالنے کا عمل زوروں پر تھا ان کے نظریات سرقہ بازوں کی زد میں تھے۔ ان کے نظرئیے میں قطع وبرید کی کوششیں جاری تھیں۔ مسلمان مغرب سے مشرق تک مایوسی اور انتشار کا شکار تھے۔ اسلام کو ایک زندہ وجاوید اور متحرک نظرئیے کی بجائے چند عبادت اور رسوم کا حامل منجمد مذہب بنانے کی کوششیں زوروں پر تھیں۔ منظم مہم کے تحت مسلمانوں کو اپنے ماضی سے شرمندہ اور نادم کیا جا رہا تھا۔ انہیں ذہنی اور فکری طور پر کنفیوژن کا شکار کرنے کیلئے مختلف فتنے کھڑے کئے جا رہے تھے۔ عرب اس جارحانہ سوچ کا اصل ہدف اور مرکز تھا۔ مسلمانوں کو آج کی ہی طرح جہادی، اجڈ، قاتل اور جدیدیت کا دشمن ثابت کیا جا رہا تھا۔اس ماحول میں مصر کے امام حسن البنا نے اخوان المسلمین کے نام سے اصلاحی تحریک کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک کو سید قطب اور زینب العزالی جیسی اولیٰ العزم شخصیات کی حمایت حاصل ہوئی۔ اخوان المسلمین نے مسلمانوں کے زوال کی وجوہات کی نشاندہی کرنے کیساتھ ساتھ اس بات کا دوٹوک اعلان کیا کسی بھی جدید ریاست کو اسلام کے اصولوں کے تحت کامیابی کیساتھ چلا یا جا سکتا ہے اور یہ کہ اسلام دورحاضر کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ مغرب نے ان نظریات کو پولٹیکل اسلام کا نام دیکر رکاوٹوں اور معاندانہ کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا۔ امام حسن البنا کو شہید کیا گیا، سید قطب کو پھانسی دی گئی اور اخوان المسلمین کو پابندیوں کا شکار کیا گیا۔ مدتیں اسی ابتلا وآزمائش میں گزر گئیں۔ مغرب نے اس تحریک کو کچلنے کیلئے عرب حکمرانوں کو بے رحمی سے استعمال کیا ایک کے بعد دوسرا جلاد آتا اور رخصت ہوتا رہا، اخوان پر ابتلا وآزمائش کا موسم بدستور سایہ فگن رہا۔ زنجیر ان کے بازوؤں میں کھنکتی رہی اور جیلوں اور عقوبت خانوں کی رونقیں انہی کے دم قدم سے بحال رہیں۔ جمال عبدلناصر، انورالسادات اور حسنی مبارک جیسے حکمران آتے اور جاتے رہے مگر اخوان المسلمین پر جبر کا کوڑا برستا رہا۔ یہاں تک کہ مغرب نے سوشل میڈیا کے ذریعے عرب سپرنگ برپا کی۔ مغرب کو عرب دنیا میں جمہوریت کا سودا بیچنے کا خیال آگیا مگر مغرب کی مشکل یہ تھی کہ بوڑھے عرب حکمرانوں کا متبادل اگر جمہوریت تھی تو جمہوریت اور جدوجہد کا میدان اخوان المسلمین جیسی تنظیموں کے ہاتھ میں تھا۔ یہ مغرب کیلئے ایک امتحان تھا کہ وہ وقت گزیدہ اور دولت پرست عرب حکمرانوں کے مقابلے میں عرب دنیا کی زمینی حقیقت کو من وعن قبول کرتے ہیں یا ان کے اندر کا خوف اور ماضی کا جوش اُبل کر یہاں بھی کوئی فاؤل پلے کھیلتا ہے۔ افسوس کہ مغرب نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا۔ اس خوف اور تضاد میں مصر میں پہلے آزادانہ انتخابات کا معرکہ اخوان نے جیتا اور محمد مرسی مصرکے پہلے منتخب صدر قرار پائے۔ محمد مرسی نے بہت خاموشی کیساتھ مصر میں دستور کو اسلامی بنانے اور مصر کو سیکولرازم سے دوبارہ اسلام کی طرف لانے کا کام شروع کیا اور ان کے جلسوں میں برملا الجہاد سبیلنا اور عربوں کی مشترکہ یونین کی بات ہونے لگی جو ظاہر ہے اسرائیل کو گوارا نہیں تھی۔ اسرائیل اپنے پہلو میں ایک ٹھیٹھ اسلامی ریاست کا وجود کیونکر گوارا کر سکتا تھا اس لئے محمد مرسی کیخلاف ایک سال کے اندر اندر سازشوں کا جال بنا جانے لگا۔ بدقسمتی سے کئی مسلمان ممالک بھی اس سازش میں شریک ہو گئے اور یوں ایک روز فوج نے جنرل عبدالفتح السیسی کی قیادت میں محمد مرسی کا تختہ اُلٹ کر مصر میں جل اُٹھنے والا جمہوریت کا چراغ گل کر دیا۔ اخوان پر مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ان کے پرامن مظاہرین کو رابعۃ الندوہ میں گولیوں سے سفاکی سے بھون ڈالا گیا۔ محمد مرسی کو پہلے سزائے موت پھر عمر قید ہوگئی اور پانچ سال سے وہ نہایت جرات اور پامردی کیساتھ زنداں میں حالات کا مقابلہ کر رہے تھے۔ محمد مرسی ایک جدید تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمان راہنما تھے۔ انہوں نے امریکہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی مگر ان کے نظریات امریکہ کو گوارا تھے نہ اسرائیل کیلئے قابل قبول اور نہ اپنے ہم مذہبوں کو وارا کھاتے تھے۔ سب ضرورتیں اور خوف یکجا ہوئے۔ پہلے محمد مرسی کی حکومت اور آخرکار ان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا، یوں مصر ہی نہیں عالم اسلام اتحاد بین الالمسلمین کے علمبردار ایک جدید اور بے باک قائد سے محروم ہوگیا۔

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

متعلقہ خبریں