Daily Mashriq

ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا

ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا

عصرِحاضر کے لکھنے والوں میں برادرم مظہر برلاس کی شگفتہ تحریریں اپنی منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ ایسا لکھتے ہیں کہ پڑھنے والا تحریر کیساتھ بہتا چلا جاتا ہے۔ وہ دل کی بات بھی کر جاتے ہیں اور دوسرے کو چوٹ بھی نہیں لگتی۔ ان کے دھیمے مزاج کا عکس ان کی تحریروں میں چھلکتا ہے۔ وہ کم ہی غصے میںآتے ہیں لیکن جب اس کیفیت میں ہوں تو لگی لپٹی نہیں رکھتے اور دل کا بوجھ ٹھیک طرح سے اُتارتے ہیں۔ ان کا کالم ’’بجٹ تو ٹھیک ہے مگر‘‘ ایک ایسی ہی تحریر ہے جو ناگواری کے عالم میں لکھی گئی ہے۔ اُن کا غصہ وزیراعظم کے مشیروں پر ہے جن کی وجہ سے وزیراعظم کو آئے دن خفت اُٹھانی پڑتی ہے۔ تازہ ترین غلطی بجٹ کے دن وزیراعظم کے قوم سے خطاب میں دیکھنے کو ملی۔ برلاس صاحب کے مطابق وزیراعظم کے مشیروں نے ان کی تقریر دیکھی نہ پڑھی۔ ایک ریکارڈ شدہ خطاب میں ان غلطیوں کی درستگی ہو سکتی تھی مگر نہ کی جا سکی۔ مظہر برلاس کی اس بات سے سوفیصد اتفاق ہے کہ قریبی احباب اگر تاریخ اور زبان وبیان کی نزاکتوں سے آگاہ ہوں تو غلطی کا احتمال کم ہوتا ہے۔ کافی عرصہ قبل کی بات ہے ہمارے ایک دوست وزیر نے سیرت النبیؐ کانفرنس میں تقریر کرنا تھی۔ وزارت کی جانب سے لکھی ہوئی تقریر اُن کو بھیجی گئی۔ اتفاق سے اُس وقت میں اُن کی رہائش گاہ پر موجود تھا۔ انہوں نے مجھے تقریر دیکھنے کیلئے دی۔ میں نے تقریر پڑھی تو حیرت ہوئی کہ سیرت النبیؐ کانفرنس جس موضوع پر تھی اس کے بارے میں قرآن کریم کی کسی آیت یا حدیثؐ مبارکہ کا حوالہ موجود نہ تھا۔ میری نشاندہی پر آیت قرآنی اور حدیث کے حوالے کا بندوبست کیا گیا۔ مزید برآں تقریر میں ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لفظ ’’شاید‘‘ کا استعمال کیا گیا تھا جو اس اعتبار سے نامناسب تھا کہ وفاقی وزیر کے منصب پر بیٹھے شخص نے تقریر کرنی تھی۔ میرے کہنے پر لفظ ’’شاید‘‘ کو ختم کر دیا گیا کہ وہ واقعہ تاریخ کی کتابوں میں درج تھا اور اس ضمن میں ’’شاید‘‘ کا استعمال انتہائی غیرضروری تھا۔وزیراعظم نے غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد کا ذکر کرتے ہوئے جو لفظ استعمال کئے وہ ان کی بے ساختہ ادائیگی تھی لیکن زیادہ بہتر الفاظ اور مناسب انداز سے یہ سب کچھ کہا جا سکتا تھا۔تاریخ کی کتابوں میں بھی غزوۂ اُحد کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے ’’لوٹنے‘‘ کے لفظ استعمال کئے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کی کتاب ’’الرحیق المختوم‘‘ جو سیرت النبیؐ پر انعام یافتہ کتاب ہے میں لکھا ہے کہ ’’تاکیدی احکامات کے باوجود جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان دشمن کا مال غنیمت لوٹ رہے ہیں تو اُن پر حُبِّ دنیا کا کچھ اثر غالب آ گیا‘‘ الغرض اس طرح کے الفاظ تاریخ کی کتابوں میں لکھے گئے ہیں۔ تاہم پھر بھی احتیاط ضروری ہے‘چنانچہ جہاں بہتر الفاظ کا انتخاب کیا جاسکتا ہے وہاں غلطی کیوں کی جائے۔ پاکستان میں بعض لوگوں کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ ’’لفظ‘‘ پکڑنے پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ اُن کا کاروبار ہی اس پر چلتا ہے کہ وہ شریعت کے نام نہاد پہرے دار بن کر لٹھ برساتے رہیں۔پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے موقع پر بھی خاص طور پر اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کی گئی جو بڑی تکلیف دہ بات ہے۔ وزیراعظم ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں، وہ نبیؐ کی ذات بابرکات سے خاص اُلفت کا ہمیشہ ذکر کرتے رہتے ہیں‘ مزید برآں صحابہ کرامؓ کے بارے میں ان کا عقیدہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ اور دیگر خلفائے راشدین کی اعلیٰ حکمرانی کے بارے میں وہ ہمیشہ عقیدت کا اظہار کرتے پائے گئے ہیں لیکن افسوس ہوتا ہے اُن لوگوں پر جو یہ سب کچھ جاننے کے باوجود لفظ پکڑنے میں مصروف رہتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائدین خاص طور پر اسمبلی میں زیادہ متحرک نظر آئے اور ان کی شدید خواہش دکھائی دیتی ہے کہ کسی طرح مذہب کے تناظر میں عمران خان کی حکومت کو گھیر لیا جائے۔ میری رائے میں انہیں اس طرح کے طرزسیاست سے اجتناب کرتے ہوئے اچھے خطوط پر اپنی سیاست کو استوار کرنا چاہئے تاکہ قومی سیاست میں ان کی بہتر جگہ بن پائے۔ ایک ایسے وقت میں جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت مشکل ترین حالات سے گزر رہی ہیں اور دونوں جماعتوں کا سیاسی بیانیہ دن بدن کمزور ہوتا جا رہا ہے‘ مذہبی جماعتوں کے پاس ایک بار پھر اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی گنجائش بن رہی ہے لیکن عوام میں انہیں پذیرائی تب ملے گی جب وہ تعمیری سیاست کو اپنائیں گے۔ جن دنوں متحدہ مجلس عمل کو عوامی پذیرائی مل رہی تھی سابق وزیراعظم مرد درویش ملک معراج خالد سے کسی انٹرویو میں پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں پاکستان میں کون سی جماعت بنیادی انقلابی تبدیلی لانے کا سبب بن سکتی ہے تو ان کا جواب تھا پاکستان کی مذہبی جماعتیں! لیکن شرط انہوں نے یہ بتائی کہ ’’بشرطیکہ وہ حضرت قائد اعظمؒ اور حضرت علامہ اقبالؒ کے نظریات وافکار کے مطابق اپنا لائحہ عمل تشکیل دیں‘‘۔

الفاظ کی حرمت اپنی جگہ ہے اور بجاطور پر اس کا خیال کیا جانا چاہئے مگر بے دھیانی میں ادا کئے ہوئے الفاظ کو پکڑ کر تکفیر کے فتوے صادر کرنا اور لٹھ لیکر مارنے کو دوڑنا کسی طور پر بھی مناسب اور موزوں نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی بابت تو یہ شعر صادق آتا ہے کہ

ہم دعا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے

ایک نقطے نے محرم سے مجرم بنا دیا

متعلقہ خبریں