Daily Mashriq


انتہا پسند و ں کو شکست

انتہا پسند و ں کو شکست

اسلا م دنیا کا واحد دین ہے جو اس امر کی تعلیم دیتا ہے کہ دین میں جبر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت دو سو چھپن میں اس بارے میں مصفا ارشاد کیا ہے لیکن باطل قوتوں نے جبر کے خلا ف نئی اصطلا ح ایجا د کر کے دین میں جبر کا راستہ نکالا ہے اور اس اصطلاح کو سیکو لر ازم کا نا م دیا ہے۔ کہنے کو تویہ کہا جا تا ہے کہ ایسا نظام زندگی جس میں دین ومذہب کا جبر شامل نہ ہو لادینیت ہو ، مگر عملاًلو گو ں کو دین سے منحرف یا روکا جا تا ہے۔ خاص طورپر مسلما نو ں کے ساتھ یہ سلوک جبراً کیا جا تا ہے ، ان دنو ں مغرب کو جو اس وقت دنیا میں سیکو لر ازم کا سب سے بڑا داعی ہے تر کی بے انتہا کھٹک رہا ہے اور تر کی کے صدر اردگان کے خلاف دن رات سازشیں کی جا تی ہیں۔ تر کی میں حالیہ فوجی بغاوت اس کی سب سے بڑی مثال ہے ، طیب اردگان سے کیا بیریہ ہے کہ وہ مصطفٰی کما ل کے دور کے سیکو لر ازم کی آڑ میں اسلا م دشمنی کے داغ دھو رہا ہے ۔ حال ہی میں تر کی میں حجا ب لینے کی اجا زت د ی گئی تو بھی ان قوتو ں کے گردے سرخ ہو گئے جس میں ہا لینڈ پیش پیش تھا ۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ تما م قوتیں اسلام کے خلا ف اقدام کرنے پر کیو ں تلی ہو ئی ہیں۔ وقفے وقفے سے اسلا م کے خلا ف کوئی نہ کوئی انتہا پسندانہ اقدام کیا جا تا ہے ، کبھی قرآن فرقان کو آگ لگانے کا واقعہ رونما ہو تا ہے تو کبھی اس کی بے حرمتی کی جا تی ہے اور اسی طر ح انتہا ئی مقد س مسلم شخصیا ت کی توہین کی جا تی ہے لیکن سیکو لر ازم کا کوئی داعی نہ تو اس واقعہ کی مذمت کر تا ہے اور نہ احتجا ج کیا جا تا ہے بلکہ آزادی اظہا ر رائے کو بنیا د بنا ء کر فعل قبیح کی حما یت کی جا تی ہے ،اور روشن خیالی سے اس کو تعبیر کیا جا تاہے ۔ اسی انتہا پسند ی کی بنیا د پر امریکا کے عام انتخابات کے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ٹرمپ کی کا میا بی سے یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ اب دنیا نا م نہا د سیکولر ا زم کی طر ف قدم بڑھا رہی ہے حالا نکہ یہ سیکو لر ازم کی آڑ میں انتہا پسندی کی کامیا بی تھی۔ بہر حال یو رپ کے عوام میں ہنو ز شعو ر کا فقدان پید ا نہیں ہوا ۔ فرانس ، جر منی اور ہالینڈ میں دائیں بازوکی سیا سی قوتو ں کی مقبولیت بڑھی ہے ، اور سیکو لر ازم کی انتہا پسند جما عتو ں کی مقبولیت میںکمی حیرت انگیز طورپر گر رہی ہے۔ ہا لینڈ کی ایسی ایک سیاسی جما عت فریڈم پا رٹی ہے جس کے صدر گیر ٹ وائلڈرس کی اسلا م دشمنی مسلمہ ہے ، اور وہ دعویٰ کر تے ہیںکہ ہا لینڈ کو اسلا می اثرات سے پاک رکھا جا ئے گا ، جبکہ وہ اسرائیل کے زبردست حامی ہیں انہو ں نے نو سال پہلے یر وشلم میں جہا د کے خطرات کے نام سے ایک کا نفرنس سے خطا ب کیا تھا جس میں اسلا م کے خلاف دل کے پھپھولے پھوڑے تھے اسی سال انہو ں نے اسلام دشمنی پر مبنی فلم '' فتنہ '' کے ذریعے اسلا م مخالف قوتو ں کے جذبات کو ابھا رنے کی سعی بد کی تھی اور وہ ہالینڈ میں تارکین وطن کے سخت دشمن ہیں ۔ مسلمانو ں سے نفر ت کر تے ہیں گیر ٹ نے اپنی اسی نفرت کو اپنی جما عت کی حالیہ انتخابی مہم کا حصہ بنایا تھا اور''میرے اور مغرب کے خلا ف اسلام کی جنگ '' نامی کتا ب بھی تحریر کی مگر ہو ا کیا جب گزشتہ دنو ں ہالینڈ میں انتخابات ہو ئے تو پو ری ہا لینڈ قوم نے ان کو اور ان کی جماعت کو بری طر ح مسترد کر دیا ، جو ان نام نہاد سیکو لر قوتو ں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہے ۔ گزشتہ بدھ کو منعقدہ انتخابات میں ما رک روٹ کی جما عت وی وی ڈی کو پا رلیمنٹ میں سب سے بڑی جما عت بن جا نے کا اعزاز حاصل ہو ا ، جبکہ گیرٹ کی جما عت دوسرے نمبر پر رہی ،گو وہا ں کو ئی سنگل پا رٹی حکومت نہ بنا سکے گی دو تین جماعتوں کی مخلو ط حکومت ہی تشکیل پائے گی تاہم اسلا م کی مخالف جما عتو ں کے ہا تھ کچھ نہ آئے گا ۔ما رک روٹ کی جماعت دائیں بازو کی اعتدال پسند جما عت قر ار پا تی ہے ، ہالینڈ کے انتخا بی نتائج سے یو رپ میں اعتدال پسند جماعتوں کے حوصلے بلند ہو ئے ہیں یو رپ کی سیا ست میں ترکی کا دخل بڑ ھ گیا ہے ، ترکی کے صدر ترکی میں ایسے اقدام کرنے جا رہے ہیں کہ وہا ں سیکو لر ازم کے بد اثرات کا خاتمہ ہو سکے ، چنا نچہ طیب اردگا ن آئین میں ترمیم لارہے ہیں جس کی بنا ء پر ان کو زیادہ اختیا رات حاصل ہو جا ئیں گے ، بلکہ یو ں کہا جائے کہ تر کی میں صدارتی نظام رائج ہو جا ئے گا ، یہ با ت یو رپ کو کھل رہی ہے ، وہ نہیںچاہتے کہ اردگا ن مضبوط تر ہو تے چلے جا ئیں ، طیب اردگا ن نے اختیا رات کے حصول کے لیے معروف جمہو ری راستہ اختیا ر کیا ہے اور وہ اس سلسلے میں ملک میں ریفرنڈم کر ارہے ہیں۔ پاکستان کی طر ح آمر انہ رویہ نہیں اختیا ر کیا ہے کہ فاٹا کو صوبہ کے پی کے میں ضم کر نے کے لیے چند سیا سی لیڈرو ں کے بیا نا ت کو جو از بنایا جا رہا ہے اور پارلیمنٹ کی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جبکہ قبائلی عوام کی قسمت کافیصلہ کر نا مقصود ہے جس کا سب سے بہترین ذریعہ ریفرنڈم ہی ہو سکتا ہے۔ طیب اردگان اختیا ر کے حصول کے لیے ملک کے اندر ہی نہیں ملک سے باہر بھی جہا ں کہیں تر ک آباد ہیں وہاں بھی تر کوں سے ان کی رائے لینا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں طیب کے حامی بھی اور مخالف بھی مہم چلارہے ہیں اوروہ ترکی سے باہر تر ک عوام سے رابطے کے لیے جلسے جلو س کر نا چاہتے ہیں مگر یو رپ اور امریکا اس امر کی اجا زت دینے پر آما دہ نہیں ہیں ۔چند روز پہلے ترک وزیر انہی جلسو ں اور جلو س کے لیے ہالینڈ گئے تھے تو ہا لینڈ کی حکومت نے ان کو نکا ل دیا تھا جس کی وجہ سے ہالینڈ سے ترکی کی کشید گی میں اضافہ ہوا ۔ ہا لینڈ میں اسلا م کے خلا ف جو سر گرمیا ں ہو رہی ہیں وہ ہا لینڈ کے لیے مشکلا ت کا باعث بن سکتی ہیں کیوں کہ تارکین وطن کا مسئلہ سب سے زیا دہ گمبھیر ہے چنا نچہ یو رپ کو اپنے رویوں میں تبدیلی لا نا ہو گی ۔جس طر ح امریکا نے بظاہر افغانستان کے معاملے میںیہ لچک دکھا ئی ہے کہ افغان مسئلے پر اپریل میں ہو نے والی اس کانفرنس کی دعوت قبول کرلی ہے ۔

متعلقہ خبریں