Daily Mashriq


نمک ایک خاموش قاتل

نمک ایک خاموش قاتل

ہر سال ما ر چ کے مہینے میں نمک کے زیادہ استعمال سے متعلق آگاہی کا ہفتہ منایا جاتا ہے۔ اس سال اس کا مو ضو ع ہے''' نمک ایک خاموش قاتل''۔ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ہمارے عزیز و اقا رب ہا رٹ اٹیک اور دماغ کی شر یان پھٹنے سے اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ گزشتہ تین دن میں میرے تین عزیز دماغ کی شریان پھٹنے اور دل کے عارضے کی وجہ سے اس دنیا فانی کو چھوڑگئے ۔نمک کے زیادہ استعمال کے نقصانات کے حوالے سے میڈیکل سپیشلسٹ، امراض قلب کے ایک قومی ادارے کے جنیاتی انجینئرنگ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سید علی رضا کا ظمی کا کہنا ہے کہ نمک اگر ایک طرف انسانی جسم کے لئے اچھی چیز ہے تو دوسری طر ف اس کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک با لغ انسان کو دن میں پانچ گرام یعنی ایک چائے کے چمچ نمک استعمال کرنا چاہئے جبکہ بچے کو 3 گرام یعنی آدھی چائے کے چمچ جتنے نمک کی ضرورت ہوتی ہے۔مگرافسو س کی بات ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ تعلیم اور شعور کے باوجود بھی عام طور پر لوگ10 گرام اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں 20 گرام تک نمک ا ستعمال کیا جاتا ہے جو بین ا لاقوامی معیار سے کئی گنا زیادہ ہے۔ جن ممالک میں نمک کا زیادہ استعمال ہوتا ہے وہاں دل کے امراض اور دوسری کئی پیچیدہ بیما ریاں اُن ممالک سے زیادہ ہیں جہاں کم نمک استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً وسطی ایشیائی ریاستوں اور روس میں نمک کا زیادہ استعمال ہوتا ہے تو وہاں پر دل کے اور دوسرے کئی امراض اُن ممالک سے زیادہ ہے جہاں پر نمک تقریباً کم استعمال ہوتا ہے۔ 2016ء میں پو ری دنیا میںتقریباً 5کروڑ 70لاکھ لوگوں کا انتقال ہوا تھا جن میں ڈیڑھ کروڑ امراض قلب اور دماغ کی شر یان پھٹنے سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ہارٹ اٹیک اور دما غ کی شر یان پھٹنے کی سب سے بڑی وجہ نمک کا مقررہ حد سے زیادہ استعمال ہے۔ نمک کے استعمال سے 10 بڑی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں بلند فشار خون، دماغ کی شریان کا پھٹ جانا، دل کے امراض، معدے کا کینسر، آسٹو پراسس یعنی ہڈیوں کا کمزور اور ٹوٹ جانا، موٹاپا، گردے کی پتھری اور گر دے کی دیگر بیماریاں ، ذہنی استعداد کار میں کمی واقع ہوجا نا ، نمک کی وجہ سے پیاس لگنا جس کی وجہ سے کیلشیم کا بننا، دمے کی بیماری ، نمک کی وجہ سے پانی کے زیادہ استعمال سے کانوں کے امراض میں اضافہ اور شوگر کا مرض ہونا شامل ہے۔جہاں تک قدرتی خوراک کا تعلق ہے توقدرتی طور پر اس میںجو نمک پایا جاتاہے وہ کافی ہے اس میں مزید نمک ڈالنے کی ضرورت نہیں، مگر ہم حد سے زیادہ نمک کا استعمال کرتے ہیں ۔ جہاں تک نمک کا تعلق ہے تو یہ جسم کی شر یانوں کو سخت کرتا ہے تو پھر دل کو خون کی سپلائی کرنے میں دقت ہوتی ہے جسکے نتیجے میں دل کے والو خراب ہوجاتے ہیں یا دماغ کو آکسیجن نہیں ملتی ۔ نمک کے زیادہ استعمال سے دل کی شریانوں میں خون کے کلاٹس بن جاتے ہیں جو دل کے امراض کا سبب بنتا ہے۔نمک کا زیادہ استعمال معدے کے خلیوں اور اسکی تہہ کو خراب کرتا ہے جو بعد میں معدے کے کینسر کا سبب بنتا ہے۔ نمک کا زیادہ استعمال ہڈیوں کی کمزوری اور ٹوٹنے کا بھی سبب بنتا ہے۔ ہڈیوں میں کیلشیم ہوتا ہے ۔ نمک کے زیادہ استعمال سے ہڈیوں سے کیلشیم کم ہونا شروع ہوجاتا ہے جس سے ہڈیوں کے کمزور اور آسانی سے ٹوٹنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ نمک کا زیادہ استعمال براہ راست مو ٹاپے کا سبب تو نہیں بنتا مگر زیادہ نمک کے استعمال کے بعد پانی کی طلب ہوتی ہے نتیجتاً بچے مشروب کا سہارا لیتے جس کی وجہ سے بچے اور جوان موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں۔گردے کی پتھری اور گردے کی دوسری بیماریاں بھی نمک کے مقررہ حدسے زیادہ استعمال سے پیدا ہوتی ہے۔جب نمک کا زیادہ استعمال کیا جاتا ہے اس کے نتیجے میں جسم سے کیلشیم کا اخراج ہوتا ہے اور کیلشیم سے گردے میں پتھری بن جاتی ہے۔ نمک کے زیادہ استعمال سے Vascular Dementiaہوجاتا ہے ۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس سے دماغ کی کا رکردگی یعنی یادداشت ، سوچ، روئیے میں تبدیلی اور لوگوں کے پہچاننے میں دقت ہوتی ہے۔ دمے کی بیماری کو مزید بگا ڑنے میں بھی نمک کے زیادہ استعمال کا کلیدی کر دار ہے۔ کان کی ایک بیماری ہوتی ہے جس کا نامMenier Diseaseہے۔ نمک کے استعمال سے پانی کی طلب زیادہ ہوجاتی ہے ۔ مزید پانی پینے سے کان کی اس بیماری میں مزید اضافہ ہوتا ہے کیونکہ پانی پینے سے کان پر پریشر بڑھ جاتا ہے ۔ جن لوگوں کو نمک کے زیادہ استعمال سے ہائی بلڈ پریشر ہوتا ہے چار سال سے لیکر 5 سال تک اُن مریضوں کو خود بخود شوگر ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں اگر کوئی اپنے جسم کے وزن کے حساب سے یعنی ایک کلوگرام کے حساب سے ایک گرام نمک کا استعمال کرے تو اس سے اس کی موت واقع ہو سکتی ہے۔با الفا ظ دیگر اگر کسی کا وزن 50کلو گرام ہے اور وہ 50 گرام نمک ایک دن میں استعمال کرے تو اس کی موت واقع ہو سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں