Daily Mashriq


یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو اچھا ہے

یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو اچھا ہے

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

بات بہت دکھ کی ہے ، صوبائی دارالحکومت پشاور کی آبادی لگ بھگ 80لاکھ یا کچھ اوپر ہورہی ہے ، آپ کیا یہ جانتے ہیں کہ اتنی آبادی میں ادباء و شعرا کی کتنی تعداد ہوگی ؟ اور پھر پشتو اور ہند کو کے اہل قلم کو رکھیں ایک طرف اور صرف اردو زبان کے قلمکاروں کو گنیئے توبہ مشکل ہی سوڈیڑھ سو ہو سکتے ہیں ۔ ہو سکتا ہے یہ تعداد اس سے بھی کم ہو ، مگر اتنی کم تعداد میں ہونے کے باوجود ان لوگوں نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد یں بنا کر عملاً انہیں ایسے متحارب قلعوں میں تبدیل کر رکھا ہے اور ایک دوسرے پر گولہ باری شروع کر رکھی ہے ، بات اس حد تک رہتی تو اسے قبول بھی کیا جا سکتا تھا مگر مسئلہ یہ ہے کہ ایک گروہ دوسرے کو ظالم اور خو د کو مظلوم ثابت کرنے کیلئے اس جنگ زرگری کو فیس بک کے ذریعے پھیلا کر پشاور کے ادبی حلقوں کو ملک اور ملک سے باہر یعنی جہاں جہاں تک فیس بک کی رسائی ہے ۔ مفت میں بد نام کرنے کی بدعت جاری رکھے ہوئے ہے ، حالانکہ بقول احسان دانش

سی کے سامنے اشکوں کی آبرونہ گنوا

یہ گھر کی بات ہے گھر میں رہے تو اچھا ہے

ہو سکتا ہے کہ شکایت کنند گان کا گلہ بجا ہو مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تلخیوں کو اس حد تک بڑھا دیا جائے کہ نوبت مفت میں دشمنی کی حدود کو چھو نے لگے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جو خود کوپڑھے لکھے اور دوسروں کو اپنی تحریروں سے عقل وخرد سکھانے کے دعویدار ہیں ، خود عقل کے ناخن لینے سے کیوں احتراز کر تے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم نے آج سے لگ بھگ چالیس بیالیس برس قبل ادب کے میدان میں قدم رکھا تو اس سے بھی کچھ عرصہ پہلے پشاور کے اندر ادبی چیقلشوں کا ایک دور گزر چکا تھا ، دائرہ ادبیہ ، اردو سبھا اور بعض دیگر تنظیموں کے درمیان ادبی چشمکیں عروج پر ہوتی تھیں ، مگر پھر سب بزرگ اہل قلم نے ادبی محاذ آرائی کو خیر باد کہہ دیا اور باہم شیر و شکر ہو کر ایک دوسرے کی تنظیموں کے اجلاسوں میں شرکت کو اپنا وتیرہ بنا لیا تھا ۔ جس دور میں ہم نوجوان لکھاریوںنے ادبی اجلاسوں میںآنا جانا شروع کیا تو اس دور کے سب اساتذہ ہماری ادبی تربیت کرنے کیلئے ہماری مدد اور رہنمائی کرتے تھے ۔ اس دور میں بھی کئی ادبی تنظیمیں موجود تھیں اور باہر سے بھی اکثر ادباء و شعرا جب کبھی پشاور کسی ایک تنظیم کی دعوت پر آتے تو شہر کے تمام حلقوں کے اکابرین ان اجلاسوں میں اپنی شرکت یقینی بناتے ۔ان اساتذہ کو ریڈیوپاکستان کے مشاعروں خصوصاً اختتام سال کے طویل دورانیئے کے مشاعروں میں دعوت دی جاتی توہم لوگ گھروں میں بیٹھ کر ان کا کلام بڑے شوق سے سنتے ۔ یہ مشاعرہ رات تقریباً بارہ ساڑھے بارہ بجے اختتام پذیر ہوتا اور اس کی گونج تا دیر شہر کی ادبی فضائوں میں سنائی دیتی ، تاہم نوجوان شعرا ئے کرام نے کبھی اس بات پر دل گرفتگی کا اظہار نہیں کیا کہ ریڈیو پر ہمیں کیوں نہیں بلایا جاتا ، کیونکہ ابھی ہم نوجوان شعرا ء کا کوئی ادبی مقام متعین نہیں ہوا تھا، ہمارے ایک دیرینہ کرم فرمامرحوم تاج سعید صوبے کی ادبی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اور نابغہ مدیر کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ انہوں نے مردان شوگرملز سے قند کے نام سے جو پر چہ جاری کرایا تھا اس سے ان کے ادبی کام کو ایک اعتبار ملاتھا ۔

اس رسالے کے دو ادوار میں انہوں نے بہت خوبصورت نمبر بھی نکالے جو ادبی تاریخ کا اہم حصہ اور خاصے کی چیز یں ہیں اور آج بھی ان میں سے اکثر رسالے ملک بھرکی اہم لائبریریوں میں موجود ہیں ۔ بعد میں انہوں نے جرید ہ کے نام سے ایک رسالہ نکالا ۔اس رسالے نے بھی ادبی دنیا میں تہلکہ مچا رکھا تھا ، انہوں نے میری ہمیشہ حوصلہ افزائی کی اور مجھ سے پشتو کے نامور ادیبوں کے افسانے اردو میں ترجمہ کرا کے اپنے رسالوں کی زینت بنائے ۔اس کے علاوہ انہوں نے ملک کے دیگر اہم رسائل تک میری رسائی کو ممکن بنایا ، جبکہ میرے ساتھ کے اس دور کے نوجوان ادباء و شعرا ء سے کم ہی انہوں نے رابطہ استوار کیا ،مگر ان دوستوں نے اس بات کا کبھی برا نہیں منایا ، بلکہ اپنے طور پر ملک کے ادبی پر چوں میں اپنے لیے جگہ بنائی اور اب تو مرحوم خاطر غزنوی کے ادبی ورثے رسالہ احساس کو کچھ دوست مل کر شائع کرتے ہیں تو اس پر انہیں مبارکباد دینی چاہیئے نہ کہ اس پر بعض لوگوں کو اعتراض کا موقع مل رہا ہے۔ ایک شکایت یہ ہے کہ جو دوست احساس کو جاری رکھے ہوئے ہیں وہ اس کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں کیونکہ مدیر کی جانب سے شہر کے بعض اہل قلم کو دعوت نہیں دی جارہی کہ وہ بھی اپنے رشحات قلم رسالے کودیں ، حالانکہ ہونا تویہ چاہیئے کہ یہ معزز اہل قلم اپنی تحریریں خود رسالے کے مدیر کے حوالے کریں تاکہ ان کی یہ تحریریں بھی اس رسالے میں شائع ہوسکیں ، کم از کم ان دوستوں کو میں یہ ضمانت دیتا ہوں کہ ان کی ہر معیاری تحریر رسالے کی زینت ضرور بنے گی ، یا پھر اس کا دوسرا بہترین حل یہ ہے کہ اگر کسی کو احساس کے معیار اور چھپائی کے حوالے سے اطمینان نہ ہوتو یہ لوگ خود بھی رسالہ جاری کر کے اپنی تحریریں اس میں اپنی مرضی کے مطابق چھپوا لیا کریں کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ مگر خدارا یہ ادبی چشمکیں یوں غلیظ کپڑوں کی طرح بیچ چوراہے کے دھونے کے عمل کو فیس بک پر اپ لوڈ کرنے سے جگ ہنسائی کی کوششیں تو نہ کی جائیں ۔گنتی ہی کے تو ہم لوگ ہیں ہم ایک دوسرے کو بے لباس کر کے پاکستان بھر میں اپنا کیا وقار قائم کر سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں