Daily Mashriq


پہلے زمین تو ہموار کی جائے

پہلے زمین تو ہموار کی جائے

مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات میں طالبان پر زور دیا ہے کہ کابل حکومت کی مذاکرات کی نئی پیش کش قبول کرلیں۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے کابل میں افغان چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ اور افغان صدر اشرف غنی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان پاک افغان تعلقات میں بہتری کے لئے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے افغان امن عمل کی حمایت کی اور طالبان پر زور دیا کہ کابل حکومت کی بروقت نئی مذاکرات کی پیش کش کو قبول کرلیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان اور پاکستان کی حکومتوں کی طرف سے سنجیدگی اور مفاہمانہ رویہ کے ساتھ جو بھی مشترکہ مساعی ہوں گی اس سے اگر طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیابی نہیں بھی ہوتی تب بھی یہ رابطے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کے ازالے اور اعتماد کی فضا کے قیام میں معاون ثابت ہوں گے۔ دیکھا جائے تو دونوں مملک کے درمیان عدم اعتماد اور شک و شبہات پر مبنی رویہ جہاں پاکستان کے لئے مشکلات کا باعث چلا آرہا ہے وہاں افغانستان حکومت کی ان حالات میں طالبان سے مذاکرات کی پیشکش بھی مشکوک ہوجاتی ہے۔ اگر دونوں ممالک کو طالبان سے سنجیدہ مذاکرات مطلوب ہیں تو ان کو چاہئے کہ پہلے وہ باہم تعلقات کو بہتر بنائیں اور غلط فہمیوں کے مواقع کو کم سے کم بنایا جائے۔ اس منزل کے حصول کے بعد دونوں ممالک اگر سنجیدگی کے ساتھ ایسا پیہم عمل شروع کریں جس کے نتیجے میں طالبان کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو اور ساتھ ہی ان کو دونوں ممالک کی جانب سے ترغیب اور اعتماد ملے اس کے بعد ہی طالبان مذاکراتی عمل کی طرف راغب ہوسکتے ہیں۔ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے بھارت‘ ترکی‘ ایران‘ روس اور امریکہ کے کردار کی اہمیت بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ محولہ ممالک مختلف سطح پر طالبان پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ہمارے تئیں طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے کے لئے افغانستان میں امریکہ کے کردار کو اگر مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہ ہو تو اس کو اتنا محدود کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکی صرف اپنے تحفظ ہی کی حد تک محدود رہ جائیں اور ان کا افغان معاملات میں کردار و عمل باقی نہ رہے۔ جہاں تک طالبان کا تعلق ہے طالبان قطر میں امریکہ سے مذاکرات کر چکے ہیں اور افغانستان میں بھی وہ امریکہ سے مذاکرات کی خواہش رکھتے ہیں لیکن افغان حکومت کو نظر انداز کرکے ایسا کرنا ممکن نہیں اور نہ ہی اس قسم کے مذاکرات سے علاقے میں قیام امن کی راہ نظر آئے گی۔ اس وقت جبکہ کابل کی جانب سے طالبان کو مذاکرات کی بار بار پیشکش ہو چکی ہے ان وفود مصاحبین کے دوروں اور حکومتی و عسکری سربراہوں کی سطح پر ہم آہنگی اور اعتماد کی فضا میں مشاورت کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی پیشکش قبول کرنے کا درست مشورہ دیا ہے۔ ساتھ ہی یہ پاکستان کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ اس مشورے کو ممکن بنانے کے لئے نہ صرف خود کوشاں ہو بلکہ روس اور چین سے بھی اس ضمن میں مدد لی جائے تو حرج نہ ہوگا۔ افغان طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے افغان حکمرانوں کو اس امر کو بہر حال مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ افغانستان میں ان کی عملداری اور طالبان کے زیر تسلط علاقوں کی صورتحال کیا ہے۔ مذاکرات کا مشورہ دینے والے فریقوں کو بھی اس امر کی رعایت رکھتے ہوئے ایسا فارمولہ وضع کرنے کی مساعی کرنی ہوگی جو طرفین کے لئے قابل قبول اور قابل عمل ہوں۔ اس ضمن میں طالبان سے بالواسطہ مذاکرات اور معاملت کے بغیر فضا ہموار کرنے کی نوبت آنا مشکل ہے۔ ماضی میں مذاکرات کی مساعی اور مذاکرات کے دور شروع ہونے کے وقت راز داری نہ برتنے کی جن غلطیوں کے باعث معاملات بگڑتے رہے ہیں اس مرتبہ وہ غلطی نہ دہرائی جائے۔ ہمارے مشیر قومی سلامتی کی افغان حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے الگ الگ ملاقات میں یقینا ایسے قابل عمل معاملات کو زیر غور لایاگیا ہوگا جس کے نتیجے میں مذاکرات کاعمل شروع کیا جاسکے۔ دونوں حکومتوں کو فضا ہموار کرتے ہوئے اس امر پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہوگی کہ خدانخواستہ کوئی ایسا بڑا واقعہ رونما نہ ہو جائے جس سے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جائے اور طرفین مسائل و معاملات طے کرنے کی ذمہ داری فراموش کرکے ایک دوسرے پر انگشت نمائی کرنے لگیں۔گوکہ پاکستان اور افغانستان کی قیادت کے درمیان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے بظاہر تعاون نظر آتا ہے لیکن بباطن حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جس کے باعث اس عمل میں ایک مرتبہ پھر رکاوٹ آنے اور معطل ہونے کے خدشات موجود ہیں جس پر طرفین کو توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔

متعلقہ خبریں