Daily Mashriq


احسن اقدام

احسن اقدام

بستوں سے بچوں کو نجات دلانے کا ضروری قدم اٹھانے اور اس حوالے سے اقدامات پر جتنا جلد عملدر آمد ہو معصوم طلبہ کے حق میں اتنا ہی بہتر ہوگا ۔ ہمارے تئیں اس کی سرکاری سکولوں سے کہیں زیادہ ضرورت نجی سکولوں میں ہے جہاں بچوں کی کتابیں سکول میں محفوظ رہنے کے انتظامات کے باوجود بھی بستے کا وزن اتنا ہی ہوتا ہے کہ جو کسی بھی بچے کی کمر پر بوجھ ڈالنے اور اس کی نازک ہڈیوں کیلئے خطرے کا باعث ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات اور ماہرین صحت کی جانب سے متعدد مرتبہ کی نشاندہی کے مطابق شانوں پر لٹکانے والے سکول بیگ وزن کے زیادہ ہونے کیو جہ سے بچوں کی ریڑھ کی ہڈی کے لئے نقصان دہ ثابت ہورہے ہیں جس سے طلبہ بچوں کی صحت اور جسمانی خدوخال پر اثر پڑرہا ہے لیکن اس رپورٹ پر توجہ نہیں دی جاتی رہی یہ صرف ہمارے ہاں کاہی مسئلہ نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی اس طرح کی صورتحال ہے البتہ بہت جدید ممالک میں ایسا نہیں جن سے سیکھنے اور ان کا طریقہ کار رائج کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے دیر آید درست آید کے مصداق ہی کہا جائے گا کہ محکمہ تعلیم کے حکام اس معاملے پر اب جاگ چکے ہیں اور خیبر پختونخوا کے سرکاری اور نجی سکو لوں میںوزنی سکول بیگز کے تدارک کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اس سلسلے میں تجاویز اور سفارشات کیلئے ہنگامی بنیادوں پر سپیشل سیکرٹری تعلیم کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے کمیٹی سکولوں کے طلبہ کے بستوں کے زیادہ سے زیادہ وزن کا عالمی معیار پر تعین کرے گی جو طلبہ کے وزن کے دس فیصد سے زیادہ نہ ہو گاجبکہ کتابوں کے وزن میں کمی کے لیے اقدامات کے تحت کلاس رومز اور گھریلو کام کے لیے باقاعدہ ٹائم ٹیبل تیار کیا جائیگا اورپرنٹنگ کے جدید طریقوں سے کتب اور کاپیوں کے وزن میں کمی تجویز کی جائیگی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات کی کامیابی کیلئے جہاں مجوزہ اقدامات پر عملدر آمد کی ضرورت ہوگی وہاں اساتذہ اور سکول انتظامیہ خاص طور پر نجی سکولوں میں ان اصلاحات کو سختی سے رائج کرنا ہوگا جہاں پر نت نئے قسم کے قوانین اور طلبہ کیلئے ہر مضمون کیلئے دو دو کاپیاں رکھنے اور تمام کاپیاں اور کتابیں اس لئے ساتھ لانے کی شرط رکھی جاتی ہے تاکہ کسی پیر یڈ کے خالی ہونے کی صورت میں طلبہ کو کوئی متبادل ٹیچر دیا جائے تو طلبہ کے پاس اس مضمون کی کا پیاں اور کتابیں موجود ہوں ۔ ہمارے تئیں اس کمیٹی کو یہ سفارش کر نی چاہیئے کہ سکولوں کی خود چھاپ کردہ کاپیوں کو ممنوع قرار دیا جائے اور سادہ کاپیاں متعارف کر کے اس کا سرکاری نرخ مقرر کیا جائے تاکہ مفادات کی وابستگی میں کمی لا کر تعداد میں کمی لانا آسان ہو جائے اور طلبہ کے والدین کو اضافی اور مہنگے داموں مخصوص کاپیوں کی خریداری کی مجبوری سے نجات ملے ۔

کچرے کو ٹھکانے لگانے کا لا ینحل مسئلہ

ڈبلیو ایس ایس پی ذرائع کے مطابق پشاور میں ڈمپنگ سائٹ کے حصول میں حکمران جماعت کے اراکین صوبائی اسمبلی رخنہ ڈال رہے ہیں کوئی بھی رکن اسمبلی اس بات کیلئے تیار نہیں ہے کہ اس کے حلقہ انتخاب میں ڈمپنگ سائٹ قائم کی جائے اور مقامی آبادی عام انتخابات میں اپنا غصہ بیلٹ پیپر پر نکال دیں ۔جنرل منیجر آپریشن ڈبلیو ایس ایس پی کے مطابق آفتاب آباد ڈمپنگ سائٹ پرمقامی آبادی کی شکایات کا ازالہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کچرا ٹھکانے لگانے کے ساتھ ساتھ اس پر چونا اور مٹی ڈالی جا رہی ہے جو مقامی آبادی کا مطالبہ تھا ۔ہمارے تئیں ڈبلیو ایس ایس پی کے حکام کا یہ موقف جزوی طور پر تودرست ہے لیکن کلی طور پر عوام اس لئے حق بجانب ہیں کہ کمپنی جس مقام پر کوڑا کرکٹ ڈالتی ہے وہاں پر کچرے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے پر پورا علاقہ تعفن زدہ ہو جاتا ہے اور علاقے میں صحت و صفائی کی صورتحال بگڑنے پر مکھیوںاور مچھروں کی بہتات کے علاوہ وبائی امر اض پھوٹنے لگتے ہیں۔ پانی آلودہ اور زہریلا ہو جاتا ہے جس سے ارد گرد کی آبادی ہی نہیں زراعت بھی بری طرح متاثر ہو تی ہے ۔ حیاب آباد کا کچرا فیز سیون کے پل کے پاس جس طرح کھلے مقام اور برساتی نالے میں پھینکا جاتا ہے اور اس سے جس قسم کا تعفن پھیلتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے مرکزی دفاتر قریب ہی واقع ہیں یہ علاقہ کسی طور بھی کوڑا کرکٹ پھینکنے کا نہیں اور نہ ہی کوئی کچر ڈالنے کیلئے مختص جگہ ہے مگر ایسا ہورہا ہے اس طرح کی دیگر مثالیں بھی تلاش کرنا مشکل نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ کچرے کو ٹھکانے لگانے کی نوبت تو بہت بعد میں آتی ہے ڈبلیو ایس ایس پی تو شہر سے کچرا اٹھانے کی زحمت ہی کم کرنے لگی ہے اس طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ شہر کے ٹنوں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگا نے کیلئے آبادی سے دور کوئی ایسا مقام تلاش کیا جائے گا جہاں کوڑا کرکٹ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے اور کچہرے کو ٹھکانے لگانے کے ساتھ ساتھ اس سے کار آمد اشیاء کھاد وغیرہ بنا کر اس سے بہتر طور پر استفادہ کیا جا سکے ۔

متعلقہ خبریں