Daily Mashriq


کیا کابل سنجیدہ ہے؟

کیا کابل سنجیدہ ہے؟

مشیر سلامتی کونسل ناصر جنجوعہ نے اپنے افغانستان کے دورے کے دوران اپنے ہم منصب حنیف اتمر سے بات چیت کے علاوہ اعلیٰ افغان رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں جن میں افغان صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ وغیرہ بھی شامل رہے، اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کے مشیر سلامتی کونسل کو بتایا کہ افغانستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ جیتنی نہیں بلکہ ختم کرنی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستان افغانستان کی مدد کرے۔ ناصر جنجوعہ مشیر قومی سلامتی کونسل کے دفتر سے اس دورے کے بارے میں جو بیان جاری ہوا ہے اس کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان سے بھرپور اُمید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امن کی ایک مخلصانہ اور سنجیدہ پیشکش کر رہے ہیں، اپنے تاثرات میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے کہا وقت آگیا ہے کہ پاکستان افغانستان تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی جائے۔ افغان رہنماؤں کا مثبت انداز اندھیر ے میں روشنی کی کرن ہے۔ بظاہر افغانستان کا موقف بہت سنہرا ہے مگر اصل معاملہ نیتوں کا ہے، آیا افغانستان جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ ہے بھی یا ماضی کی طرح محض لفاظی کرکے پاکستان کے گھیراؤ میں مددگار ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کی کوئی اہم شخصیت افغانستان کا دورہ خیرسگالی کرتی ہے تو اس موقع پر افغان برقی اور ورقی میڈیا پاکستان کے بارے میں ہرزہ سرائی باقاعدہ منظم طور پر شروع کر دیتا ہے اس مرتبہ بھی ایسا ہی کیا گیا جبکہ افغانستان میں آزاد میڈیا کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پاکستان کا نائن الیون کے واقعہ کے بعد سے ہی یہ مؤقف رہا ہے کہ افغانستان کی صورتحال کا معاملہ بات چیت سے جڑا ہوا ہے، جب نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تھا اس وقت بھی طالبان کے رہنما ملاعمر نے امریکا کو اسامہ بن لادن کے بارے میں مذاکرات کرنے کی پیشکش کی تھی اور کہا تھا کہ باہمی بات چیت کے ذریعے معاملے کو سلجھایا جائے مگر امریکا نے اپنے تکبر میں ایک نہ مانی، اگر اس وقت دانشمندی سے کام لے لیا جاتا تو آج خطے میں امن وسکون ہوتا، اتنی ہیبت ناک تباہی بپا نہ ہوئی ہوتی۔ اس کے علاوہ گزشتہ بارہ پندرہ سال کے دوران بات چیت کے ذریعے افغانستان میں سکون لانے کی کئی کوششیں کی گئیں مگر سب کو سبوتاژ کیا گیا جس کا الزام طالبان پر عائد نہیں ہوتا۔ امریکا کی چھیڑی ہوئی دہشتگردی کی جنگ کے بارے میں باہمی مذاکرات کی بات ناصر جنجوعہ کے دورہ کابل سے پہلے براہ راست افغانستان نے طالبان سے کہی ہے کہ طالبان مذاکرات کی میز پر آجائیں اور قومی دھارے میں شامل ہو جائیں، ان کو افغانستان کی سیاسی قوت تسلیم کر لیا جائے گا، گویا یہ پیشکش اسی طرح ہے جس طرح سابق جہادی کمانڈر گلبدین حکمت یار کو ہوئی ہے۔ حکمت یار نے افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کیخلاف ہتھیار چھوڑ کر افغانستان کی سیاست کا حصہ بننا قبول کیا۔ حکمت یار کے وہی مطالبات تھے جو طالبان کے ہیں، جن میں سب سے اہم ترین مطالبہ افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کا غیرمشروط طور پر انخلاء ہے ، اگر جائزہ لیا جائے تو حکمت یار اپنے فیصلے سے ناخوش لگ رہے ہیں مگر اب ان کے پاس عسکری قوت نہیں رہی ہے چنانچہ ان کو اسی پر گزارہ کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ امریکا اپنا ایجنڈا نامکمل چھوڑ کر افغانستان سے انخلا کرتا نظر نہیں آرہا ہے اور اگر امریکی ایجنڈے کی تکمیل ہو بھی جائے تو وہ وہاں سے نہیں نکلے گا کیونکہ پھر نکلنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا، امریکا تو اب مذاکرات کے نئے ہتھکنڈے اپنے مقاصد کے حصول کیلئے ہی استعمال کر رہا ہے۔جہاں تک پاکستان کی جانب سے طالبان اور افغانستان کیساتھ مذاکر ات کی میز پر بیٹھنے کا تعلق ہے تو پاکستان افغانستان میں طالبان اور امریکا جنگ میں براہ راست فریق نہیں ہے بلکہ وہ امریکی پالیسیوں کا متاثر ہے اور اس کا کردار امریکا حلیف کا ہے، اسی کردار کی بناء پر پاکستان نے دنیا میں سب سے زیادہ قربانیاں د ی ہیں اس پر بھی امریکا پاکستان پر ہی الزام دھرتا ہے، پاکستان نے ماضی میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کیلئے سہولت کار کا فریضہ بہت خوش اسلوبی سے ادا کیا ہے مگر اس کا بھی اعتراف امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے نہیںکیا گیا، اب جس کردار کی ادائیگی کا افغانستان نے مطالبہ کیا ہے وہ پاکستان کیلئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ طالبان اب اس منج پر ہیں کہ وہ کابل حکومت کو تو نہ پہلے تسلیم کرتے تھے اور نہ اب کرتے ہیں اس کو وہ ایک کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہیں، البتہ ان کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا طالبان سے براہ راست مذاکرات کرے، ماضی میں ایسے مذاکرات پر امریکا کا جو کردار رہا ہے اس نے امر یکا کو ناقابل اعتبار بنا دیا ہے۔طالبان اس وقت مذاکرات کی میز پر آتے نظر نہیں آرہے جب تک ان کو ثالثی کی ضمانتیں نہیں مل جاتیں، وہ سمجھتے ہیں کہ کابل حکومت سے مذاکرات بے سود ہیں، کیونکہ اقتدار کے وہ اصل مالک نہیں ہیں، افغانستان پر امریکا قابض ہے اور اسی کے اشارے پر کابل حکومت چلتی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر کے دورہ افغانستان سے قبل کابل حکومت نے طالبان کو قومی دھار ے میں شامل کرنے کی پیشکش کی جس پر طالبان کی جانب سے مسلسل خاموشی ہے۔ انہوں نے اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا، براہ راست جواب دینے کی بجائے طالبان کی جانب سے خاموشی اختیار کرکے بھرپور جواب دیا گیا ہے کہ کابل حکومت کی یہ پیشکش طالبان کیلئے کوئی اہمیت کی حامل نہیں ہے جس پر ردعمل کا اظہار کیا جائے۔ پاکستان نے مذاکرات کی جو حمایت کی ہے وہ طالبان کی منشاء کے بغیر کیسے نبھائے گا اس کا جواب بھی کٹھن ہے جب تک کابل سے طالبان کو مضبوط ضمانت نہیں مل جاتیں تو اس وقت تک کسی قسم کی پیش رفت ناممکن ہی نظر آتی ہے۔

متعلقہ خبریں