Daily Mashriq


کلچر ، ایگلریکلچر اور تصوف کا حسین امتزاج

کلچر ، ایگلریکلچر اور تصوف کا حسین امتزاج

موت سے کس کو رستگاری ہے

آج وہ کل ہماری باری ہے

دل کے بہت قریب کسی دوست کا انتقال ہو جائے تو اس سے انسان کی جوکیفیت ہوتی ہے اس سے ہر انسان واقف ہے کچھ ایسی ہی صورتحال گزشتہ کئی دنوں سے میری ہے ، ہمارے بہت سے دوست اگر کسی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں تو فوراً فیس بک پر اپنی کیفیت کے بارے میں پوسٹیں لگا لگا کر اپنے پرائے سب تک پہنچا دیتے ہیں ، اور دوستوں اوربہی خواہوں کے کمنٹس کے حصول میں خوشی محسوس کرتے ہیں ،جبکہ میں چند روز سے ڈی ہائیڈر یشن ، کم فشار خون (80-50)اور ملیریا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے جس کیفیت سے گزر اہوں بلکہ تادم تحریر نارمل نہیں ہو سکا ، اس کو کسی پر ظاہر نہیں کر سکا یہ میرے نزدیک اللہ کا امتحان ہے اور اسی مالک و خالق سے اپنے گناہوں کی معافی طلب اور صحت یابی کیلئے دعا کر کے ہی اس کیفیت سے باہر آیا جا سکتا ہے ، مگر اب جو یہ کیفیت ضبط تحریر میں لانے کی سعی کر رہا ہوں تو یہ بھی بہ امر مجبوری ہے جس سے اس کرب کی وضاحت مقصود ہے جس کی طرف اوپر کی سطور میں اشارہ کیا ہے یعنی جب کوئی انتہائی عزیز دوست دنیا سے رخصت ہوجائے اور انسان کی کیفیت ایسی ہو جیسی کہ میری ہے ، تو اس کے جنازے میں شرکت نہ کرسکنے کا دکھ اپنی انتہا ئوں کو چھو لیتا ہے ، ایسی ہی صورتحال اپنے ایک بہت ہی ہر دلعزیز اور قابل احترام دوست ڈاکٹر شفیع اللہ خان کی دنیا سے رخصتی پر درپیش ہے ، خبر پہلے فیس بک پر آئی اور پھر اخبارات میں نمایا ں طور پر شائع ہوئی مگر میں خود گھر میں بستر سے لگاہوا تھا کوشش کے باوجود نہ جنازے میں شرکت کر سکتا تھا نہ اب تک ان کے بر خوردار یا دوسرے لواحقین سے اظہار تعزیت ہی کر سکا ہوں ۔ یو ںیہ ایک داغ ندامت بن کر ساری زندگی سوہان روح بنا رہے گا ۔ پروفیسر ڈاکٹر شفیع اللہ خان کا شما ر بھی ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہیں دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہی اس لئے تھا کہ وہ مخلوق خدا کے کام آئیں ، مجھے ان کے وہ دن بھی یاد ہیں جب وہ پشاور یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور میں گورنمنٹ کمرشل انسٹیٹیوٹ پشاور کے طالب علم کی حیثیت میں پشاور یونیورسٹی کے مختلف کلچرل پروگراموں میں شرکت کیلئے جایا کرتا تھا ، ایسی تقاریب میں شفیع اللہ خان ہمیشہ پیش پیش رہتے ، اور اپنی شگفتہ مزاجی سے پھلجڑیاں چھوڑ تے اور محفل کو زعفران زار بناتے ، بعد میں جب میں نے ریڈیو کی ملازمت اختیار کی تو کاشتکاروں اور کسانوں کی رہنمائی اور ملک میں زرعی انقلاب برپا کرنے کیلئے ایک پروگرام’’ کر کیلہ‘‘ کے نام سے نشر ہوتا تھا ، شفیع اللہ خان چونکہ زرعی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے ، محکمے نے انہیں ان پروگراموں کیلئے کو آرڈینیٹر کے طور پر نامزد کیا ، جہاں ان کے ذمے چاروں قدرتی موسموں کے حوالے سے اگائی جانے والی فصلوں کے بارے میں مختلف پروگراموں کا شیڈول مرتب کر نے میں ریڈیو کے متعلقہ عملے کے ساتھ قلمی تعاون ، مختلف علاقوں میں ریڈیو ٹیم کے ساتھ جاکر تربیتی پروگرام میں ماہر زراعت کی حیثیت سے حصہ لینا ، شام کے وقت پروگرام کا نشر یات میں بطور میزبان و ماہر زراعت حصہ لینا ، محکمے کے دیگر ماہرین کو دعوت دے کر بلوانا اوران کی ماہرانہ آراء پر مبنی تقاریر ، انٹر ویوز اور بحث و مباحثے کے پروگرام نشر کرانا تھا ، اس ضمن میں کر کیلہ سیکشن کیلئے ایک علیحدہ کمرہ مختص کیا گیا تھا ، جس میں پروگرام کے آرگنائزر ، پروڈیوسر اور زراعت کے ماہرین ہمہ وقت پرو گر ا موں کی تربیت وتدوین میں شریک رہتے ، شفیع اللہ خان اتنے ہنس مکھ اور بذلہ سنج تھے کہ ریڈیو کے عملے میں یکساں طور پر مقبول و محترم تھے ، ایک جاندار مسکراہٹ ان کے لبوں پر ہر وقت چھائی رہتی جس سے ان کی شخصیت نکھر کر سامنے آتی ،پھر یوں ہوا کہ پی ٹی وی پر بھی پالیسی کے تحت کھیت کھلیان کے حوالے سے ایک پروگرام باغ باڑئی کا آغاز ہوا جس کیلئے قرعہ فال بھی شفیع اللہ خان کے نام نکلا اور انہوں نے اپنی شگفتہ مزاجی سے اس پروگرام کو بھی چار چاند لگا دیئے انسان کی زندگی کی کایاکب پلٹتی ہے ، اس کا اسے اندازہ نہیں ہوتا ، بس یہ تو اللہ کا کرم ہوتا ہے ۔ ایسی ہوئی کیفیت ڈاکٹر شفیع اللہ پر بھی طاری ہوئی اور ان کی زندگی کی کایا کلپ ایسی ہوتی کہ روحانیت نے ان کے اندر کی کیفیات بدل کر رکھ دیں ، وہ اچانک روحانیت سے متاثر ہوئے یا پھر یہ کسی اللہ کے مقرب بندے کی کرامات تھیں ، اس بارے میں زیادہ نہیں جانتا کہ میں ملازمت کے سلسلے میں کئی بر س تک پشاور سے باہر رہا ، تاہم واپس آیا تو شفیع اللہ خان کی اس قلب ماہیئت کے بارے میں آگاہی ہوئی ۔ انہوں نے ایک صاحب طریقت حضرت امام جلوی ؒ کی بیعت کر رکھی تھی بلکہ اپنے مرشد کی نگاہ کرم سے و ہ پشاور میں ان کے خلیفہ کے درجے پر فائز ہو کر اپنے طریقے سے دین کی ترویج میں مصروف ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اس دوران ادارہ کے حوالے سے بعض اہم کتابیں بھی تصنیف کیں اورادارہتعلیمات جلویہ پاکستان پشاور کیمپس کے زیر اہتمام اما م جلوی ؒ انسان دوستی ایوارڈ کا بھی اجراء کیا ، جبکہ اس حوالے سے ایک یاد گار تقریب ہمیشہ یاد رکھی جائے گی ۔ باتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ایسے کئی کالم بھی کم پڑ سکتے ہیں اللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔آمین ۔

متعلقہ خبریں