Daily Mashriq


قیدیوں میں ایڈز اور کالے یر قان کا انکشاف

قیدیوں میں ایڈز اور کالے یر قان کا انکشاف

چند دن پہلے ڈسٹرکٹ جیل صوابی میں جیل سپرنٹنڈنٹ کی استدعا پر کچھ قیدیوں کے خون کے نمونے لئے گئے۔ اخباری خبر اور ابتدائی معلومات کے مطابق ان میں چار قیدیوں میں موذی مرض ایڈز اور 19قیدیوں میں ہیپاٹائٹس سی پایا گیا۔ ڈسٹرکٹ جیل صوابی میں متعدد قیدی گزشتہ کئی دنوں سے بخار، اُلٹیوں، قے اور طبیعت کی ناسازی کی شکایت کررہے تھے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال صوابی کے ایم ایس کو اس بات سے آگاہ کیا۔ جب محمد شفیق، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال صوابی سے فون پر بات کی گئی، تو ان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ نے صوابی جیل کا دورہ کیا اور ہدایت کی کہ تمام 540قیدیوں کا طبی معائنہ، ایڈز اور ہیپاٹائٹس بی وسی کیلئے خون کے نمونے لیکر لیڈی ریڈنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس سے ٹیسٹ کروائے جائیں مگر جب یہ سطور تحریر کر رہا تھا مجھے باوثوق ذرائع سے پتہ چلا کہ ایڈز، ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد مزید بڑھ گئی ہے اور اب تک جو ٹیسٹ کئے گئے ان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد14، ہیپاٹائٹس بی کی مریضوں کی تعداد 10 اور ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد 60سے تجاوز کر گئی ہے۔ اگر ہم غور کریں تو جیل میں قیدیوں میں اس قسم کے موذی امراض کا پایا جانا انتہائی خطرے کی بات ہے۔ جہاں تک جیل اور قیدیوں کے بارے میں ابتدائی معلومات ہیں اس سے تو پتہ چلتا ہے کہ قیدی انتہائی ناگفتہ بہ زندگی گزار رہے ہیں۔ جیل کے اندر قیدیوں کیساتھ جس طرح سلوک کیا جاتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جیل میںگنجائش سے چار اور پانچ گنا زیادہ قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔ ایک دفعہ پنڈی ڈسٹرکٹ جیل جانے کا اتفا ق ہوا، وہاں تو قیدی لیٹرینوں کے اندر اور لیٹرینوں کے باہر دروازے کے سامنے پڑے ہوئے تھے۔ نہ صرف جیلوں میں زیادہ تر مریض ایڈز اور ہیپاٹائٹس بی اور سی کا شکار ہوجاتے ہیں بلکہ اکثر مریض کم خوراک کی وجہ سے ٹی بی یعنی تب دق اور کم غذائیت کا بھی شکار ہیں۔ جیل میں جن کے پاس پیسے ہیں وہ تو خوش وخرم زندگی گزار رہے ہیں اور ان کو زندگی کی تمام سہولیات جیل میں بھی میسر ہیں اورجن کے پاس پیسے نہیں وہ جیل میں انتہائی خراب زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جو جیل کاٹ کر واپس آتا ہے وہ سدھرا ہوا نہیں ہوتا بلکہ جیل سے سزا ختم ہونے پر باہر نکل کر وہ اور بڑا چور ڈاکو بن جاتا ہے۔ حال ہی میں ایک ایسے قیدی سے ملاقات ہوئی جو 25سال قید کاٹ کر رہا ہوا تھا۔ موصوف کا کہنا تھا کہ جیل میں جس کے پاس پیسے ہیں اس کو جیل کے اندر ہر قسم کی سہولیات، ہر قسم کا نشہ، موبائل فون اور ہر قانونی اور غیرقانونی اشیاء میسر ہیں۔ کسی زمانے میں جب قیدی جیل سے اپنی مدت قید پوری کرکے رہا ہوتا تو وہ کافی حد تک ایک اچھا انسان بن چکا ہوتا مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اب جیل میں قیدی مزید خراب ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر کمسن بچے اور عورتیں جیل کی بری فضا میں رہ کر مزید بگڑ جاتی ہیں۔ ملک کے مشہور میڈیکل سپیشلسٹ، جنرل سید علی رضا کاظمی کا کہنا ہے کہ ہیپاٹائٹس کی 5قسمیں ہوتی ہیں جس میں ہیپاٹائٹس A، B،C، D اورE شامل ہے۔ کہتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی 3فیصد جبکہ ہیپاٹائٹس سی 10فیصد کی شرح سے پھیل رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے 30لاکھ جبکہ ہیپاٹائٹس سی کے ایک کروڑ مریض ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کا مزید کہنا ہے کہ ایڈز، ہیپاٹا ئٹس بی اور سی پھیلانے میں ہمارے ڈاکٹر حضرات، ڈنٹسٹ، فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے دندان ساز، حجام اور وہ لوگ جو نشہ آور اشیاء کا استعمال کرتے ہیں سرفہرست ہیں۔ بدقسمتی سے ان لوگوں کے سرجیکل، میڈیکل اور حجاموں کے شیو اور بال کاٹنے والے اوزار سائنسی طریقے سے جراثیم سے پاک نہیں کئے جاتے، جن کی وجہ سے ایڈز، ہیپاٹائٹس بی اور سی تیزی سے پھیل رہا ہے مگر جیلوں اور حوالاتوں میں نشہ آور اشیاء کا استعمال اور میڈیکل چیک اپ نہ ہونے سے یہ امراض لاحق ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ باقی دنیا میں حفظان صحت کے بنیادی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ہیپاٹائٹس بی، سی اور کینسر جیسے موذی مرض میں نمایاں حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ جہاں تک جیل اور حوالات کا تعلق ہے تو موجودہ صوبائی حکومت پولیس نظام اور جیل کی اصلاح کی بہت بات کرتی ہے مگر یہ صرف زبانی دعوے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ پولیس نظام میں کافی حد تک تبدیلی آئی ہے مگر ساتھ ساتھ جیلوں اور حوالات کی بہتری کیلئے اقدامات کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ جہاں تک جیل یا حوالات میں قیدیوں میں مختلف اقسام کی بیماریوں کے پھیلنے کا تعلق ہے تو یہ انتہائی شرم کا مقام ہے۔ میں اس کالم کی توسط سے خیبر پختونخوا حکومت اور انسپکٹر جنرل سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ خیبر پختونخوا کی جیلوں اور حوالاتوں میں صفائی ستھرائی، میڈیکل چیک اپ کا خاص بندوبست کریں۔ اگر جیل کے اندر مندجہ بالا مہلک بیماریوں کا نوٹس نہیں لیا گیا تو یہ مہلک بیماریاں پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ جیل میں قیدیوں کو مختلف قسم کی بیماریوں سے روک تھام کیلئے جیل میں مقیم قیدیوں کو حفاظتی ٹیکوں کے لگانے کا انتظام ہونا چاہئے۔

متعلقہ خبریں