Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت مطرفؒ کے گھر کی دیوار ایک طرف کو جھک گئی‘ لوگوں نے کہا آپ اسے مرمت کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا گھر والا( مالک) ہمیں اس گھر میں رہنے نہیں دے گا کہ ہم اس کو مرمت کریں۔

پھر فرمایا حضرت نوحؑ نے باوجود اس قدر طویل عمر کے کھجور کی چھال کی ایک جھونپڑی بنا رکھی تھی‘ لوگوں نے کہا اگر آپ اپنے لئے گھر بنا لیں تو اچھا ہو۔ آپؑ نے فرمایا جو چند روز تک مر جائے گا‘ اس کے واسطے اتنا ہی بہت ہے‘ پھر فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ دین کو پست کریں گے اور عمارتوں کو بلند بنائیں گے۔ ( مخزن صفحہ نمبر244)

ایک آدمی مسجد میں جھاڑو لگا کر اس کی مٹی جمع کرتا اور پھر اس مٹی سے اینٹیں بناتا۔ لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگا یہ مبارک مٹی ہے اس لئے میری خواہش ہے کہ میری قبر اس مٹی کی بنی ہوئی اینٹوں سے بنائی جائے۔

چنانچہ جب وہ مرا تو اس کی قبر اسی کی بنائی ہوئی اینٹوں سے تیار کی گئی‘ لیکن کچھ اینٹیں بچ گئیں‘ لوگوں نے انہیں ایک گھر کی تعمیر میں استعمال کیا‘ اتفاقاً بارش ہوئی تو اینٹیں بکھر کر ٹوٹ گئیں اور ان میں سے دینار نکل آئے‘ لوگوں نے جا کر اس کی قبر کی تمام اینٹوں کو توڑا تو وہ سب دیناروں سے بھری ہوئی تھیں۔ (مخزن)

حضرت حبیبؒ ایک مرتبہ وضو کر رہے تھے اور انہوں نے اپنی پوستین نکال کر ایک طرف رکھ دی تھی۔ حضرت حسن بصریؒ وہاں سے گزرے اور انہوں نے آپ کی پوستین کو ایک طرف پڑے ہوئے دیکھا تو اس کی حفاظت کے لئے رک گئے۔ حضرت حبیبؒ وضو سے فارغ ہوئے تو حضرت حسن بصریؒ نے پوچھا کہ آپ نے اپنی پوستین کس کے بھروسے ایک طرف چھوڑ دی تھی‘ اگر کوئی اسے لے جاتا تو؟

حضرت حبیبؒ نے فرمایا اس کے بھروسے پر جس نے آپ کو اس کی نگہبانی پر مقرر کردیا۔

(مخزن صفحہ نمبر240)

حضرت حسن بصریؒ ایک مرتبہ حضرت رابعہ بصری ؒ کے عبادت کدہ پر تشریف لائے اور ان سے درخواست کی کہ آپ نے جس طرح تکلیفوں کے ساتھ علوم حاصل کئے ان کا تذکرہ فرمائیں۔

فرماتی ہیں کہ میں نے چند ٹوپیاں بنی تھیں تاکہ انہیں فروخت کروں اور ان سے روزی کا سامان حاصل کروں‘ چنانچہ وہ میں نے دو درہم میں بیچ ڈالیں۔

پھر مجھے خوف ہوا کہ اگر میں دونوں درہموں کی حفاظت پر توجہ دوں گی تو میرا علم ضائع ہو جائے گا‘ چنانچہ میں نے ان درہموں سے روزی کا سامان حاصل کیا اور تحصیل علم میں مصروف ہوگئی۔ یوں میں اپنے آپ سے بے خبر ہو کر پوری توجہ سے علم حاصل کرتی رہی‘ یہاں تک کہ رب تعالیٰ نے مجھے علم میں عظیم الشان مرتبہ عطا فرمایا۔

(مخزن صفحہ نمبر250)

متعلقہ خبریں