Daily Mashriq

قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی کے عملی تقاضے

قبائلی اضلاع کی تعمیر وترقی کے عملی تقاضے

حکومت کی جانب سے قبائلی اضلاع کیلئے ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی لاگت کے دس سالہ منصوبے پر عوام کی تجاویز لینے کیلئے قبائلی اضلاع میں مشاورت اب شروع کرنے کا اعلان قبائلی اضلاع میں کسی فوری تبدیلی کا عندیہ نہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ قبائلی اضلاع کے معاملات کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار بنایا جارہا ہے ۔مشاورت کے عمل کی تکمیل میں موجودہ سال گزر جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کے ٹویٹر پیغام کے مطابق قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے سالانہ100ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے اور دس سال تک سالانہ100ارب روپے قبائلی اضلاع پر خرچ کئے جائیں گے۔دس سالہ منصوبے کے تحت شاہراہوں کی تعمیر و بحالی، توانائی، آبی وسائل کی ترقی، بلدیاتی خدمات اور شہری علاقوں کی ترقی پر 433 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ انسانی ترقی کے لئے 409 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جن میں تعلیم اور صحت کو ترجیح دی جائے گی۔251 ارب روپے کی رقم قبائلی اضلاع میں معاشی ترقی کے مواقع بڑھانے پر استعمال کئے جائیں گے ان میں زراعت ، آبپاشی، جنگلات، صنعت و حرفت اور کان کنی کے شعبے شامل ہیں۔134 ارب روپے کی رقم ان علاقوں میں خصوصی شعبہ جات میں بہتری پر خرچ کی جائے گی۔ منصوبے کے اس حصے میں اداروں کی تنظیم نو اور بہتری، وسائل کی فراہمی اور صلاحیت کار میں بہتری شامل ہیں۔وزیراعظم کے دس سالہ پروگرام کے خدوخال کیا سامنے آتے ہیں اور مشاورتی سال کے اختتام پر جمع ہونے والی تجاویز کا جائزہ لیکر منصوبہ بندی کرنے اور منصوبوں کی تیاری کے بعد اس پر عملدرآمدکی نوبت آنے تک اس حکومت کی مدت ہی شاید پوری ہوجائے جو تریاق از عراق آمدہ شود، مارگزیدہ مردہ شود کے مصداق ہوگا۔ تاخیری اعتراض دور ہونے کی صورت میں اور مشاورت کے ساتھ ساتھ عملدرآمد شروع ہوتو وزیراعظم کے اس پروگرام کونافع نہ قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ اس منصوبے کے حوالے سے خدشات کا اظہار اس لئے بھی بے وجہ نہیں کہ ہماری بیوروکریسی نظام اور طرز حکومت سبھی کے حوالے سے مشاہدہ اور تجربات یہی نتائج دیتے ہیں کہ کوئی بھی کام وقت پر اور منصوبے کے مطابق رواج نہیں۔ یہ صرف موجودہ حکومت کے اعلانات ہی کے بارے بد گمانی نہیں بلکہ اگر اعلانات اور وعدوں پر معاملات منحصر ہوئے تو گزشتہ ادوار حکومت میں قبائلی اضلاع سمیت ملک کے سارے پسماندہ علاقوںکے مسائل حل ہوچکے ہوتے اور وہ ترقیافتہ اضلاع اور شہروں کے ہم پلہ ہوتے۔ اعلانات خواہ سابق فاٹا کے بارے میںہوں یا بلوچستان کی پسماندگی اندرون سندھ وپنجاب کے عوام کی لاچارگی اور خیبرپختونخوا کے پسماندہ اضلاع کی ترقی جس پہلو اور جس حوالے سے ماضی میں ہونے والے دعوئوں کی تکرار کی باز گشت کو ذہنوں میں تازہ کریں تو دعوے اور وعدے خوشنما اور عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر سامنے آئیں گے ۔ قبائلی اضلاع کے عوام جس نظام اور طرز حکومت کا تجربہ رکھتے ہیں اس لئے ان کی مایوسی فطری امر ہے جس کا تقاضا ہے کہ حکومت ماضی کی بھول بھلیوں میں ایک مرتبہ پھر الجھنے کی بجائے زیادہ نہ سہی کم مستقل نہ سہی وقتی اور سطحی عملی اقدامات کا آغاز تو کرے تاکہ عوام کی آس بندھے اور ان کو امید کی کرن دکھائی دے۔ قبائلی اضلاع کے انضمام کا حقیقت پسندی سے جائزہ لیا جائے تو ابھی سوائے کاغذی اور زبانی طور پر اقدامات اور معاملات کے عملی طور پر تبدیلی کے کوئی آثار نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قبائلی اضلاع کو دوسرے اضلاع کے برابر لانے میں وقت لگے گا لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہ کیاجائے کہ ابھی قبائلی علاقہ جات صوبے میں پوری طرح ضم نہیں ہوئے۔ اسے انضمام کے عمل کے جاری ہونے سے تعبیر ضرور کیا جاسکتا ہے ۔ قبائلی اضلاع کی تعمیروترقی کیلئے سب سے ضروری چیز وسائل کی فراہمی ہے ابھی تک این ایف سی ایوارڈ کاتین فیصد حصہ دینے بارے کوئی عملی قدم نہیں اٹھ سکا ہے، بلدیاتی انتخابات کے بارے میں کوئی پیشرفت نہیں سول ججز کی تعیناتی کا تکلف اس طرح کیا گیا ہے کہ وہ ان اضلاع میں گئے بغیر مقدمات سنیں گے۔ عجیب وغریب اور سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ سارے صوبے میں متعلقہ اضلاع کے مختلف مقامات پر عدالتی عہدیداروں کے دفاتر اور نظام انصاف موجود ہے مگر قبائلی اضلاع میںبرعکس انتظام ہے جس کی بناء پر لوگوں کو حصول انصاف کیلئے اپنے ضلع کی بجائے دوسرے قریبی ضلع جانا پڑے گا۔ ایف سی آر کاخاتمہ تو ہوچکا مگر سول لاز کا نفاذ ابھی ہونا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز کی اہمیت کے اعتراف کے باوجود ضرورت اس امر کی ہے کہ قبائلی اضلاع میں بنیادی حکومت اساس نظام عدل سول لاز کا نفاذ بلدیاتی انتخابات وغیرہ وغیرہ قسم کے امور کو اولیت دی جائے اور ان اساس کی بنیاد پر وہاں کے عوام کے مسائل کے حل کی سعی کی جائے۔

متعلقہ خبریں